’’اللہ کے بندوں سے محبت‘‘

03 مئی 2014

دو روز قبل ’’نوائے وقت‘‘ کے پہلے صفحے پر ہی جاوید قریشی صاحب کی وفات کی خبر بمعہ تصویر چھپی جس کا مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ بندوں سے محبت کرنے والا شخص، شاعر، سکالر، ادیب، خوش مزاج اور خوش شکل انسان اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ ان کا خوش باش چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ الحمراء آرٹ گیلری میں خطاطی کی نمائش میں وہ مہمان خصوصی تھے انہوں نے گروپ شو دیکھتے ہوئے میرے آرٹ پیس ’’سوئی دھاگہ‘‘ سے تیار مہر مبارک کی تعریف کی۔ میں ان سے آٹو گراف تو نہ لے سکی جس کا مجھے تاحیات افسوس رہیگا البتہ فاطمہ جناح کے پورٹریٹ کی فوٹو لفافے میں بند کر کے ان کو گفٹ کی۔ گھر جا کر انہوں نے لفافہ کھولا تو میرا فون نمبر موجود تھا اس وقت مجھے فون پر شکریہ کے ساتھ شاباش بھی دی۔ قریشی صاحب مرحوم آرٹسٹ کی قدر کرتے تھے انہیں معلوم تھا کہ آرٹسٹ حساس ہوتا ہے۔ نوائے وقت میں لکھے گئے کالم میں ضرور پڑھتی تھی۔ ان جیسی اور بھی بہت سی شخصیات ہیں جنہوں نے مجھے بذریعہ خط اور کارڈز آرٹ کو سراہتے ہوئے لکھے لیکن قریشی صاحب کی آواز ابھی بھی میرے دماغ میں محفوظ ہے۔ خدا ان کی قبر کشادہ اور منور رکھے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (آمین) (ساجدہ حنیف ۔ نیڈل آرٹسٹ 578۔ اے ون۔ جوہر ٹاؤن ۔ لاہور)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...