آج مَیں کیا لکِھّوں؟

03 مئی 2014

کسی دِن پرنٹ اور الیکٹرانک مِیڈیا پر خبروں کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ ذہن اِدھر اُدھر بھٹکنے لگتا ہے۔ اُدھر دوستوں اور قارئین کا شِکوہ الگ کہ ”آپ نے فلاں فلاں موضوع کو کیوں نہیں چھیڑا؟“ صُورت یہ ہے کہ مَیں صاحبِ ذوق تو ہوں لیکن اُستاد محمد ابراہیم ذوق کا سا ذوق نہیں رکھتا جنہوں نے کہا تھا کہ
”اُس کو سُنتے ہیں چھیڑ چھاڑ کے ہم
کِس مزہ سے عِتاب کی باتیں؟“
قوم پر سب سے بڑا عتاب یہ ہے کہ ”قومی سطح کے“ ہزاروں قائدین ہیں، جو قومی اخبارات کی سُرخیوں اور مختلف نیوز چینلوں پر اپنے بیانات اور تجزیہ کاری سے ”دُھواں داری“ کرتے ہیں ایک دوسرے کے لتّے لیتے ہیں۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ”لتّے لینا“ کا مُحاورہ دھجّیاں اُڑانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جناب حیدر علی آتش نے کہا تھا کہ
”آفریں! صد آفریں دستِ جنُوں!
خُوب ہی لتّے لئے پوشاک کے؟“
یہاں معاملہ یہ ہے کہ کوئی سیاسی/ مذہبی لیڈر بظاہر کِتنا ہی صُلح جُو اور مِتین ہی کیوں نہ ہو؟ نظریہ¿ ضرورت کے تحت جنُوں پیشہ بن جاتا ہے۔ وہ بھی جنُوں پیشہ شاعر تھا کہ جِس نے کہا تھا کہ
”یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک “
یہاں معاملہ یہ ہے کہ ”صاحب لوگ“ جوشِ جنوں یا دورہ¿ جنوں میں اپنا دامن تو صاف بچا لیتے ہیں لیکن یزداں سے لے کر عام انسانوں کے دامان کو چاک چاک اور اُس کے بعد ”تار تار“ کر دیتے ہیں۔ جو کوئی اقتدار میں آتا ہے ایسا نظام قائم کرتا ہے کہ عام آدمی کے پاس لتّا (کپڑا) بھی نہیں رہ جاتا۔ اِس نظام کو سہارا دینے والے بھی مفلوک الحال لوگوں کو کپڑے لتّے سے محروم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ جواں مرگ شاعر قابل اجمیری نے کہا تھا کہ
کُچھ اپنے دِل پر بھی زخم کھاﺅ
مرے لہو کی بہار کب تک؟
مجھے سہارا بنانے والو!
مَیں لڑ کھڑایا تو کیا کروں گے؟
یہ کلام پاکستان کے ہر زوال پذیر حُکمران پر صادق آتا ہے جو اپنی لڑکھڑاتی ہُوئی حکومت کو بچانے کے لئے سہاروں کی بیساکھیوں کا محتاج ہو جاتا ہے اور پھر یہ بیساکھیاں آنے والے اور کچھ عرصہ بعد لڑکھڑانے والے حکمرانوں کے کام آتی ہیں۔ بیساکھی صِرف ”بیساکھ“ کے مہینے میں ہی کام نہیں آتی بلکہ سال کے ہر مہینے میں کام آتی ہے۔ آج سنِ عیسوی کے مطابق مئی کی3 اور سنِ بکرمی کے مطابق بیساکھ کی21 ہے۔ وزیرِاعظم نواز شریف لاوُ لشکر سمیت لندن میں ہیں حالانکہ وہاں ”بیساکھی کا میلہ“ نہیں ہوتا۔ ایک پوٹھوہاری خاتون نے کہا تھا کہ
مَیں اِتّھے تے ڈھولا پربت
میری کُھوہی دا پانی شربت
اُن دِنوں اُس خاتون کے کنویں کا پانی شربت کی طرح مِیٹھا ہوتا ہو گا اور وہ اپنے محبوب کے انتظار میں پانی پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہو گی لیکن آج ایسے کنویں کہاں؟ خلیفہ¿ سوم حضرت عثمانؓ نے اپنی گرِہ سے مِیٹھے پانی کا کنواں خرید کر مُسلموں اور غیر مُسلموں کے لئے وقف کر دِیا تھا۔ شاعر نے کہا تھا کہ
خیر مطلوب ہے تو فَیض کے اسباب بنا!
پُل بنا چاہ بنا مسجد و تالاب بنا!
خادمِ اعلیٰ پنجاب دھڑا دھڑا پُل بنا رہے ہیں۔ ایک نیوز چینل کے مزاحیہ پروگرام میں ”دانشور عزیزی“ نے کہا کہ ”پہلاں اللہ دے نیک بندے کہندے سن ”کُل دی خیر“ (یعنی سب کی خیر) پر ہُن کہندے نیں ”پُل دی خیر“ ۔ سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے ”چاہِ یوسف“ کے عنوان سے آپ بِیتی تو لکِھ دی تھی لیکن انہوں نے عوام کو مِیٹھا پانی پلوانے کے لئے کوئی ”چاہ“ (کنواں) نہیں کُھدایا ”پیغمبر انقلاب“ نے ہجرت کے بعد مدینہ منّورہ میں زمین خرید کر اُس پر مسجد تعمیر کرائی تھی۔ مُیرے جدّی پُشتی پِیر و مُرشد حضرت خواجہ معین الدّین چشتیؒ نے بھی اجمیر میں مسجد تعمیر کرانے کے لئے زمین خریدی تھی لیکن پاکستان کو ”خلافت کا مرکز“ بنا کر ”عالمِ اسلام کا امیر المومنین“ بننے کا خواب دیکھنے والے (لال مسجد کے خطیب کی حیثیت سے فارغ ہونے کے بعد بھی اُس کے امام) مولانا عبدالعزیز کا یہ انٹرویو کئی بار ایک نیوز چینل پر دکھایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ”زمین اللہ کی ہے اور اُس پر مسجد اور مدرسہ بنانے کے لئے حکومت کی اجازت لینا ضروری نہیں ہوتا“ یعنی ”اب کر لو جو کرنا ہے۔“
”تالاب“ (پانی کا بڑا حوض) کسی زمانے میں واقعی فَیض کے اسباب میں تھا۔ آج تالاب بنانے کے بجائے "Dam" (بند) بنانے کا دَور ہے۔ ہماری کوئی بھی حکومت عوام و خواص کو فیض پہنچانے کے لئے ”کالا باغ ڈیم“ بنانے کی کوشش میں اِس لئے کامیاب نہیں ہُوئی کہ وہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی حکومتوں میں اتفاق رائے کے لئے آسمانوں کی طرف دیکھتی رہی ہیں کہ کب آسمانوں سے حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہو اور وہ پاکستان میں اتفاق رائے سے کالا باغ ڈیم بنوا دیں۔ انشا¿اللہ! میرے پوتے یا اُن کے پوتے یا اُن کے پوتے یہ منظر ضرور دیکھیں۔
”پیغمبرِِ انقلاب“ ایک عام سے گھر میں رہتے اور سادہ لباس پہنتے تھے اور خلفائے راشدینؓ بھی آج کے دَور میں زرق برق لباس پہننے والے اور نوابوں اور جاگیرداروں کی سی زندگی بسر کرنے والے مولوی صاحبان جب سیرة النبی اور خلفائے راشدینؓ کی عظمت بیان کرتے ہیں تو خالقِ کائنات کیا سوچتے ہوں گے؟ قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے کہ ”جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اُس میں سے اللہ کی راہ (رفاہِ عامہ پر) خرچ نہیں کرتے قیامت کے دِن وہی سونا اور چاندی۔(جہنم)۔ کی آگ میں تپا تپا کر اُن کی پیشانیوں اور پُشتوں پر داغا جائے گا۔“ مَیں سوچتا ہوں کہ شیخ القرآن، شیخ الحدیث اور شیخ الاسلام کہلانے والی شخصیات ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں اور قارون کے مُقلِّد دولتمندوں کو قرآنِ عظیم کے اِس طرح کے احکامات سے کیوں آگاہ نہیں کرتے؟ اب کیا کِیا جائے کہ 28 مئی کو میاں نواز شریف کا معاشی دھماکہ کرنے کے وعدے کو بھی ایک سال ہو جائے گا۔ مَیں ہر روز کالم لکِھتا ہوں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آج مَیں کیا لکِھوں؟