آزادیٔ صحافت کا عالمی دن

03 مئی 2014

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت کا دن آج بھرپور انداز سے منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان بھر کی نمائندہ صحافتی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، ریلیوں اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
آزادیٔ صحافت کا عالمی دن 1991ء میں نمیبیا سے شروع ہُوا جبکہ 1993ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 3 مئی کو ہر سال اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا۔ آج سینئر صحافی سیمینار اور ریلیوں میں آزادیٔ صحافت کی اہمیت، افادیت اور صحافتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالیں گے۔ پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر ایک صحافی محنت کر کے حقائق کو سامنے لاتا ہے تو اسے نادیدہ قوتوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سابق آمر جنرل ضیاء کے دور میں صحافیوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑا اور یہ سلسلہ جمہوری حکومت میں بھی جاری ہے۔ حق اور سچ چھاپنے یا عوام کے سامنے لانے کیلئے صحافی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ کراچی میں بابر ولی خان بابر کی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ بابر کو قتل کیا گیا اس کے گواہان کو بھی گولیاں ماری گئیں اور اس کے وکلا کو بھی ہمیشہ کیلئے خاموش کرا دیا گیا۔ بلوچستان میں بھی صحافیوں کی جان و مال محفوظ نہیں جبکہ خیبر پی کے میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے حامد میر پر حملہ ہوا‘صحافی کے پاس قلم ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ عوام کی رہنمائی کرنے کیلئے میدان میں اُترتے ہیں لیکن سچ لکھنا اور چھاپنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے تاکہ صحافی عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے رہیں۔

ادب و صحافت کا امتزاج

صحافت میں ضیا شاہد میرا آئیڈیل ہے۔ لوگ اس کے خلاف بھی باتیں کرتے ہیں اور اُسے ...