بجلی چور اور ڈیفالٹرز

03 مئی 2014

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’اپنا احتساب کرلو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کردیا جائے۔ حضرت عمرؓ ہر وقت کوڑا اپنے ساتھ رکھتے اور موقع پر ہی سزا دے دیتے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ احتساب کے بغیر معاشرہ نشوونما نہیں پاسکتا۔ پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے اپنے نام کے عین مطابق شیروں جیسا قدم اُٹھاتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایوان صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، پاکستان سیکریٹریٹ، وزارت پانی وبجلی، نادرا، الیکشن کمشن، سی ڈی اے اور موٹر وے پولیس سمیت سینکڑوں سرکاری محکموں اور اداروں کے بجلی کنکشن کاٹنے کے احکامات صادر کردئیے۔ ظاہر ہے یہ قدم انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی آشیر باد سے ہی اُٹھایا۔ یہ سرکاری دفاتر اور ادارے واپڈا کے لاکھوں نہیں اربوں روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔ بزنس ریکارڈ ر کی رپورٹ کے مطابق جی ایچ کیو، فضائیہ، بحریہ اور آئی جی بھی واپڈا کے ڈیفالٹر ہیں گویا آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے۔حکمران اشرافیہ کی مکروہ ذہنیت بے نقاب ہوگئی ہے۔ احتساب وہ ہے جو اپنے گھر سے شروع کیا جائے۔ بڑے چوروں کو پکڑ لیا جائے تو چھوٹے چور ویسے ہی خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ عابد شیر علی نے طاقت کے مرکزوں پر ہاتھ ڈال کر ملک بھر میں یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ "Enough is Enough"  بہت ہوگئی اب کسی چور اور ڈیفالٹر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ عابد شیر علی کو اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں رکھے انہوں نے اقتدار کے ایوانوں کو بجلی کے جھٹکے دیکر پاکستان کے عوام کو خوش کردیا ہے۔ انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے قانون سازی   کرنیوالے اور ریاست کو چلانے والے ادارے نادہندہ نکلے اور پوری دنیا میں پاکستان کی ’’جگ ہنسائی‘‘ ہوئی۔ اُمید ہے انتہائی اقدام سے پہلے پانی اور بجلی کی وزارت نے اداروں اور محکموں کو نوٹس جاری کیے ہوں گے۔ سپریم کورٹ کی بجلی نصف گھنٹے کے بعد بحال کردی گئی۔ لیسکو کے ترجمان باسط خان کے مطابق سپریم کورٹ کے بجلی بلوں کی ادائیگی پی ڈبلیو ڈی کی ذمے داری ہے اس محکمہ نے ہنگامی طور پر بجلی کے بقایا جات ادا کردئیے اور سپریم کورٹ کی بجلی بحال کردی گئی۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا انتظامی فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے جملہ امور پر نظر رکھے تاکہ پاکستان کے انتہائی محترم ادارے کے وقار پر حرف نہ آئے۔
صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ایوان صدر اور پی ایم سیکریٹریٹ کے متعلقہ افسروں کے خلاف کاروائی کریں جو بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی کے ذمے دار تھے۔ اتنے بڑے اقدام کو محض دکھاوے کی کاروائی نہ بنایا جائے۔ وزیر مملکت عابد شیر علی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ واپڈا کے بجلی کے بلوں کے سلسلے میں 475ارب روپے کے بقایا جات ہیں۔ صوبہ سندھ نے 56 ارب روپے، پنجاب نے 3.4 ارب روپے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان نے 2.5 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ حکومت سندھ نے ایسے پانچ ہزار سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جنہوں نے غیر قانونی بجلی کنکشن حاصل کر رکھے ہیں۔ وزیرمملکت کیمطابق سندھ اور خیبرپختونخواہ میں نوے فیصد بجلی کنکشن غیر قانونی ہیں۔ گویا نوے فیصد بجلی چوری ہورہی ہے یہ شرح تشویشناک ہے۔ قومی المیہ یہ ہے کہ سیاسی اور سماجی طور پر بااثر افراد بجلی چوری کرتے ہیں جس کی قیمت عام صارفین کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ عوام 12 سے 18 گھنٹے تک طویل لوڈشیڈنگ بھگتنے پر مجبور ہیں۔ یہ سنگدلانہ ناانصافی ریاست کی کمزوری اور ناکامی کا سبب بن رہی ہے۔ عابد شیر علی نے بجلی چوری پر قابو پانے کے لیے دلیرانہ مساوی احتساب کا آغاز کیا ہے اسکی تعریف و توصیف ہونی چاہیئے تھی مگر افسوس اپوزیشن لیڈر نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عابدشیر علی کیخلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ان کو شکایت ہے وزیرمملکت نے اراکین پارلیمنٹ کو ’’بجلی چور‘‘ کہا ہے۔جناب خورشید شاہ نے ایک ہی سانس میں عابد شیر علی کو برطرف کرنے اور خواجہ آصف کو وزارت دفاع سے نہ ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عابد شیر علی کا بقول اکبر الہہ آبادی قصور یہ ہے۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
چھوٹا ہو یا بڑا جو بھی بجلی چوری کریگا اسے بجلی چور ہی کہا جائیگا۔ اگر کوئی منتخب نمائندہ بجلی چوری کرتا ہے تو وہ عوام سے بے وفائی کرتا ہے اور آئینی و قانونی حلف کو توڑتا ہے اسے تو بجلی چوری کرنے پر ڈاکو کہنا چاہیئے۔ جو اراکین اسمبلی پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح نہیں کرتے وہ قابل ستائش ہیں مگر قرضہ خور، ٹیکس چور، بجلی چور، جعلی ڈگری ہولڈر اور دوہری شہریت کے حامل ارکان قابل مذمت ہیں عدالتیں ان کو سزائیں بھی دیتی رہی ہیں۔ ایسے اراکین اسمبلی کی جگہ پارلیمنٹ نہیں جیل ہونی چاہیئے۔ جس طرح جنرل پرویز مشرف کے ذاتی افعال کا افواج پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اسی طرح بجلی چور اراکین اسمبلی کا پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اپوزیشن لیڈر چوروں کو پارلیمنٹ کے پیچھے چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ صوبہ سندھ اور صوبہ پختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ نادم ہونے کی بجائے احتجاج کررہے ہیں۔ سندھ اسمبلی نے تو لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی بندش کے سلسلے میں وزارت پانی و بجلی کے خلاف قرارداد بھی منظور کرلی ہے الزام یہ ہے کہ وفاق ان سے امتیازی سلوک کررہا ہے۔ بجلی چوروں کو پکڑنا وزرائے اعلیٰ کا آئینی اور انتظامی فرض ہے۔ سول سوسائٹی اور میڈیا کا فرض ہے کہ وہ بجلی چوروں کی سرپرستی کرنیوالوں کے احتجاج کو مسترد کردیں۔ عابدشیر علی کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔ یہ ہمارا سماجی المیہ ہے کہ طاقتور افراد بجلی چوری بھی کررہے ہیں اور اس پر سینہ زوری بھی کررہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے وزیر مملکت کے اقدام کو سراہا ہے جبکہ باقی اراکین اسمبلی خاموش ہیں۔ یہ خاموشی ان کی غیر اخلاقی ذہنیت اور سوچ کی غماز ہے۔ سرور کائنات حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ’’میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو اس پر حد جاری کردوں گا‘‘۔ مقتدر سیاسی اشرافیہ بجلی چوروں کی حمایت کرکے کونسی روایات پر عمل کررہی ہے۔ ان حالات میں معاشرے کے صالح افراد کیوں خاموش ہیں۔ ایک دانشور نے درست کہا تھا۔
ترجمہ: ’’پاکستان برے لوگوں کے تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے آزمائش کا شکار ہے‘‘۔
قتیل شفائی نے کہا تھا۔
دنیا میں قتیل اس سامنا فق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
پاکستان کی خاموش اکثریت اپنے رویے تبدیل کرے اور برائی و نا انصافی کیخلاف جہاد کا آغاز کرے۔ وفاقی حکومت کا ریاست کے اہم اداروں کیخلاف انتہائی اقدام عوام کے لیے حیران کن ہے۔ کیا اس اقدام کا مقصد سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ کیا حکمران عوامی انقلاب اور بغاوت سے خوفزدہ ہیں اور بڑے لوگوں کیخلاف کاروائی کرکے عوام کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کرے یہ اقدام نیک نیتی پر مبنی ہو اور ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ نہ ہو۔اگر کالا باغ ڈیم سیاسی عزائم کی نذر نہ ہوتا تو آج سارے پاکستان کے عوام لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نہ گزر رہے ہوتے اور انہیں بجلی بھی سستے داموں پر ملتی۔

4 بجلی چور پکڑے گئے

فیروزوالا (نامہ نگار) لیسکو کی خصوصی ٹیم نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ...