لاہور، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا آپریشن، کالعدم تنظیم کے 2 کارندوں سمیت 48 گرفتار

03 مئی 2014

لاہور (نامہ نگار + سپیشل رپورٹر) پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 2کارندوں سمیت 48 افراد کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کردی جبکہ سرچ آپریشن کے دوران بلاجواز ہراساں پر پٹھانوں کی بڑی تعداد نے داتا دربار کے باہر پولیس کیخلاف احتجاج کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتار افراد میں سے اکثریت پٹھانوں کی ہے۔ جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سکیورٹی بھی سخت کردی گئی۔ پولیس نے کرایہ کے گھروں، پلازوں، فلیٹس کے مکینوں کے بھی کوائف اکٹھے کئے۔ پولیس حکام کے مطابق سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر بادامی باغ کے علاقے میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور پولیس نے کالعدم تحریک طالبان کے 2 کارندوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ دونوں کے نام ظاہر نہیں کئے گئے۔ وہ اہم شخصیات اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ دریں اثناء محکمہ داخلہ پنجاب نے دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اہم سیاسی و دینی شخصیات، قومی املاک اور مزارات کی حفاظت کیلئے ریڈ الرٹ جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت سے ایک روز قبل یکم مئی کو پولیس فورس کی جانب سے ایک گاڑی سے اسلحہ کی ایک بڑی کھیپ پکڑے جانے اور دوسرے روز لاہور کے ایک معروف و مصروف ترین علاقہ سے باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک کالعدم تنظیم کے دو دہشت گردوں کی گرفتاری کے واقعہ کے تناظر میں ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی کی جانب سے ایک مراسلہ پنجاب پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں کے علاوہ سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور سمیت دیگر کو جاری کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ پکڑے جانے والے دہشت گردوں سے کی جانیوالی ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ  وہ اہم سیاسی و دینی شخصیات کو نشانہ بنانے کے علاوہ قومی املاک کو بھی ٹارگٹ بنانے کے خواہاں تھے۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ دینی و سیاسی شخصیات بھی غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور غیر معروف افراد سے ملاقاتوں میں بھی احتیاط برتیں۔ مراسلہ میں سول سیکرٹریٹ، پی اینڈ ڈی، اولڈ پی اینڈ ڈی، ایوان اوقاف، ایوان شاہ چراغ، ایوان صوفیاء علماء اکیڈمی بادشاہی مسجد، واپڈا ہائوس، سرکاری افسروں کی رہائش گاہوں کے حامل علاقے جی او آر ون، جی او آر ٹو، جی او آر تھری اور جی او آر فور، پنجاب اسمبلی، گورنر ہائوس، ڈائریکٹوریٹ جنرل صحت، متروکہ وقف املاک بورڈ عمارت، صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب، ضلع کچہری لاہور، سیشن کورٹ لاہو، ماڈل ٹائون کچہری لاہور، کینٹ کچہری لاہور، لاہور ہائی کورٹ، سپریم کورٹ رجسٹری، جنرل پوسٹ آفس، پی ایم جی آفس ، مسلم لیگ ہائوس ڈیوس روڈ، مسلم لیگ ن آفس ماڈل ٹائون، جاتی عمرہ  رائے ونڈ، ایوان وزیراعلیٰ، وزیراعلیٰ دفاتر و دیگر علاقوں بالخصوص لاہور میں موجود متعدد مزارات جن میں دربار داتا گنج بخشؒ، دربار حضرت پیر مکیؒ،  دربار حضرت بی بی پاکدامناںؒ، دربار حضرت شاہ جمالؒ، دربار حضرت شاہ کمالؒ دربار حضرت عنایت شاہ قادریؒ کے ساتھ ساتھ دربار حضرت بابا فرید الدین  مسعود گنج شکرؒ اور دیگر شامل ہیں۔