ہم فٹبال سے ٹرینڈ سیٹ کر رہے ہیں

03 مئی 2014

حافظ محمد عمران
فٹ بال کو بلاشبہ دنیا کا مقبول ترین کھیل کہا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل بھی ہے مگر ہمارے ہاں اس مقبول ترین کھیل کی صورت حال کیوں اتنی تسلی بخش نہیں، یہ سوال کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص پوچھتا ہے۔ ہمارے ہاں فٹ بال کا بنیادی ڈھانچہ کیوں بہتر نہیں ہو پاتا حالانکہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ بہت ہے حال ہی میں سٹریٹ چائلڈ فٹ بال ورلڈ کپ میں ہمارے کھلاڑیوں نے انتہائی شاندار کارکردگی دکھائی مگر ہماری سینئر قومی ٹیم کے کھلاڑی ایسی کارکردگی کیوں دکھا نہیں پاتے۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن اس حوالے سے جو کوششیں کر رہی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج کیوں سامنے نہیں آ رہے۔ ہم نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر مخدوم سید فیصل صالح حیات سے بات چیت کی، جس کی تفصیل نذر قارئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فٹ بال سمیت تمام کھیلوں کا مستقبل روشن ہے بشرطیکہ آپ انہیںمناسب طریقے سے چلا سکیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ  50کی دہائی اور 60ء کی دہائی میں بھی فٹ بال پاکستان میں مقبول کھیل تھا مگر اب ایسا نہیں ہے اب 90 فیصد توجہ کرکٹ کی طرف مبذول ہے۔ دنیا میں کھیل اسی وقت ترقی پاتے ہیں جب ان میں وسائل میسر ہوں اور ساتھ انہیں میڈیا کوریج ملے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ دونوں چیزیں صرف کرکٹ تک محدود کر دی گئی ہیں۔ پچھلی تمام حکومتوں کی پالیسی میں یہ بات شامل رہی ہے کہ ہم نے کھیلوں کو ترقی دینی ہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا۔ مجھے اب اس باڈی کے ساتھ منسلک ہوئے گیارہ برس ہو گئے ہیں جب میں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا اس وقت پاکستان میں فٹ بال کا ڈھانچہ سرے سے موجود نہیں تھا۔ آج ہمارے پاس 55ہزار رجسٹرڈ کھلاڑی ہیں جن کی ہم باقاعدہ تربیت کر رہے ہیں۔21 سو رجسٹرڈ کلب ہیں ہم سال میں آٹھ چیمپئن شپ کروا رہے ہیں، پہلی بار پاکستان میں آٹھ اکیڈمیاں بنا رہے ہیں فٹ بال کے بڑے کھلاڑی بنانا بٹن دبانے سے ممکن نہیں ہے۔ فٹ بال دنیا کا نمبر ایک کھیل ہے۔ ہمیں اس کے شایان شان اس کھیل کو اہمیت دینی چاہیے مگر ہمارے ہاں حکومت اور نجی شعبہ آگے بڑھ کر فٹ بال کی سرپرستی نہیں کرتے۔ فٹ بال کھیلنے والے بچوں کو اپنا مستقبل نظر نہیں آتا۔ سیاسی رہنمائوں کی ترجیحات میں کھیل بہت نچلے درجے پر ہیں، میں جب حکومت میں رہا، میں نے کافی کوششیں کیں، سیف کپ کروایا، پاکستان بھارت مقابلے منعقد کروائے، فٹ بال سٹیڈیم اپ گریڈ کروائے مگر مجموعی طور پر حکومتوں کا رویہ ڈنگ ٹپائو والا ہے۔ سپورٹس پالیسی میں اس کھیل کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اتنا پیسہ یوتھ فیسٹیول پر لگایا گیا کچھ پیسہ مین سٹیڈیم کھیلوں پر بھی لگایا جانا چاہیے تھا۔ سید فیصل صالح حیات نے کہا کہ دنیا کے 206 ممالک فٹ بال کھیلتے ہیں ہمیں بھی چاہیے کہ بچوں کو صحت مند سرگرمیوںکی طرف راغب کریں، انہیں بہتر مستقبل کی امید دیں تاکہ وہ شوق سے اس کھیل کی طرف آئیں۔ فیفا اور فٹ بال کی دیگر تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات اور گرانٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے پچھلے گیارہ برسوں میں بھرپور محنت سے یہ تعلقات استوار کیے ہیں۔ فیفا کے علاوہ اے ایف سی سے ہمارے شاندار تعلقات ہیں جن سے ہمیں ساڑھے 5کروڑ روپے ملتے ہیں۔ اے ایف سی کے صدر سے میرے ذاتی تعلقات ہیں انہوں نے پاکستان کو غیر ملکی کوچ گفٹ کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے ہمیں 16لاکھ روپے سالانہ ملتے ہیں، وہ بھی پچھلے تین سال سے نہیں ملے ہم نے فٹ بال کے کھیل کو ملک میں فروغ دینے کے ساتھ ایک خاص مشن کا بیڑہ بھی اٹھایا ہے جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ کرکٹ میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں تمام کھیلوں کے انٹرنیشنل ایونٹ بند ہیں مگر ہم نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے کہ ہر صورت پاکستان میں فٹ بال کے انٹرنیشنل ایونٹ منعقد کروائیں گے ۔ آپ دیکھ لیجئے پچھلے برسوں کے دوران ہم بے شمار انٹرنیشنل ٹیموں کو پاکستان لیکر آئے ہیں جن میں فلسطین، ملائشیا، بنگلہ دیش، ایران، یو اے کی، کرغیزستان، افغانستان اور دیگر ملکوں کی ٹیمیں پاکستان آئیں اور کامیابی سے کھیل کر گئی ہیں ہم نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کھیلوں کے لیے محفوظ ملک ہے۔مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے فیصل صالح حیات نے کہا کہ ہم مستقبل قریب میں ایک بہت بڑا لینڈ مارک طے کرنے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا خواتین کا فٹ بال ایونٹ کرانے جا رہے ہیں۔ یہ ساف ومن چیمپئن شپ ہے جو اس سال کے آخر میں پاکستان میں ہو گی۔ ہم اس طرح ایک ٹرینڈ سیٹ کریں گے اور اس کا اثر دیگر کھیلوں پر بھی مثبت انداز میں پڑے گا۔ میرا ڈونا کے پاکستان آنے کی اطلاعات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل صالح حیات نے کہا کہ بلاول بھٹو بلائیں یا کوئی بھی بلائے میرا ڈونا کے پاکستان آنے سے فٹ بال کے کھیل میں دلچسپی بڑھے گی۔ میں ہمیشہ عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ فٹ بال کے مقابلے دیکھنے ضرور آئیں تاکہ کھیلنے والوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی ہو۔  میراڈونا پاکستان آیا تو ہمارے ملک کیلئے بہت اچھا ہو گا۔فیفا اور اے ایف سی سے قابل مثال تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل سپورٹس باڈی کے ساتھ منسلک ہو کر چلنے کے لیے آپ کو مستقل مذاجی کی ضرورت ہوتی ہے میں خوش قسمت ہوں کہ میں گیارہ برس سے اس شعبے میں ہوں اور تسلسل سے کام کر رہا ہوں۔ دوسرا کھیل کے بارے میں علم بھی ہونا چاہیے۔ ہوم ورک کرنا بھی ضروری ہے۔ مجھے کئی برس لگے یہ تعلقات بنانے میں، اور آج میں ذاتی تعلقات کی بناء پر پاکستان کے حالات کے بارے میں عام تاثر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں۔ میری ملک کے تمام کھیلوں کے اداروں سے استدعا ہے کہ ذاتیات تک محدود رہنے کے بجائے ملک کے لیے سوچیں، ملک کے لیے کام کریں۔فیفا کی گرانٹ کے شفاف استعمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا کہ ہم انتہائی شفاف طریقے سے کام کر رہے ہیں اس لیے اے ایف سی اور فیفا ہمیں گرانٹ دے رہے ہیں۔ اس برس ہمارا بجٹ 9کروڑ روپے ہے جبکہ ہمیں گرانٹ میں ساڑھے 5 کروڑ مل رہے ہیں۔ مگر ہم یہ سب اپنی کوششوں سے سپانسر اور مارکیٹنگ کے ذریعے ممکن بن رہے ہیں۔ حکومت کو بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری ہے مگر ہمارے ہاں اس بارے میں توجہ نہیں دی جاتی۔