چیئرمین پی اور چیف سلیکٹرز کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان

03 مئی 2014

چودھری محمد اشرف
پاکستان کرکٹ میں رواں ہفتہ کافی مصروف رہا جس میں سلیکشن کمیٹی کے پہلے اجلاس کے علاوہ قومی کپتان، پی سی بی کے ڈومیسٹک سٹرکچر سمیت ظہیر عباس کی بطور ایڈوائزر چیئرمین پی سی بی تقرری جیسے فیصلے شامل تھے۔ اگلا ہفتہ بھی کافی اہمیت کا حامل ہے جس میں قومی ٹیم کی نئی ٹیم مینجمنٹ کا اعلان ہونے جا رہا ہے جس کے لئے وقار یونس موجودہ وقت میں سب سے مضبوط امیدوار قرار دئیے جا رہے ہیں ان کے جہاز کے عملہ میں دیگر ارکان کون ہونگے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ موجودہ وقت میں یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ چیئرمین پی سی بی کے خلاف جو کوئی بھی آواز بلند کرتا ہے اسے کسی نہ کسی عہدے پر سیٹ کر لیا جاتا ہے۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی جن کا تقرر ایڈہاک بنیادوں پر کیا گیا تھا کہ وہ پی سی بی میں نئے انتخابات کرانے کے علاوہ آئین کو جمہوری بنائیں ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ چیئرمین حیلے بہانوں سے اپنے اقتدار کو طویلکرتے جا رہے ہیں جس مقصد کے لئے انہیں پی سی بی میں ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں وہ ان سے بہت دور چلے گئے ہیں اور جس طرح وہ اپنے منظور نظر لوگوں کو پی سی بی کا حصہ بنا رہے ہیں۔ مستقبل میں پاکستان کرکٹ کا اﷲ ہی حافظ ہو گا۔ نجم سیٹھی کے دور میں پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی سلیکشن کمیٹی بن چکی ہے۔ 11 رکنی سلیکشن کمیٹی میں 6 افراد سینئر اور 5 افراد جونیئر سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں۔ معین خان کی طرح کئی افراد کو دوہری ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ لوگ ایک تنخواہ میں دو کام کرینگے یا پھر دوسری ذمہ داری کا انہیں الگ سے معاوضہ دیا جائے گا۔ ویسے نجم سیٹھی چیئرمین پی سی بی نے جن درجہ چہارم کے ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ ابتدائی حکم امتناعی کے تحت تقریباً ایک درجن کے قریب ملازمین کو پی سی بی میں واپس رکھ لیا گیا ہے تاہم کیس عدالت میں ہونے کی وجہ سے انہیں قذافی سٹیڈیم کے ایک کمرے تک محدود کر دیا گیا ہے ان سے کوئی کام نہیں لیا جا رہا اور لیا بھی کیوں جائے کیونکہ چیئرمین پی سی بی نے اپنے پرانے ادارے انگریزی روزنامہ سے چھ افراد کو پی سی بی میں بھرتی کر لیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں جس میں اپنوں پر کرم اور غیروں پر ظلم ہو رہا ہے۔ معین خان کی قیادت میں اعلان ہونے والی قومی سلیکشن کمیٹی کا پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس میں 3 درجن سے زائد کھلاڑیوں کے ناموں کی فہرست کو حتمی شکل دی گئی جن کا تقریباً ایک ماہ کا تربیتی و فزیکل فٹنس کا کیمپ 6 مئی سے لاہور میں لگایا جائے گا۔ سلیکشن کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کا ریکارڈ چیک کرکے انہیں ٹیم یا کیمپ کا حصہ بنائے اس کے پاس یہ کوئی اختیار نہیں کہ وہ ٹیم کے کپتان کا تقرر بھی خود کرنا شروع کر دے کہ آیا قیادت کس کھلاڑی کو کرنا چاہئے۔ معین خان نے سلیکشن کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں قومی ٹیم کے کپتان کا پنڈوراباکس کھول کر کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا۔ مصباح الحق شاید معین خان اور انکے منظور نظر افراد کو پسند نہیں ہیں اس لئے وہ بار بار مختلف فورم پر کپتان کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہیں۔ ویسے چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی معین خان کی جانب سے کپتان کے ایشو پر شروع کی جانے والی بحث کا احسن طریقے سے کرارا جواب دے چکے ہیں جس میں نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ کپتان کا تقرر کرنا چیئرمین کے دائرہ اختیار میں ہے لہذا معین خان میرے اختیار کو چیلنج نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ چیئرمین پی سی بی اور چیف سلیکٹر کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے کرکٹ حلقوں میں کافی دلچسپ صورتحال پائی جا رہی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ معین خان پی سی بی کے چیئرمین کے زیادہ منظور نظر ہونے کی بنا پر اپنے اختیارات سے تجاوز کر جاتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ معین خان اگلے ہفتے قومی ٹیم کے اعلان ہونے والے نئے کوچ کے ساتھ بھی چل پاتے ہیں یا نہیں۔ قومی ٹیم کے متوقع ہیڈ کوچ وقار یونس ہیں جنہیں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی گرین سگنل بھی دے چکے ہیں۔ وقار یونس کے بارے میں ایسی باتیں منظر عام پر آ رہی ہیں کہ انہوں نے چیئرمین کے ساتھ ملاقات میں مکمل اختیارات کے ساتھ عہدہ مانگا ہے جس کے لئے پی سی بی کے سربراہ تیار بھی ہیں ایسے میں ٹیم مینجر اور چیف سلیکٹر کا کیا رول ہو گا اس بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔ پی سی بی اگر وقار یونس کو اس عہدے کے لئے منتخب کرتا ہے تو شاید بورڈ کے بہترین فیصلوں میں سے ایک ہو۔
پاکستان کرکٹ حلقوں میں ان دنوں ایک بات سب سے زیادہ گرم ہے کہ چیئرمین پی سی بی نئے آئین میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں سب سے اہم تبدیلی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے حوالے سے ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی جانب سے اس کی سخت مخالفت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہاں تک کہ حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی مینجمنٹ کمیٹی کے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے اس کی سخت مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ جاتی کرکٹ کو ختم کیا اور ریجنل کرکٹ کی تعداد میں کمی کی گئی تو پاکستان کرکٹ تباہی کے اس دھانے پر پہنچ جائے گی جہاں سے پاکستان کرکٹ کی واپسی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے حالات و واقعات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے پر غور کے لئے چار رکنی کمیٹی بنادی ہے جس کا سربراہ انہوں نے اپنے پرنسپل ایڈوائزر سابق ایشیئن بریڈمین ظہیر عباس کو مقرر کیا ہے۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں اقبال قاسم، شکیل شیخ اور ہارون رشید شامل ہیں۔ کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کے حوالے سے جامع رپورٹ بنا کر چیئرمین پی سی بی کو پیش کرے گی جس کی حتمی منظوری بورڈ کے پیٹرن انچیف وزیراعظم میاں نواز شریف سے لینا پڑے گی۔ سابق چیئرمین چودھری ذکاء اشرف نے اپنے دور میں ریجنز کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے پانچ نئے ریجنز قائم کئے تھے ریجنز کی تعداد میں اضافے کا مقصد کھلاڑیوں کا پول بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے ٹیلنٹ کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ پی سی بی کو چاہئے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر ہر سال ہونے والے تجربات سے گریز کرے اور جو بھی نیا ڈومیسٹک ڈھانچہ لائے وہ کم از کم چار سے پانچ سال کے لئے ہو۔ اس کے بعد اگر مزید کسی تبدیلی کی ضرورت ہو تو اس میں بہتری لائی جائے۔ چیئرمین پی سی بی کو کسی کی باتوں میں آئے بغیر کرکٹ کی بہتری کے لئے سوچنا چاہئے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک نے بھی اپنی بحالی کیلئے ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کر لیا ہے۔ 1999ء ورلڈ کپ میں ہونے والی شکست کے بعد سلیم ملک پر تاحیات پابندی عائد ہے جس کے لئے انہوں نے مقامی عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جہاں سے انہیں کلیئر کردیا گیا۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے ساتھ ملاقات کے بعد سلیم ملک کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کا کیس آئی سی سی میں پیش کرے گا اور وہ جلد بحال ہو جائیں گے۔ سلیم ملک اپنے گناہ کی کافی سزا بھگت چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اب کلیئر قرار دیکر پاکستان کرکٹ کی خدمت کا موقع دیا جائے۔