یاد ِ رفتگان…مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی

03 مئی 2014

مولانا عبدالستار خان نیازی چونکہ نقشبندی مجددی سلسلہ میں شرف بیعت رکھتے تھے۔ بدیں وجہ ان میں امام ربانی مجدد الف ثانی کی حق گوئی‘ کردار و عمل اور روحانی  فیوض و برکات کی گہری چھاپ ہے۔ مولانا عبدالستار نیازی یکم اکتوبر 1915ء میں پیدا ہوئے۔ تحریک پاکستان میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہو کر حصہ لیا۔ نوہار بروا کے چکے پات دیکھ کر قائداعظمؒ سے 1941ء میں مولانا نیازی کے بارے میں فرمایا تھا ’’جس قوم کے پاس عبدالستار نیازی جیسے پیکران یقین و صداقت اور صاحبان عزم و ہمت ہوں اس کے پاکستان کو کون روک سکتا ہے۔‘‘ 1940ء میں قرارداد پاکستان کی منظوری سے لے کر تشکیل پاکستان تک‘ قرار داد مقاصد سے لے کر تحریک ختم نبوت تک ہر جگہ ہر قدم آپ حق و صداقت کا منیارہ نور بن کر ابھرے۔
 مولانا نیازی‘ مولانا شاہ احمد نورانی کی رفاقت میں جمعیت علمائے پاکستان کو ملک کی صف اول پارٹی بنایا۔ مولانا رکن اسمبلی رہے‘ جیل کے قیدی بھی‘ نہ زرق برق ایوان میں خوئے قناعت چھوڑی اور نہ گوشہ زندان میں آبروے استقامت داغدار ہونے دی۔ صاحبزادہ خورشید گیلانی ایک جگہ لکھتے ہیں۔ مولانا نیازی کا طرہ دیکھیں تو ہر وقت کلف لگا ہوا۔ گردن ہر لمحہ اٹھی ہوئی‘ لباس سلوٹ سے پاک‘ چال میں نام کو خم نہیں‘ اعصاب مضبوط‘ آہنی لہجہ لوچ سے ناشآنا آواز میں طنطنہ‘ یہ شخص ملک امیر محمد خاں کالا باغ سے مخاطب ہو تو شیر کی طرح دھاڑتا ہے۔ یحیٰ کے خلاف انگارے برستا ہے بھٹو سے ہم کلام ہو تو شمشیر بے نیاز بن جاتا ہے۔ ضیاء الحق سامنے ہو تو غصہ تھامنے میں وقت لگے گا۔ مگر یہی شخص جب خدا کے حضور کھڑا ہو تو بید کی لکڑی کی طرح لرز رہا ہوتا ہے۔ رسول اکرمؐ کا ذکر آئے یا محفل میں نعت پڑھی جائے تو یہ سراپا آہن اور آتش شخص دھوئیں کی طرح تحلیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ خوانین اور نوابوں سے جرات کے ساتھ آنکھیں ملانے والا ذکر رسولؐ پر بچوں کی طرح بلبلانے لگتا ہے اور جب بھی اس 86 سالہ بوڑھے سے عمر پوچھی جائے تو کہتا ہے کہ میں کیا اور زندگان کی بہاریں کیا حاصل عمر جاوداں صرف وہی شب و روز ہیں جو میں نے 1953ء میں اینٹی قادیانی موومنٹ کے دوران حرمت رسولؐ کے تحفظ ملنے والی سزائیں موت کے حوالے سے جیل کی کال کوٹھڑی میں بسر کئے تھے۔
مولانا عبدالستار خان نیازی قیام پاکستان سے قبل 1946ء میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1988ء اور 1990ء میں جمعیت علمائے پاکستان کی طرف سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے 1993-94ء میں سینٹ کے ممبر بنے وہ وفاقی وزیر مذہبی امور اور بلدیات بھی رہے مولانا جہاد کشمیر کے پرجوش حامی تھے۔ اتحاد بین المسلمین کے داعی بھی رہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے ساتھ ورلڈ اسلامک مشن کے نائب صدر کی حیثیت غیر ملکی دوروں پر بھی رہے۔ زبردست مقرر تھے۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے انہیں ’’مجاہد ملت‘‘ کا خطاب ملا۔ حق گوئی بے باقی ان کی سیاست اور خطابت کا طرہ امیتاز تھا۔ انہوں نے نظام مصطفیٰؐ کے نفاذ کی خاطر ساری عمر شادی نہ کی اس دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوئے۔ 7 صفر المظفر 1422ھ 2 بے روز بدھ نماز فجر کے بعد ذکرجان جانِ آفریں کے سپرد کر دی چھ بجے شام میانوالی ہاکی سٹیڈیم میں ہزاروں افراد نے آپ کے جنازہ میں شرکت کی۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...