آلو بھی حکومت کیلئے چیلنج

03 مئی 2014

 آلو کی قیمت کا 30 سے 70 روپے کلو ہو جانا غریبوں کے سر چکرانے کو کافی ہے۔ ٹماٹر نے بھی کالا کلو سیب سے مقابلہ کر رکھا ہے ذخیرہ میں گیارہ لاکھ ٹن آلو پڑے ہیں۔ صارفین بیچارے آڑھتیوں، تھوک فروشوں، خوردہ فروشوں، منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور سٹے بازوں کے نرغے میں آئے ہوئے ہیں۔ اصل حکمرانی تو ان لوگوں کی ہے چینی پر تو سٹہ ہوتا تھا اب آلو پر بھی سٹہ ہو رہا ہے سٹے باز، باز نہ آئے تو بھارت سے ٹیکس فری آلو درآمد کئے جائینگے۔ رمضان المبارک میں آٹھ ہفتے باقی ہیں سٹے بازوں کے وارے نیارے ہونیوالے ہیں فارن کرنسی ڈیلرز سے زیادہ تو پھل فروش کمائیں گے تاجروں کا کہنا ہے آلو بھی سمگل ہو کر افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں تک جا رہا ہے ایران افغانستان روس اور عراق میں بھی آلو کی فصل مانگ سے کم ہوئی ہے آلو کے برآمدی تاجر بھی پریشان ہیں مشرق بعید مشرق وسطی اور وسطی ایشیا آلو برآمد کرنے کے آرڈر کیسے پورے ہونگے کسان بھارت سے آلو کی درآمد کے سخت مخالف ہیں آلو کی پیداواری لاگت 35 سے 38 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ حکومت 20 روپے سبسڈی دیگی تو آلو سستا بکنا شروع ہو گا رمضان المبارک میں آلو کی قیمت 90 روپے کلو تک جانے کی پیش گوئی کر دی گئی ہے۔ اس طرح آلو کم و بیش ایک ڈالر فی کلو کے حساب سے بیچا جائے گا رمضان میں بھی آلو کا استعمال بے تحاشا ہو تا ہے۔ سموسے کی قیمت بھی 50 روپے تک چلی جائیگی۔ عوام کو ان دنوں بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے مسلسل 3، 3 گھنٹے بجلی بند ہونا معمول بنتا جا رہا ہے شہریوں میں 14 جبکہ دیہات میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ بجلی کی طلب 13850 جب کہ پیداوار 11250 میگا واٹ ہے۔ شریف حکومت کے گیارہ ماہ پورے ہو رہے ہیں ایک سال پورے ہونے پر حکومت اپنا دوسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کی نوید مل گئی ہے 11 ماہ میں حکومت کی کامیابی ڈالر کا 109 سے 98 روپے پر آنا ہے۔ ہائیڈل پاور منصوبوں سے لے کر کوئلے اور سورج سے توانائی حاصل کرنے کے کئی منصوبوں پر دستخط کرنا ہے۔ ایم او یوز دستخط کرنے کا ریکارڈ قائم ہوا ہے ملک کے بڑے مسائل پہلے کی طرح آج بھی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی میں ہر دور حکومت میں یہی بات سنی گئی کہ ملک کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے آٹے، چینی، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ حکومت کے سر پر 500 ارب روپے سالانہ کا فیڈر پینے والے 70 سرکاری اداروں کی نجی کاری کا بھوت سوار ہے اس نے اس شوروغوغا سے کان بند کر رکھے ہیں کہ نج کاری سے بیروزگاری پھیلے گی پاکستان سٹیل، پی آئی اے، آئل اینڈ گیس اور پاکستان پٹرولیم نج کاری فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں نجکاری سے پہلے پاکستان سٹیل کے منہ سے 18.5 ارب روپے کے بیل آئوٹ پیکیج کا فیڈر لگایا گیا ہے۔ دسمبر 2000 میں شریف فیملی نے سعودی عرب میں ایک بڑی سٹیل مل کی بنیاد رکھی جسے حسین نواز شریف کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں بھٹو نے اپنے وقت کی بڑی سٹیل مل اتفاق فائونڈری کو نیشنلائز کیا تھا۔ ضیا دور میں اس فائونڈری کو واپس شریف فیملی کے حوالے کر دیا گیا تھا سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان سٹیل مل کو کامیابی سے چلانے کیلئے کوئی دوسرا حسین نواز شریف نہیں مل سکتا؟ ڈالروں کی خبریں سن کر غریب کا پیٹ تو نہیں بھر رہا غریبوں کی واحد سبزی آلو ہے وزیر خزانہ نے 10 روز میں آلو سستا کرنے کی جو وارننگ دی تھی اسکے الٹ اثرات برآمد ہوئے ہیں آلو کی قیمت میں مزید 10 روپے کلو کا اضافہ ہو گیا ہے خادم اعلی پنجاب کی سستی روٹی سکیم کو کس نے ناکام بنایا تھا کیا ایسی سکیم کا احیا ممکن نہیں؟ بحریہ کے دسترخوان کتنے غریبوں کا پیٹ بھر سکتے ہیں تھر کیلئے کتنا شور اٹھا لیکن مٹھی کے ہسپتالوں میں آج بھی بھوک اور ننگ کے مارے بیماریوں کے ڈسے بچے بوڑھے سبھی درد سے کراہ رہے ہیں شاید انکے نصیب میں نہیں لکھا ہے۔