وزیراعظم ایران کا دورہ بھی کریں!

03 مئی 2014

وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف آجکل برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم کا دورہ برطانیہ کئی اعتبار سے اہم بھی ہے اور کامیاب بھی۔ انہوں نے برطانیہ کے ساتھ تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور توانائی کے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں بلکہ برطانوی وزیراعظم کا بیان پاکستان کیلئے بہت حوصلہ افزا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ’’پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کی ترقی پوری دنیا کے مفاد میں ہے‘‘۔ برطانیہ کیساتھ پاکستان کے بہت دیرینہ تعلقات ہیں جو کسی بھی دور حکومت میں تعطل کا شکار نہیں ہوئے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت دہشت گردی اور توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے۔ اس کیلئے میاں نواز شریف نے طالبان سے امن مذاکرات کا جو حوصلہ افزا سلسلہ شروع کیا ہے اسے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی بہت پذیرائی ملی ہے۔ اگر طالبان سے مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو امید ہے کہ ملک میں لگی ہوئی دہشت گردی کی آگ پر قابو پا لیا جائیگا اور امن و امان کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اسکی امن و امان کی صورتحال پر ہوتا ہے۔ جب کسی کی جان اور مال ہی محفوظ نہ ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاری تو درکنار مقامی صنعتکار اور کاروباری حضرات بھی سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں۔
ملک کی ترقی میں دوسری اہم ترین چیز توانائی میں خود کفالت ہے اور اس وقت ہم جس قسم کے توانائی کے بحران سے دوچار ہیں وہاں تو گھر کا چولہا جلائے رکھنا اور گھروں کو روشن رکھنا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، سی این جی سٹیشنز پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں، بارہ بارہ، سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی قسم کی ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اس سلسلے میں کافی سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں اور ترکی، چین، جرمنی وغیرہ کے ساتھ مختلف النوع توانائی کے حصول کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ وزیراعظم میاں نواز شریف کو پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کی طرف بھی توجہ دینا چاہئے اور پاک ایران تعلقات کو ازسر نو مستحکم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ ایران ہمارا بہت قدیم اور بااعتماد دوست ملک ہے۔ ایران کیساتھ پاکستان کے مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ان تعلقات میں سردمہری سی در آئی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کسی حد تک کشیدہ ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ میاں نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں امریکی صدر بل کلنٹن کی دھمکیوں کو بالائے طاق رکھ کر پانچ ایٹمی دھماکے کرکے انتہائی جرأت اور وطن پرستی کا ثبوت دیا تو آج اگر امریکہ کو پاک ایران گیس منصوبے پر تحفظات ہیں تو وزیراعظم کو اسی دلیری اور جرات اور عوام دوستی کے جذبے کے ساتھ امریکی اعتراضات کو پس پشت ڈال کر ایران کا دورہ کرنا چاہئے اور گیس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کرنا چاہئے کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان میں گیس کا بحران حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ امریکی ناراضگی کے ڈر سے یہ عظیم منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائے اور عوام کے خون پسینے کی کمائی ضائع ہو جائے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شروع ہونیوالا یہ عظیم منصوبہ اگر مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں مکمل ہو جاتا ہے اور اسکے ثمرات ملک اور عوام تک پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ملے گا۔علاوہ ازیں اگر وزیراعظم میاں نواز شریف تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر کالاباغ ڈیم پر بھی کام شروع کروا دیتے ہیں تو یہ ان کا ملک و قوم پر احسان عظیم ہو گا۔ کالاباغ ڈیم پاکستان کے بہت سے بحرانوں کا واحد حل ہے۔ برسات میں پاکستان کے ہزاروں دیہات جو سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں، ان سیلابوں پر قابو پانے میں بھی کالاباغ ڈیم مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...