امریکہ کی پھر پاکستان پر الزام تراشی‘ تعلقات خراب ہونے کا اظہار‘ مسئلہ کشمیر پر ثالثی سے انکار …… کشمیر پر ثالثی کی ضرورت نہیں‘ اعتماد اور تعلقات مذاکرات سے بحال کئے جائیں

03 مئی 2014

اوباما انتظامیہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر اور پاکستان افغانستان میں امریکی نمائندہ خصوصی جیمز ڈوبنز نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات سنگین حد تک خراب ہوچکے ہیں، افغان بحران کے حل کیلئے اسلام آباد کا کردار انتہائی اہم ہے۔ امریکی کانگریس میں افغانستان بارے سماعت کے موقع پر جیمز ڈوبنز نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی اعتماد کی کمی ہے۔پاکستان افغانستان میںایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔دونوں ممالک کو ڈریونڈ لائن سمیت تمام متنازعہ ایشوز کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دینی چاہئے۔ علاوہ ازیں بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق جیمز ڈوبنز نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مسئلہ کشمیر دوطرفہ بات چیت سے حل کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے تمام ایشوز پر مذاکرات تجارت سمیت تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حامی ہیں۔
پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا کسی بھی اتحادی سے بڑھ کر ساتھی ہے۔ امریکہ اس جنگ میں پاکستان کے کردار کے باعث ہی اسے فرنٹ لائن اتحادی کا درجہ دیتا ہے۔ پاکستان کو اس جنگ میں شدید ترین جانی و مالی نقصان ہوا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اتحادی ممالک کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ پاکستان کا جانی نقصان ہوا۔ معیشت بری طرح متاثر ہوئی‘ گو امریکہ نے مداوے کیلئے امداد بھی دی لیکن مالی نقصان اس سے کہیں بڑھ کر ہوا جبکہ جانی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔ اس جنگ میں پانچ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور پاکستان مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ دہشت گردوں نے حکومت اور فوج پر امریکہ کا ساتھ دینے کا الزام لگا کر قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے جبکہ امریکہ کو شکوہ رہتا ہے کہ پاکستانی فوج دہشت گردوں کیخلاف بھرپور کارروائی نہیں کرتی۔ امریکہ کے ادارے مفروضوں کی بنیاد پر رپورٹس تیار کرتے ہیں جن کی بنیاد امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا اظہار کرتی ہے۔ یہ اس کا حسن کرشمہ ساز ہے کہ جب چاہے تعلقات کو خراب اور جب چاہے خوشگوار قرار دے دے۔ اپنی ضرورت کے مطابق پاکستان کی تحسین اور اس پر الزام ترشی کی جاتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی دہشتگردی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، سکیورٹی فورسز نے ان شدت پسند دھڑوں کیخلاف کوئی خاص فوجی یا قانونی کارروائی نہیں کی، لشکر طیبہ کھلے عام تربیتی کیمپ چلا رہی ہے اور ریلیاں نکال رہی ہے، پاک فوج نے القاعدہ، کالعدم تحریک طالبان، پنجابی طالبان اور لشکر جھنگوی جیسے گروپوں کیخلاف مہم جاری کر رکھی ہے لیکن لشکر طیبہ کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
امریکی رپورٹ میں ایک طرف پاک فوج کی شدت پسند تنظیموں کیخلاف کارروائیوں کا اعتراف کیا گیا‘ دوسری طرف یہ بھی الزام لگا دیا گیا کہ لشکر طیبہ عام تربیتی کیمپ چلا رہی ہے۔ رپورٹ مرتب کرنیوالوں کو یہ تک علم نہیں کہ لشکر طیبہ پاکستان میں بین ہے۔ رپورٹ ساز شاید جماعت الدعوۃ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان میں فلاحی ادارے چلاتی اور کشمیر کاز کیلئے سرگرم ہے۔ اس کا خودکش حملے کرانے والوں سے تعلق نہیں ہے۔ پاک فوج بلاامتیاز ہر شدت پسند تنظیم کیخلاف برسر پیکار ہے۔ افغانستان سے شدت پسند پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس پر کئی مرتبہ حکومت پاکستان کی طرف سے شدید احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ ملا فضل اللہ کو افغان حکومت نے پناہ دے رکھی ہے۔ امریکہ دس بارہ سال سے افغانستان میں سیاہ و سفید کا مالک رہا‘ اس نے ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ یہ تنازع حل ہو چکا ہوتا تو پاک افغان سرحد پر باڑھ لگائی یا دیوار بنائی جا سکتی تھی۔ کھلے بارڈر سے دہشت گردوں کی آمدورفت کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہے جس کا افغانستان اور امریکی مفادات سے زیادہ پاکستان کو نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان میں صدارت دونوں امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے بیانات انکے امریکہ کی کٹھ پتلی بننے پر آمادگی کی چغلی کھاتے ہیں۔ ان میں سے جو بھی اقتدار میں آئے‘ امریکہ اس پر ڈیورنڈ کا معاملہ طے کرنے پر زور دے سکتا ہے۔
پاکستان کی لازوال قربانیوں کے باوجود بھی امریکہ کو کوئی تحفظات ہیں تو وہ ڈائیلاگ کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ میڈیا میں دھول اڑائی جائے۔ مذاکرات ہی سے اعتماد اور تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔ ابھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے‘ معاملات سلجھانے کی کوشش نہ کی گئی تو امریکہ کو انخلاء میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
امریکہ کی طرف سے پاکستان بھارت تعلقات میں گرم جوشی اور تجارت میں فروغ کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ فطری طور پر دونوں ممالک کے مابین بنیادی تنازع ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کی موجودگی میں ایسا ممکن نہیں۔ موجودہ حالات میں تعلقات اور تجارت کی حیثیت کچے دھاگے سے زیادہ نہیں ہے۔ بھارت میں ایک پٹاخہ پھوٹ جائے‘ اس کا الزام بھارت بلاتحقیق کے پاکستان پر لگا کر کبھی تجارت بند کر دیتا ہے‘ کبھی دوستی بس اورکبھی سمجھوتہ ایکسپریس۔ امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی سے انکار کیا ہے۔ اسے ثالثی کی پیشکش کس نے کی تھی؟ کم از کم پاکستان تو کسی ثالثی کے حق میں نہیں۔ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ امریکہ ان قراردادوں پر عمل کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ وہ اس پر مذاکرات کیلئے تیار ہی نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں اقوام متحدہ کی طرح ہمارے حکمرانوں کا کردار بھی قابل مذمت ہے جو اس مسئلہ کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ وزیر تجارت خرم دستگیر ایک محب وطن مسلم لیگی غلام دستگیر خان کے فرزند ہیں‘ جو بابائے قوم کے فرمودات’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ کو فراموش کرکے بھارت کے ساتھ تجارت کو عروج پر لے جانے کیلئے کمربستہ ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی تک بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا شہداء کے خون سے غداری ہے۔ کم از کم ایسا مسلم لیگ کی حکومت کو تو نہیں کرنا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ہی آپ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرکے کیلئے سرگرم رہیں گے تو اس پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دبائو کیا رہ جائیگا۔ امریکہ جیسے ممالک کو مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے خود حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دیرینہ مؤقف پر کاربند ہوں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...