دین کی بنیادی باتیں

03 مئی 2014

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے،کہ اچانک سامنے سے ایک شخص نمودار ہوا، جس کے کپڑے بہت اجلے سفید ، اور بال بہت ہی سیاہ تھے۔ اس شخص پر سفر کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔لیکن ہم سب اس سے نا آشنا بھی تھے۔یہ (بڑے احترام سے) حاضر ین کے حلقہ سے گزرتا ہوا آگے بڑھا اور حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر دوزانو ہوکر بیٹھ گیا۔ اپنے دونوں گھٹنے حضور کے گھٹنوں سے ملا دیے ،اور اپنے ہاتھ رانوں پر رکھ دیے(یعنی شاگردوں کی طرح ادب سے بیٹھ گیا) اور عرض کیا ۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ارشاد فرمائیے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے تم یہ شہادت دوکہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، ماہ رمضان کے روزے رکھو اور استطاعت کی صورت میں حج بیت اللہ اداء کر و۔ اس نووارد سائل نے آپ کا جواب سن کر کہا۔آپ نے سچ فرمایا۔ (حضرت عمر فرماتے ہیں ) ہم کو اس پر بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی پوچھ رہا ہے اور خود ہی اس کی تصدیق بھی کر رہا ہے۔
اس کے بعد اس اجنبی نے عرض کیا مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : ایمان یہ ہے تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں ،اس کی نازل کردہ کتابوں ، اس کے رسولوں اور یومِ آخرت کو حق جانو اور حق مانو ، اور ہر خیر وشر کی تقدیر کو بھی حق جانو اور حق مانو (یہ سن کر بھی) اس نے کہا ہے آپ نے سچ فرمایا ۔اس کے بعد اس نے پوچھا ۔مجھے بتلائیے کہ احسان کیاہے؟آپ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ۔ اور اگر تم اس حال کو نہ پاسکو تو اللہ تعالیٰ تو تمہیں یقینا دیکھ رہا ہے۔ اس شخص نے عرض کیا ،مجھے (وقوعِ) قیامت کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : اس کے بارے میں جواب دینے والا سوال کرنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ اس نے کہا تو پھر مجھے قیامت کی کچھ علامات ہی بتا دیجئے ۔آپ نے فرمایا : جب باندیوں سے ان کی مالکہ (اور آقا) پید ا ہوں۔ اور جب تم دیکھو کہ برہنہ تن ، بر ہنہ پا اور تہی دست چروا ہے بڑی بڑی عمارتیں بنانے لگیں (اور ان پر اتر انے لگیں ، تو سمجھ لو کہ قیامت قریب ہے) ۔(اس استفسارکے بعد)وہ شخص (اجازت لے کر ) رخصت ہوگیا۔ میں کچھ دیر وہیں رہا ۔ تو حضور نے مجھ سے پوچھا ،اے عمر! تمہیں خبر ہے کہ سوال کرنے والا وہ شخص کون تھا؟ میں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور تمہاری اس مجلس میں اس لیے آئے تھے کہ تمہیں تمہار ادین سکھا دیں ۔(بخاری،مسلم)