شریف برادران کی سیاسی حکمت عملی

03 مئی 2014

 موجودہ حالات میں ایک طرف جہاں طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں دوسری طرف دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے بھی حکومت نے جمہوری عمل کی بقاء کیلئے جمہوری نظام کو رواں دواں رکھنے کیلئے بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس طرح وزیراعظم میاں نواز شریف نے نہایت سلیقے کے ساتھ اندرون ملک ان عناصر کو جو جمہوری عمل اور جمہوریت پہ یقین رکھتے ہیں اپنے ساتھ ملا کر جس دانائی کا ثبوت دیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔میاں نواز شریف نے جب سے حکومت سنبھالی ہے۔اس وقت سے آج تک انہیں مسلسل اندرون ملک جن مسائل کا سامنا ہے ان میں بجلی اور گیس کے بحران کے علاوہ بد امنی لا قانونیت فرقہ وارانہ وحشت گردی سرفہرست ہیں یہ قائد مسلم لیگ کی انتھک کوششوں کا کمال ہے کہ انہوں نے نہایت تحمل اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور اپنی متحرک حکومتی ٹیم یعنی وزراء کے ساتھ مل کر سہ طرفہ سٹرٹیجی پر عمل کرتے ہوئے اپنے تینوں اہداف کی طرف کامیابی سے پیش قدمی جاری رکھی۔ پے درپے غیر ملکی دوروں پہ اعتراض کرنے والے بھی اب خاموش ہوگئے کیونکہ ان کی بدولت جس طرح توانائی کے شعبہ میںغیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے اس کے نتائج 3 سے 4 سال کے دوران ظاہر ہوں گے اور ملک کو اس بد ترین بجلی اور گیس کے بحران سے نجات ملے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی اس ضمن میں جو عمدہ کردارادا کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ شریف برادران کے ذاتی لعقات کی بدولت میں آج چین، ترکی اور سعودی عرب کھل کر پاکستانی معیشت کی بہتری کیلئے نواز شریف کی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔
 اندرون ملک بد امنی اور لاقانونیت کی بڑی وجہ بیروزگاری اور مہنگائی کے ساتھ طالبان کی طرف سے بم دھماکوں اور خودکش بھی ہیں جو مشرف دور کی پالیسیوں کی سوغات ہیں۔ نواز شریف حکومت کا دینی جماعتوں کی توسط سے انہیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر لے کر آئی ہے اور امید ہے کہ یہ جن بھی بہت جلد واپس بوتل میں بند ہوجائے گا کیونکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور اس سلسلہ میں حکومت کو مسلح افواج کی مکمل حمایت اور تائید بھی حاصل ہے۔مسلح افواج کی طرف سے جمہوری حکومت کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اس مسئلے کا حل تلاش کریں ورنہ بصورت دیگر حکومت جو بھی حکم دے گی اس کے مطابق مسلح افواج عمل کرے گی۔
 یہ میاں نواز شریف کی کامیابی سیاسی سوچ بوجھ کا نتیجہ ہی ہے کہ آج اپوزیشن جماعتیں اور مسلح افواج بھی اہم قول و امور یہ حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جو لوگ ملک میں افراتفری اور اداروں میں تصادم کی خواہش رکھتے ہیں انہیں مسلسل ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریف برادران کو اس وقت عوام کی ہی نہیں تمام اہم اپوزیشن جماعتوں اور سکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے جس سے اندرون ملک حالات بھی بہتری کی طرف چل پڑے ہیں اور عوام کو بھی ریلیف ملنا شروع ہوگیا ہے۔اگر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کی حکومت اس طرح کرتی رہی تو بہت جلد میاں برادران اپنے انتخابی وعدے کے مطابق ایک نئے خوشحال پاکستان کو تشکیل دیں گے۔ جہاں ہر طرف امن، خوشحالی اور ترقی کا راج ہوگا۔
 اس ضمن میں میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوشوں کا تذکرہ بجا نہیں ہوگا جو اپنے عزم اور حوصلے سے پنجاب میں تبدیلی کا آغاز کرچکے ہیں اور آج پنجاب پورے پاکستان کیلئے ترقی اور خوشحالی کا سجل بن چکا ہے اور باقی تین صوبوں کے عوام بھی دعا کرتے ہیں کہ انہیں شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ نصیب ہوتا کہ ان صوبوں میں بھی ترقی اور خوشحالی کی راہیں کھلیں۔ آمین ثمہ آمین