تم کس دیس گئے ہو ساجن یادیں تیری زندہ ہیں

03 مئی 2014

حرمت رسولؐ کا ذکر آتا تو رگوں میں دوڑنے والا خون تیز رفتار ہو جاتا اور آواز رندھ جایا کرتی تھی۔ خلا میں پھٹی پھٹی آنکھیں نمناک ہوتی تھیں اور پھر آنسوئوں کا خاموش مگر تیز رفتار سفر پوری داڑھی کو بھگو دیتا تھا۔ یہ ایک شخص کی باطنی کیفیات کے اظہار کا بیان ہے۔ یہ شخص بہت سادہ وجود تھا۔ ظاہر بین نگاہوں میں ایک سادہ روش مسجد کا خاموش طبیعت امام نظر آتا تھا لیکن چشمے کے پار نگاہوں کی چمک اسے کچھ اور جاننے پر مجبور کرتی تھی۔ اس فرد مطمئن میں عاجزی اور بے نیازی کا عنصر غالب تھا کیونکہ اس کیلئے ضروری تھا کہ اپنی باطنی نعمت کی حفاظت کیلئے ہمہ تن بیدار ہو کر اپنے عمومی ماحول سے بے نیاز ہو جائے اور اسکی عاجزی ہمہ وقت دربار رسالتؐ پناہ کے تصور کے سبب اسے بلند وقار کئے رکھتی تھی۔ یہ بلند وقار شخص عرف نظر میں مولانا لیکن باطن میں سالار سپاہ حرمت مصطفیؐ تھا۔ عرف عام میں یہ صاحب مسمی عبدالستار غوری ہیں اب ان کا ٹھکانہ عالم برزخ ہے۔ اور وہ عالم برزخ جہاں پر رسولؐ آفریں کے دائمی انوار رحمت ہمہ وقت برزخی حیات کو جنت عدن کا نقشہ بنائے رکھتے ہیں۔ مزاج عشق رسولؐ کے ہزار رنگ ہیں۔ کوتاہ بین نظروں کو وہ رنگ نظر نہیں آتے۔ مزاج عشق میں بے نیازی اور نجانے کتنے کتنے رنگ غالب ہیں مخفی ہیں۔ مزاج تو بڑی بات ہے عنادین عشق کی تفہیم بھی بڑی ہی پیچیدہ ہے۔ ہاں ایک بات عام اور مشترک ہے کہ عاشق محبوب کی حکایت جان نواز کو ہر جگہ تلاش کرتا ہے۔…؎
جس جا بھی تیرے قرب کے آثار ملے ہیں
معمور تجلی در و دیوار ملے ہیں
عبدالستار غوری نے اپنے محبوب رسولؐ کو تلاش کرتے کرتے اپنے علمی سفر کی انتہا کتب الہامیہ پر ختم کر دیا۔ تحقیق کا خیمہ نصب کیا اور پھر زندگی بھر کا اعتکاف طے کر لیا ۔عبدالستار غوری نے علمی دنیا میں ثبات عشق کا جو جھنڈا گاڑا ہے۔ وہ دینی وعلمی فتوحات کا قصہ نادرہ ہے۔ عبدالستار غوری نے انجیل کا مطالعہ کرتے ہوئے وہ لولوئے تابدار برآمد کئے ہیں جو عجائبات ایمان کی رونق ہیں۔ ایک کمال درجہ تحقیق کا مظہر کتاب تصنیف کر ڈالی۔ دنیائے طباعت واشاعت میں اب یہ نام بہت ہی مؤقر ہو گیا ہے۔
"MOHAMMAD FORE TOLDE IN BIBLE"
کتاب کا انداز تحریر دل کو لبھاتا ہے۔ انگریزی کے ادبی جملے ذوق مطالعہ کو شیریں فکر کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ غوری مرحوم شیکسپیئر کی زبان کی لذت سے اپنے علمی ذواق کو جلا بخشتے تھے۔ انگریزوں کو سمجھنے اور سمجھانے کیلئے انکے ابوالادب کی زبان کو اپنے ذخیرہ علم میں لونڈی کی طرح باندھ کر رکھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ حضورؐ کونین پناہ کی نبوت کے اثبات واضح کیلئے علمی تقاضہ ہے کہ انبیاکرامؑ کی حیات وکتاب سے رابطہ کیا جائے …
دنیائے عیسائیت اور یہودی متعصب جاہل عقل داروں کا یہ خطرناک مؤقف کہ حضرت ابراہیمؑ نے قربانی کیلئے ذبیحہ حضرت اسحاقؑ کو بنایا تھا حضرت اسماعیلؑ کو نہیں بنایا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا تاریخی مغالطہ نہیں، حربہ ہے۔ فریب ہے اور انبیاؑ و انسانیت دشمنی کا غیر تحقیقی اور متعصبانہ رویہ ہے۔ یہاں پر مصطفائی سیاہی کو خدا وحدہ لاشریک کو علم مصطفیؐ کی روشنی کی کرنیں نصب ہوتیں تو عبدالستار غوری نے …
"THE ONLY SON SACRIFIC ISAAC OR ISMEL"
جیسی عظیم تحقیقی اور علمی تاریخی کتاب تصنیف کی جو ایمانی تاریخ اور حقائق ثابتہ کی لاجواب کتاب ہے۔ خالق لم یزل نے اس شخص مرحوم کو علم کی روشنی کے کتنے جہانوں کی سیر کرائی تھی؟ یہ حقیقت نہایت جاہل رشک ہے۔ جرمن کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔ عبرانی کو بطور خاص برائے خدمت تحقیق سیکھا تھا۔ فرانسیسی زبان سے کامل آشنائی تھی۔ عربی و فارسی کا ذوق تو اہل دل اور اہل دانش کی مجالس خیر سے حاصل کیا تھا۔ تقابل ادیان ان کا ذوقی موضوع تحقیق تھا۔ تحقیق کی تھی کہ انجیل کے اولین نسخے یونانی زبان میں تھے۔ انبیا کرامؑ کی روزمرہ کی زبانوں کی تحقیق بھی خوب احسن طریقے سے کی تھی۔ حضرت مسیحؑ کی روزمرہ زبان کے بارے میں تحقیق کی تھی کہ آرامی زبان بولا کرتے تھے۔
سیدہ ہاجرہؑ کی ایک قابل مطالعہ سوانح عمری تحریر فرمائی ہے۔ ہمہ وقت توحید و رسالت کے نغموں سے اپنے باطن کو سازگار رکھتے تھے‘ اس لئے اپنے باطن کو کسی بھی لمحے رخصت نہیں دیتے تھے ہاں یہی شوریدہ سری تھی جو احقاق حق پر ہر لمحہ حیات پر آمادہ عمل رکھتی تھی۔ قاضی سلمان منصور پوری کی مشہور عالم کتاب الاسماء الحسنیٰ کا انگریزی ترجمہ وتدوین جدید کر رہے تھے کہ رحمت حق نے انہیں اپنے جوار میں بلا لیا۔ 86 سال کی عمر میں انہوں نے سفر برزخ کیلئے متوکلانہ بستر باندھ لیا۔
میرے ایک مخلص، دیندار اور وفا پیشہ دوست قاری احمد یار بھی اپنے وطن اصلی کو مراجعت کر گئے اور ہم پھر انا للہ و انا الیہ راجعون، پڑھتے رہ گئے۔ مولانا قاری احمد یار منڈی بہائوالدین کے باسی تھے۔ حصول تعلیم کیلئے لاہور آئے۔ امام القرا قاری عبدالمالک لکھنؤی کے خرمن فن سے خوشہ چینی کی اور پھر انوار قرآن کی کرنیں بکھیرنے پر مامور ہو گئے۔ غربت افلاس انکا لباس معاشرتی بن گئی تھی لیکن زبان پر سوال کو لانا نہایت مکروہ سمجھتے تھے۔ محکمہ انہار میں جونیئر کلرک تھے۔ رزق حلال کو دین کی بنیاد مانتے تھے۔ لوگوں کو راحت رسانی کیلئے روحانی علاج کا فیضان جاری کیا ہوا تھا۔ حضور مخدوم امم سیدی داتا گنج بخشؒ کے مزار اقدس پر طویل مراقبے کیا کرتے تھے اور کہنے تھے کہ نقشبندی سلوک میں مراقبے سے کشف بہت جلد کھلتا ہے اور کسی بھی نئی کتاب کا پتہ چلتا تو اسکے حصول کیلئے طویل سفر کرتے تھے۔ ایک بڑی لائبریری بنائی تھی۔ اللہ تعالی انکے اعمال کو صدقہ جاریہ میں بدل دے۔ (آمین)
وے صورتیں ایسی کس دیس بستاں اس
کہ دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستاں ہیں

میرے دیس کے 200ارب ڈالر

نشہ کرنا برائی ، گناہ اور قابلِ تعزیر و قابلِ دست اندازیٔ پولیس جرم ہے خواہ ...

لہو تیری رگوں میں

اب تک ہے رواں گرچہ لہو تیری رگوں میںنے گرمیِ افکار‘ نہ اندیشۂ بے باکروشن ...