ہفتہ‘ 3 ؍ رجب المرجب ‘ 1435ھ ‘ 3؍ مئی 2014ء

03 مئی 2014

پاکستان دنیا کے سستے ترین ممالک میں سرفہرست ہے : عالمی بنک، ناروے، سوئٹزر لینڈ، ڈنمارک اور آسٹریلیا مہنگے ترین ممالک ہیں!
عالمی بنک کی یہ رپورٹ پڑھ کر تو کئی پاکستانی عالمی بنک کے کرتا دھرتائوں سے عرض کریں گے اگر ایسا ہی ہے تو ہمیں ڈنمارک، آسٹریلیا، سوئٹزر لینڈ بھیج دیں ہم وہاں کی گرانی برداشت کر لیں گے۔ ہم اپنے سستے ملک میں بہت زیادہ ارزانی سے پریشان ہیں کیونکہ یہاں تو بزبان فارسی ’’نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز‘‘ والی حالت ہر وقت طاری رہتی ہے اور ہم یہاں کی روز روز گرانی کی اُٹھنے والی لہروں سے تنگ آ چکے ہیں اور کسی پہلے سے مہنگے ملک میں جہاں آئے روز گرانی نہ ہو آرام سے رہنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں اتنی ارزانی راس نہیں آ رہی۔
دوسری طرف عالمی بنک کے مقابلہ میں امریکی تھنک ٹینک ایک اور ’’کتھا‘‘ سُنا رہا ہے  اور یقین نہیں آتا کہ اگر ہمارا ملک سستا ترین ہے تو پھر یہ افسردگی عام کیوں ہے، خوشی عنقا کیوں ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کے مطابق پاکستانی شہری بھی افسردہ ہیں خوش و خرم زندگی بسر نہیں کرتے۔ قابل رحم ممالک میں وینزویلا پہلے اور جاپان آخری نمبر پر ہے۔ اس نے جن 90 ممالک کی فہرست جاری کی ہے اگرچہ اس میں پاکستان بھی شامل ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ ہم اس فہرست میں بہت سے نامعقول ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ لگتا ہے یہ فہرست اقربا پروری یا میرٹ سے ہٹ کر سیاسی بنیادوں پر تیار کی گئی ہے ورنہ ہمارے ملک میں تو 90 فیصد لوگ افسردہ افسردہ لگتے ہیں، کسی کو نوکری کا مسئلہ ہے تو کسی کو نوکری سے مسئلہ ہے، کوئی بیمار ہے تو کوئی بیکار ہے، کسی کا کاروبار نہیں تو کسی کو کاروبار سے فرصت نہیں، کسی کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملتی اور کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اب اس قسم کے مسائل جہاں ہوں وہاں افسردگی نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا؟ کسی نے درست کہا تھا ہمارے ہاں گولی سستی اور روٹی مہنگی ہے۔ اور ہمیں روٹی چاہئے چاہے مہنگے داموں ملے، گولی نہیں چاہئے مفت ہی کیوں نہ ہو۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وینا ملک ہیومن رائٹس کمشن کی خیرسگالی سفیر مقرر !
فنکار تو ویسے ہی امن کے سفیر ہوتے ہیں اور وینا ملک تو بہت بڑی فنکارہ ہیں۔ پاکستان اور بھارت سے نکل کر ان کی شہرت عرب ممالک میں اور اب خیر سے یورپی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ چنانچہ اسی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ہیومن رائٹس کمشن نے خیرسگالی کا سفیر مقرر کر دیا ہے تو دیکھنا ہے اب وہ کہاں کہاں خیرسگالی مشن پر جاتی ہیں اور کس طرح خیر سگالی کے پیغام کو اسے پھیلاتی ہے۔
اب تو ان کے ساتھ ایک عدد ان کے شوہر نامدار بھی ہوں گے امید ہے وہ اس نیک کام میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ویسے خود گزشتہ روز وینا ملک نے شوبز کی دنیا بھی کام کرنے کا ارادہ کیا ہے اس طرح ان پر دُہری ذمہ داریاں عائد ہو جائیں گی۔ اب دیکھنا ہے وہ خیرسگالی کے کون کونسے امور میں دلچسپی لیں گے اور کس طرح کام انجام دیں گی اور فلمی مشاغل کیلئے وقت کہاں سے نکالیں گے۔ ویسے ان کے شوہر بھی خاصے خوش شکل ہیں اگر وینا چاہیں تو ان کی بھی فلمی دنیا میں رونمائی کرا سکتی ہیں۔ اس طرح فلمی دنیا کو ایک مکمل جوڑی مل جائے گی۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
حکومت نے مہنگی ترین بجلی خریدنے کی تیاری کر لی!
ایک برس حکومت کرنے کے بعد ہی لگتا ہے نواز شریف سرکار کا دل ’’راج پاٹ‘‘ سے بھر گیا ہے اور وہ واپس ’’بن باس‘‘ لینے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ زرداری حکومت کو بھی بجلی کا بحران لے بیٹھا تھا اور مہنگی بجلی نے ان کے دو وزرائے اعظم کی بھینٹ بھی لی مگر بلا ٹلی نہیںاور عام انتخابات میں عوام نے بجلی بحران کا بدلہ یوں لیا کہ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے والے ایک صوبے میں سمٹ کر رہ گئے جو ان کا اپنا صوبہ ہے اور وہاں کے عوام کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے احتیاطاً پہلے سے ہی بجلی پانی گیس کے ساتھ روٹی کپڑا اور مکان سے محروم رکھا تھا اور یہ پیش بندی انکے کام آئی ورنہ اگر اس صوبے کے عوام کو ان چیزوں کی لت پڑ چکی ہوتی تو وہاں سے بھی پیپلز پارٹی کا صفایا ہو جانا تھا۔
اب سولر انرجی کے منصوبوں کی آڑ میں موجودہ حکومت مہنگی ترین بجلی جو خرید رہی ہے اسکے کرنٹ سے تو پورا پاکستان لرز اُٹھے گا اور اس کے بعد شاید مسلم لیگی حکمرانوں کے چراغوں میں بھی روشنی نہیں رہے گی اور بجلی کے کھمبوں پر بلب کی بجائے شیر لٹکتے ہوئے نظر آئیں گے کیونکہ اب عوام کے پاس نہ مزید برداشت کا مادہ ہے نہ مہنگے بجلی بل ادا کرنے کی سکت ۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
مظفر گڑھ میں جمشید دستی کے بھتیجے کی طالبہ سے زیادتی، اہل علاقہ نے سر، مونچھیں اور بھنویں مونڈ دیں!
دوسروں کی آنکھ میں تنکا ڈھونڈنے والے کو اپنی آنکھ میں پڑا شہتیر نظر نہیں آتا۔ پارلیمنٹ لاجز میں دوسروں کے کمروں سے شراب کی خالی بوتلیں جمع کرنے اور رقص و سرور کی محفلوں کی خفیہ مووی بنانے میں مصروف جمشید دستی کو شاید فرصت ہی نہیں تھی کہ وہ کبھی کبھار اپنے گھر کا بھی جائزہ لیتے اور دیکھتے کہ وہاں کیا کچھ ہو رہا ہے۔
بہرحال اب ان کے بھتیجے کو جو شاید چاچا جان کی شہ پر کچھ زیادہ ہی اتراتا پھر رہا ہو گا، عوام کے ہتھے چڑھ گیا اور اس کے بعد مشتعل افراد نے حضرت کو خریداری کی رسید بنا کر وہ تحریر ثبت کی جو بوقتِ ضرورت کام آئے اور سند بھی رہے۔ اب ان کی وہ حالت ہے کہ بقول پروین شاکر …
میں اس کا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہَوا بہار کی ہے
اب دیکھنا ہے کہ جمشید دستی اس بارے میں کیا کہتے ہیں اور جن کے کمروں سے انہوں نے بوتلیں جمع کی ہیں اور فلمیں لی ہیں وہ کیا مل جُل کر ’’گناہ گار‘‘ کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلئے جلوس نکالتے ہیں یا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شاید انہی ’’گناہگاروں‘‘ کی بددعائوں کا اثر تھا کہ جمشید دستی کے گھر سے بھی ایک قصہ زبان زد عام ہُوا۔ اسی لئے کہتے ہیں دوسروں کی عیب جوئی سے پرہیز کرنا چاہئے۔