سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کا پہلا امتحان

03 مئی 2014

اعجاز احمد شیخ
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، پاکستان پیپلز پارٹی  کے دور حکومت میں اس کھیل کو زندہ کرنے کے لئے جتنی سپورٹ کی گئی شاید  مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں  وہ اسے نہ مل سکے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قومی ہاکی ٹیم نے تمام انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کی تاہم افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان ٹیم نہ صرف اذلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ  کھیلنے نہ جا سکی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت سے محروم ہو گئی۔ کامن ویلتھ گیمز میں عدم شرکت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اس حوالے سے پوری قوم بخوبی آگاہ ہے کہ وفاقی وزارت کھیل بین الصوبائی رابطہ کمیٹی  اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے قومی ٹیم کا نام کامن ویلتھ گیمز کی فہرست میں بھجوانے سے رہ گیا۔ اس کی کافی حد تک ذمہ داری متوازی اولمپک ایسوسی ایشن پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے اقتدار کے جھوٹے  لالچ میں پاکستانی کھیلوں کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ 2010ء میں پاکستان ہاکی ٹیم نے چین میں منعقد ہونے والی ایشیئن گیمز میں 20 سال بعد گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اس کے اعزاز کا دفاع خطرے  سے دوچار نظر آ رہا تھا ایشیئن گیمز میں قومی ٹیم کی شرکت سوالیہ  نشان بنی ہوئی تھی تاہم میگا ایونٹ کی انٹری بھجوانے کی آخری ڈیڈ لائن ختم ہونے سے 48 گھنٹے  قبل حکومت کو اس بات کا احساس ہو ہی گیا اس نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اجازت دیدی کہ وہ آئی او سی کی پاکستان میں منظور شدہ نشنل اولمپک کمیٹی کے ذریعے ہی اپنی انٹری بھجوائیں دیر آئید درست آئید والا حساب ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بھی الیکشن کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نئی انتظامیہ براجمان ہے جس نے شاید اپنے اقتدار  کو بچانے کے لئے سابق اولمپیئنز جو کہ ان کے لئے خطرے کی گھنٹی بنتے جا رہے تھے کو لالچ دیکر پاکستان ہاکی میں اہم عہدوں پر فائز کر دیا۔ ناراض اولمپیئنز کو منانے کے لئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو سلیکشن کمیٹی بحال کرنا پڑ گئی جبکہ سینئر اور جونیئر ٹیم مینجمنٹوں میں جدید ہاکی سے نابلد لوگوں کو لگا دیا گیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اچھی بری کارکردگی کی ذمہ داری سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ ہو گی۔ شاید پی ایچ ایف حکام کسی دھوکے میں ہیں کہ جب ٹیم کسی میگا ایونٹ سے آئوٹ ہوتی ہے تو اس کی اصل ذمہ داری  فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے کہ اس نے اہم عہدوں پر جو بندے فائز کیے ہیں ان کا تقرر میرٹ پر ہوا ہے اور اگر ایسا نہیں تھا تو وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اولمپیئن اختر رسول ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، وہ لفظوں  سے اچھا کھیل لیتے ہیں۔  مگر یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ سے آئوٹ ہونے کے بعد آصف باجوہ اپنی سیٹ برقرار نہیں رکھ سکے انہوں نے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیا اگر ایشیئن گیمز میں پاکستان ٹیم خدانخواستہ  اعزاز کا دفاع  نہ کر سکی تو 2016ء کے اولمپک گیمز سے بھی باہر ہو جائے گی جس  میں شرکت کے لئے دوبارہ اسے کوالیفائنگ کے مشکل مرحلہ سے گزرنا پڑے گا جو شاید ممکن نہ ہو سکے جس کی ایک وجہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے بنائی جانے والی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ  کی جانب سے ایشیئن گیمز کی تیاری کے  لئے اعلان کردہ 37 کھلاڑیوں کی فہرست میں 16 وہ کھلاڑی جگہ نہیں بنا سکے جنہوں  نے چیمپئنز ٹرافی، ایشیئن چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کو میڈلز جیت کر دئیے تھے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ حال ہی میں یورپ لیگ نہ صرف کھیل کر بلکہ اس میں کامیابی حاص لکر کے وطن واپس آنے والے رضوان سینئر، عمر بھٹہ اور راشد محمود کو سلیکشن  کمیٹی اور ٹیم کے ہیڈ کوچ نے پہچاننے سے محروم رہے جس ٹیم کا ہیڈ کوچ اپنی ٹیم کے وننگ سکواڈ کے کھلاڑیوں کو نہ پہچانتا ہو اس سے اچھے رزلٹ کی توقع کرنا عبث ہے۔ ایشیئن گیمز کے لئے جن 25 کھلاڑیوں کے نام بھجوائے گئے ہیں ان میں 12 وہ کھلاڑی شامل  نہیں جنہیں ملک بھر سے اوپن  ٹرائلز کے ذریعے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کھلاڑیوں کے انتخاب پر سابق   سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن آصف باجوہ میرٹ کی دھجیاں اڑتے نہ دیکھ سکے اور یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ایشیئن گیمز کے اہم ایونٹ سے تجربہ کار کھلاڑیوں  کو ڈراپ کرکے ناتجربہ کار کھلاڑیوں کوشامل کرنا دال میں ضرور کالا ہے۔ آصف باجوہ درست ہیں یا پھر نئی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ  درست  اس بات کا اندازہ ایشیئن گیمز  پر ہی لگایا جا سکے گا۔ اس سے قبل صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ عہدوں کے حصول کا لالچ رکھنے والے اولمپیئنز کو سمجھ آ جائے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ آصف باجوہ نے دسمبر تک کا وقت دیا ہے اس وقت  تک ہاکی جہاں چلی جائے گی پھر شاید اسے ہم قومی کھیل بھی نہ کہہ سکیں۔ سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ  کی سفارشات  پر جن کھلاڑیوں کو تربیتی کیمپ میں بلایا گیا ہے ان میں 5 گول کیپر عمران شاہ، عمران بٹ،  مظہر عباس، عدنان شکور اور محمد اقبال، فل بیکس میں محمد عمران،  محمد خالد، عباد علی، عبدالستار، زاہد اللہ اور اسد عزیز، ہاف بیکس میں ایم رضوان جونیئر، محمد توثیق، راشد محمود،  فرید احمد، تصور عباس، عثمان حنیف، محمد شعیب اور ایم بلال، فاروڈز میں ولید حمید،  حماد،  علی حسین، شفقت رسول، عبدالحسیم خان، علی شاہ، ایم عمر بھٹہ، ایم رضوان سینئر، محمد دلبر، اسفند سینئر، لیاقت رسول، شاہ جی، اسفر، شہباز احمد، شکیل عباسی، ذیشان اکرام، ارسلان قادر اور خرم شہزاد شامل ہیں جو 4 مئی کو نصیر بندہ ہاکی سٹیڈیم میں ٹیم مینجمنٹ کو رپورٹ کرینگے۔