11 مئی کو تحریک انصاف کے دھرنے سے جمہوریت کی بساط لپٹے جانے کا خطرہ ہے: اے این پی

03 مئی 2014

اسلام آباد (آئی این پی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے چیئرمین  سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ 11 مئی کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے دھرنے سے جمہوریت کی بساط لپٹ جانے کا خطرہ ہے، مگر ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ جماعت اسلامی نے طالبان اور فوج کے مابین براہ راست مذاکرات کی تجویز دے کر جمہوری حکومت کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ خیبرپی کے کے ایک وزیر اور مشیر کو کرپشن پر فارغ کیا گیا ہے، وزیر اعظم نواز شریف اگر پارلیمنٹ میں آنا شروع کر دیں تو سیاسی تنہائی سے نکل آئیں گے، بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی وزارت پانی و بجلی سے تمام سرکاری و پرائیویٹ نادہندگان کی فہرست طلب کر لی ہے۔ وہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں جب صوبہ خیبرپی کے میں عوامی نیشنل پارٹی کو انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا تو اس وقت بھی عمران خان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی تھی کہ اس دھاندلی کے خلاف بولتے۔ زاہد خان نے کہا کہ حلقہ این اے 34 سے تحریک انصاف کا امیدوار بشیر خان جیت چکا تھا مگر دھاندلی کے ذریعے جماعت اسلامی کے امیدوار صاحبزادہ طارق اللہ کو جتوایا گیا، پھر بشیر خان نے عدالت میں مقدمہ کیا اور جب وہ مقدمہ جیت رہا تھا تو عمران خان نے انہیں مقدمہ واپس لینے کے لئے دبائو ڈالا، لوئر دیر اور اپر دیر میں جماعت اسلامی دھاندلی کے زور پر جیتی ہے حالانکہ وہاں 90ہزار بیلٹ پیپر پکڑے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم نہیں بلکہ حکیم اللہ محسود تھا۔ صوبہ خیبرپی کے تحریک انصاف کو اس بندر بانٹ کے تحت دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف کو کس نے بنایا ہے، تحریک انصاف والے حلوہ پوڑی کھانے والے لوگ ہیں یہ صرف کسی کے کندھوں پر سوار ہو کر ہی دھرنے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جتنی کرپشن خیبرپی کے میں ہے اتنی کہیں پر بھی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ بجلی خیبرپی کے پیدا کرتا ہے جبکہ خیبرپی کے کے لئے بجلی کے نرخوں میں 7 سے 8 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے صوبائی حکومت سو رہی ہے۔