غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا نوٹس، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکومت، واپڈا سے تحریری جواب طلب کر لیا

03 مئی 2014

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف دائر رٹ درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت، وزارت پانی و بجلی اور واپڈا حکام سے 8 مئی تک تحریری جواب طلب کرلیا۔ جوڈیشل ایکٹیوازم پینل کی طرف سے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سامنے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے اقرار کیا تھا کہ 6 گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ شہری اور دیہی علاقوں میں نہیں ہوگی۔ ان بیانات کے خلاف 16 سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ لوگ احتجاج کررہے ہیں، حکومت کاغذوں پر پاور پراجیکٹ تو بنا رہی ہے مگر بجلی کے بحران کو کم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ صرف ایم او یو دستخط کرنے پر وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ سرکلر ڈیٹ کلیئر نہیں کیا گیا اگر پیداواری کمپنیوں کو ادائیگی کردی جاتی تو کبھی بھی بجلی کا بحران نہ ہوتا، اس لئے وفاقی حکومت نے ڈسٹری بیوشن کمپنی کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ 16 سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرے۔ حکومت نے پاور پراجیکٹ بنانے پر جتنا پیسہ خرچ کیا، وہ آئین کے آرٹیکل 91 کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ کراچی الیکٹرسٹی کمپنی 650 کو زیادہ میگاواٹ کی فراہمی بند کردی جائے۔ 480 ملین روپے کا آڈٹ کردیا جائے اور فالتو رقم عوام کو واپس دلوائی جائے۔