بشریٰ رحمن… ’’بلبل پاکستان‘‘ سے ’’دختر پاکستان

03 مئی 2014

ایک خاتون کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ وہ مائیک پر بولنے لگیں … نقرئی آواز‘ دل کش لہجہ‘ موزوں الفاظ‘ معلومات اور استدلال سب کچھ ہی تھا۔ ان خاتون کے الفاظ میں محض ’’لفاظی‘‘ نہیں بلکہ دلائل تھے اور یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ یہ خاتون سیاستدان ‘ مقررہ ‘ ادیبہ اور شاعرہ تھی اور یہ بشریٰ تھیں۔ یہ تقریب ’’نظریہ پاکستان ٹرسٹ‘‘ لاہور کی تقریب تھی۔ اس تقریب کے اختتام پر بشریٰ رحمن نے مجھے تقریب میں شرکت کی دعوت دے دی تھی جس میں انہیں ’’دختر پاکستان‘‘ کے خطاب سے نوازا جانا تھا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ایوارڈ دینے کی تقریبات بھی ہوتی رہتی ہیں اور پھر ہر برس حکومتی سطح پر ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ بھی دیا جاتا ہے … مگر پھر سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ ان اعزازات اور ایوارڈ کی "Credibility" کیا ہے ؟ اور پھر یہ اعزازات اور ایوارڈز دینے والے کون ہیں ؟ بشریٰ رحمن خوش قسمت ہیں کہ ’’بلبل پاکستان‘‘ سے ’’دختر پاکستان‘‘ بنا دی گئی ہیں۔ بشریٰ رحمن کے ’’جمال‘‘ کو دختر پاکستان ہونے کا جلال بخش دیا گیا۔ ڈاکٹر مجید نظامی کا بس چلے تو ہر خوش جمال خاتون کو ’’پر جلال‘‘ بھی بنا دیں اور دراصل ’’مرد اجارہ دار معاشرے‘‘ کیلئے شکوہ کناں عورتوں کی جائے پناہ بھی یہی ہے۔ ڈا کٹر مجید نظامی کو حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال کی ’’روحانی اولاد‘‘ ہونے کا خطاب ویسے نہیں دیا گیا … ڈاکٹر مجید نظامی کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ اُس دن میں جب لاہور ایک ہوٹل کے ہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں پہنچی تو بشریٰ رحمن کو ’’دختر پاکستان‘‘ کے خطاب سے نواز کر گولڈ میڈل پہنایا جا چکا تھا۔ دراصل اس ہوٹل تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا اور اہلیان لاہور سے راستہ پوچھیں تو ایک تو ان کا راستہ بتانے کا انداز بڑا دلچسپ ہوتا ہے‘ ہر کوئی ہاتھ کے اشارے سے بتاتا ہے کہ یہاں سے ’’کھبے‘‘ فیر ’’سجے‘‘اور تین کلو میٹر کے بعد ’’فیر کھبے سجے‘‘ اور ہمارے جیسے دوسرے شہر سے آئے ہوئے دائیں بائیں کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر دو تین لوگوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کر لیں تو پھر لاہور کی رش والی ٹریفک میں ہر ایک کا اپنا اپنا ’’شارٹ کٹ‘‘ ہے لہذا آپکے سامنے بے شمار راستے کھلتے چلے جاتے ہیں مگر منزل گم ہو جاتی ہے۔ تقریب میں داخل ہوتے ہی سٹیج پر بیٹھی شخصیات پر نظر پڑی۔ ڈاکٹر مجید نظامی سفید اجلے لباس میں تھے جبکہ ان کے ہمراہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق ‘ ڈاکٹر پروین‘ جسٹس آفتاب فرخ اور ’’دختر پاکستان‘‘ بشریٰ رحمن ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس تقریب میں ‘ میں بشریٰ کی سہیلی کی حیثیت سے شریک ہوئی تھی۔عورتیں مردوں سے زیادہ خوش نصیب ہیں کہ انکے درمیان ’’دوست‘‘ کا نہیں ’’سہیلی‘‘ کا رشتہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی عورتیں ایک دوسرے کو ’’دوست‘‘ بنانے کی بجائے ’’سہیلی‘‘ بنا لیں تو ایک عالمی قسم کا ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والا شکوہ بھی دور ہو سکتا ہے۔ میں بشریٰ کی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے اندر اترنے والے خوشی اور دکھ کے ایک ساتھ اترنے والے موسم کو محسوس کر سکتی تھی …دختر پاکستان کا خطاب حاصل کرنے کے اس مرحلے تک بشریٰ نے نہ جانے کتنی بار دکھوں کی وہ چادر اوڑھی ہو گی کہ جس کے کونے بشریٰ کے اشکوں کی خوشبو سے معطر ہوئے ہونگے اور دکھ کے یہ منظر عورتیں سب سے چھپا کر رکھتی ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ عورت دکھ ہنس کر برداشت کر لیتی ہے مگر پذیرائی اور محبت بھرے لمحات میں اس کا دل پانی پانی ہونے لگتا ہے۔ لیکن اس حیات میں وہ شکر ادا کریں کہ ’’بلبل پاکستان‘‘ سے ’’دختر پاکستان‘‘ بنا دی گئیں ورنہ ماضی کے قصوں کہانیوں میں عورت کو فقط ہیر‘ سسی‘ لیلیٰ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ ایسی ہیر‘ سسی‘ لیلیٰ جو کہ صرف محبت اور عشق کا استعارہ ہوتی ہے اور تبھی معاشرے میں عورت کو ’’محبوبہ‘‘ بنانے سے آگے کی بات کو سوچا نہیں گیا اور ڈاکٹر مجید نظامی ہیں کہ جنہوں نے قائد اعظم کی خوبصورت‘ نازک اندام ہمشیرہ کو ’’مادر ملت‘‘ کا خطاب دے کردور آمریت میں ہر پاکستانی مرد اور عورت کی ماں بنا دیا تھا اور پھر ہر اٹھنے والی پتھر آنکھ کو ’’مادر ملت‘‘ کا خطاب دے کر احترام کی اور عزت کی ایک چادر تان دی تھی۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے بشریٰ رحمن کے گرد احترام اور عزت کی وہی چادر تان دی ہے ڈاکٹر اجمل نیازی نے تقریب میں ناسازی طبع کی وجہ سے شرکت نہیں کی مگر کالم لکھ کر وہ فرض ادا کر دیا جو فرض وہ بغیر کسی منافقت کے عورتوں کے علم و فن کو تسلیم کرنے کی عادت کی وجہ سے کرتے چلے آئیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے بڑی خوبصورتی سے کلام کرتے ہوئے پوچھا ’’ہر عورت بشریٰ رحمن بن جائے تو ؟ مگر کیا وہ ایسا کر سکتی ہے ؟ … تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر عورت اتنی خوش کلام نہیں کہ ’’بلبل پاکستان‘‘ بن سکتی مگر اب دختر پاکستان کا خطاب حاصل کرنے کے بعد ہر عورت بشریٰ رحمن بن سکتی ہے کیونکہ یہ اعزاز انہیں ڈاکٹر مجید نظامی نے دیا ہے ۔ بشریٰ رحمن کی دختر پاکستان کا ایوارڈ ڈاکٹر مجید نظامی نے دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ تقریب ایوارڈ دینے کی تقریب سے بڑھ کر سادہ مگر پروقار تھی۔ تقریب سے حکیم سعید کی صاحبزادی سعدیہ راشد آصف بھلّی ‘ اثر چوہان اور دیگر نے بھی خطاب کیا مگر جسٹس آفتاب فرخ نے کمال کر دیا۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے کا اعزاز تو ان کو حاصل ہے۔ سپورٹس مین بھی رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق انہیں سائیکلنگ کا بھی شوق تھا۔ نثر بھی لکھتے ہیں مگر یہ ہلکے پھلکے انداز کا خوبصورت مضمون جو انہوں نے اُس دن پڑھا کہ تقریب میں روشنی سی بکھر گئی اور وہ بوجھل پن دور ہو گیا جو تقریبات میں بنا دیا جاتا ہے۔ اسی لئے میں نے اپنی تقریر میں بشریٰ رحمن کو دختر پاکستان کا خطاب ملنے پر مبارکباد دینے اور لفظوں میں محبت کے پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔۔ میرے یہ اشعار بشریٰ رحمن کی نذر ہیں…؎
’’یہی اعزاز ہے تیرا کہ تو نے سنگ ریزوں سے
کئی گوہر تراشے ہیں کئی منظر اجالے ہیں‘‘
اپنا خیال رکھیئے گا۔