معاشرے کی بقا اور اصلاح

03 مئی 2014

آج ہم اس سچائی سے کوسوں دور ہیں جو معاشرے سے ظلم و استبداد اور مکرو فریب کی جگہ حقیقت اور محبت جیسے عناصر پیدا کرتی ہے۔ یہی بات گرو نے اس بالک سے کہی تھی جو معاشرے میں پھیلی بد صورتیوں سے خوفزدہ تھا ’’دیکھ بالک! سچائی تو وہ نیلا آسمان ہے اور اس نیلے آسمان تلے بڑی واضح حقیقتیں ہیں اور یاد رکھ! ایک حقیقت تو یہ تیرا وجود ہے اور سچائی یہ ہے کہ تو اس وجود اور دماغ سے کیا کام لیتا ہے تو اس وجود کو مکرو فریب او دنیا داری کے گورکھ دھندوں میں مت الجھا کیونکہ یہ راستہ تنہا کر دینے والا اور دکھ دینے والا ہے۔ تو اس سچائی پر یقین رکھ! جس کا راستہ کٹھن تو ہوتا ہے لیکن صاف ستھرا اور کھڑا ہوتا ہے اور جب راستہ تیرے ہاتھ سے چھٹ جاتا ہے تو جھوٹی انا اور فریب کا جنگل تیرے ارد گرد پھیل جاتا ہے کیا تو نے اس بادشاہ کی کہانی نہیں سنی جس کا گزر ایسے رستے سے ہوا جہاں پر ایک دیوانہ رہتا تھا۔ اس نے بادشاہ کو دیکھا تو خاک کی ایک مٹھی اس کی طرف اچھال دی۔ ’’یہ تو نے کیا کر دیا‘‘ بادشاہ غصے میں بولا دیوانہ تھوڑا سا ہنسا اور بولا’’اے بادشاہ وقت تو زمین پر اکڑ کر چلتا ہے تیرے ارد گرد خود غرضی کے اندھیروں نے رعایا کو نگل لیا۔ اس سے پہلے کہ تو اس خودغرضی اور انا کے جنگل میں اکیلا بھٹکتا پھرے اور وقت تجھے اس مقام پر لے آئے کہ تیرا کوئی پرسان حال نہ ہو تو حقیقت کی طرف لوٹ آ‘‘
’’اسے قتل کردو‘‘ بادشاہ نے محافظوں سے کہا ’’جانے دیں حضور دیوانہ ہے‘‘ وزیروں نے کہا بادشاہ نے دیکھا کہ وہ دیوانہ مٹھی بھر خاک اپنے سر میں ڈال رہا ہے بادشاہ نے اسے پاگل گردانا اور اپنے محل میں واپس آ گیا۔ لیکن بادشاہ کے ساتھ عجیب ماجرا ہوا۔ دیوانے کی باتوں نے اس کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اب بادشاہ پہلے جیسا غرور اور تکبر بھی نہ رہا تھا۔ ایک رات وزیر با تدبیر نے بادشاہ کے کمرے کے باہر سسکیوں کی آوازیں سنیں اس نے دروازے سے کان لگا دئیے اسے بادشاہ کی درد میں ڈوبی آواز سنائی دی ’’اے بادشاہ تو نفس کی پیروی کرتا ہے اور زمین پر اکڑ کے چلتا ہے۔ ایک دیوانے نے تجھے تیری حقیقت یاد کروا دی تو ایک حقیر سے نطفے سے پیدا کیا گیا اگر تو نے حقیقت کا ادراک کر لیا تو آسمان کی بلندیوں پر جا پہنچا۔ ورنہ نفس کی پیروری اور خواہش کے تعاقب میں پاتال میں جا گرا‘‘۔ وزیر کو احساس ہو گیا کہ بادشاہ کے ضمیر پر بوجھ ہے۔ اگلے دن جب دربار لگا تو بادشاہ وقت انتہائی سادہ لباس میں دربار میں داخل ہوا۔ اور تخت پر جا بیٹھا کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ وزیر سے ہمہ تن گوش ہوا ’’یہ حکومت اور سلطنت میرے کس کام کی کیونکہ میں فرائض کی بجا آوری نہ کر سکا۔ اور نفس کی پیروی میں اتنی دور نکل گیا کہ حقیقت سے دور ہوا اور حقیقت تو میری رعایا تھی جو مجھ سے دور ہوئی‘‘۔ وزیر با تدبیر نے کہا ’’ یہ درست ہے کہ آپ حقیقت سے دور تھے۔ لیکن دیوانے کی باتوں نے جب آپ کے دل پر گہرا اثر کیا تو حقیقت کو سچ مان کر اس سے وابستہ ہو جائیے۔ تاکہ رعایا کی دنیا میں اور آپ کی آخرت میں بھلائی ہو۔ اپنے دل کو محبت کی روشنی سے منور کیجئے۔ اور حقیقت اور محبت کی سچائی ہے جیسے کہ دن کا رات کی آغوش سے جدا ہو جانا حقیقت اور کائنات کے لئے دن کا روشنی کی آغوش سے جدا ہو جانا حقیقت اور کائنات کے لئے دن کا روشنی بکھیرنا محبت ہے۔ اور یہی سچے جذبے دلوں کو بھی منور رکھتے ہیں اور اسی جذبے سے معاشرے کی فلاح بقا اور قلب کی اصلاح ممکن ہے‘‘۔ وزیر کی باتوں سے بادشاہ کو کچھ طمانیت نصیب ہوئی‘‘ گرو نے کہانی سنا کر بالک کی طرف دیکھا جو حیرت میں گم تھا اس پر آج عجب راز فشا ہوا تھا گرو نے کہا اے بالک میری تین باتیں دھیان میں رکھ گیان پائے گا۔خواہشوں کے پیچھے مت بھاگ سکون چھین جائے گا
دنیا کے پیچھے مت بھاگ اپنا نیت کھو دے گا
دولت کے پیچھے مت بھاگ انسانیت کھو دے گا
آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں اصلاح، فلاح اور معاشرتی بقا اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اس اساس کی طرف رجوع کریں جس سے ہم کوسوں دور ہیں۔ اور ہمارے اخلاقی، سیاسی، معاشرتی و معاشی انحاط کی سب سے بڑی وجہ ہی اپنے نظریات اور بنیاد سے دوری ہے جس پر سچ کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔