خراب کارکردگی پر خیبر پی کے میں وزیر اور مشیر معطل

03 مئی 2014

وزیر اعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی اور مشیر یاسین خلیل کو برطرف کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر صنعت شوکت یوسفزئی اور وزیر اعلیٰ کے مشیر یاسین خلیل کو خراب کارکردگی پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
11 مئی 2013ء کو تحریک انصاف نے خیر پی کے میں ملنے والے مینڈیٹ کے تحت اتحادیوں کو ساتھ ملا کر صوبے میں حکومت قائم کی تھی جس میں جماعت اسلامی اور آفتاب شیر پائو کی جماعت قومی وطن پارٹی شامل تھی لیکن قومی وطن پارٹی کے بعض وزراء پر کرپشن کے الزامات کے باعث وزیر اعلیٰ خیبر پی کے نے ان کے وزراء سے قلمدان واپس لے لئے تھے۔ اب بھی تحریک انصاف کے بعض وزراء پر کرپشن کے الزامات ہیں جن کی تحقیق کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف خیبر پی کے میں اچھا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے اگر تحریک انصاف وزراء کو برطرف کر کے عوام کو حقیقی معنوں میں انصاف فراہم کر سکتی ہے تو یہ مستقبل کی سیاست میں اس کیلئے نیک شگون ثابت ہو گا۔ دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی اپنے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے۔ اب ایک طرف عمران خان خیبر پی کے میں حکومت بنائے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف وہی عمران خان مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں، اگر دھاندلی ہوئی ہوتی تو تحریک انصاف خیبر پی کے میں حکومت نہ بنا سکتی۔ خیبر پی کے کے پٹھانوں نے عمران خان کے نام کو دیکھ کر ووٹ دئیے تھے کہ پٹھان ہے جبکہ حقیقت میں وہ میانوالی کے پنجابی ہیں اس لئے عمران خان احتجاج اور دھرنوں کی سیاست سے بالاتر ہو کر سسٹم کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کریں، خامیوں کو دور کریں اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے اقدامات کریں، ان کے احتجاجوں سے جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اُتر سکتی ہے۔ لٰہذا عمران خان سیاسی نان ایکٹرز کے ساتھ مل کر جمہوریت کے خلاف کوئی اقدام نہ اٹھائیں۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...