لاثانی ایکسپریس کی بوگیوں میں اضافہ کیا جائے

03 مئی 2014

مکرمی! ریلوے حکام کی ایک اور ستم ظریفی لاہور سے نارووال اور سیالکوٹ سیکشنوں پر چلنے والی واحد لاثانی ایکسپریس کی یکدم بوگیاں دس سے کم کرکے تین کر دی گئیں ہیں دونوں سیکشنوں کے ہزاروں مسافروں کا ریلوے کے خلاف احتجاج جاری ہے سینکڑوں مسافر تین بوگیوں کے باعث جگہ نہ ملنے کی وجہ سے سفر سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹر منہ مانگے کرائے وصول کر رہے ہیں مذکورہ سیکشنوں پر واحد ٹرین لاثانی ایکسپریس چلتی ہے اور ریلوے نے ان سیکشنوں پر چلنے والی 11 ٹرینوں کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے جبری بند کر رکھا ہے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قومی انتخابات کے دوران عوام سے ٹرینوں کی بحالی کے برملا وعدے کئے جو آج تک پورے نہیں کئے جا سکے۔ یہاں ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث عوام ریل گاڑیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ نارووال اور نارنگ منڈی اور لاہور کے چار وفاقی وزیر ہونے کے باوجود ٹرینوں کی بحالی کا مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا جبکہ ارکان اسمبلی نے بھی وعدہ کیا تھا کہ 23 مارچ تک متذکرہ سیکشنوں پر کم از کم ایک ٹرین ضرور بحال کر دی جائے گی لیکن یہ وعدہ بھی طفل تسلی ثابت ہوا طرفہ تماشا یہ کہ واحد ٹرین لاثانی ایکسپریس کی بوگیاں کم کرکے عوام سے سفری سہولیات چھینی جا رہی ہیں اور عوام میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ (قمر گولاٹی نارنگ منڈی )