بالِ جبریل

03 مئی 2014

تیرے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
بتا‘ کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے
سمندر سے مِلے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزّاقی نہیں ہے
(بالِ جبریل)