ہم 1930ء میں کھڑے ہیں!

03 مئی 2014

 آج کی دنیا 2014ء میں سانسیں لے رہی ہے۔ ٹھیک ایک صدی قبل جنگ عظیم اول کا آغاز ہوا تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا کا سیاسی نقشہ اتنے بڑے پیمانے پر تبدیل ہونیوالا ہے۔ اس پانچ سالہ جنگ میں انسانی تہذیب نے ہلاکت و بربادی کا سامنا جتنے بڑے پیمانے پر کیا اس کا مقابلہ ماضی کی اجتماعی ہلاکتیں اور بربادیاں بھی نہیں کرسکتی تھیں۔ یہ پہلی جنگ تھی جو عالمی سطح پر لڑی گئی اور جس میں بارود کی ہلاکت آفرین قوت اور تباہی و بربادی پھیلانے کی صلاحیت کو بھرپور انداز میں آزمایا گیا۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہر جنگ اپنی کو کھ میں نتائج کا کھٹا میٹھا یا کڑوا پھل لے کر آتی ہے۔ اس جنگ کے دوران ہی زار اور راسپوٹین کے روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا اور زار شاہی نے لینن کی قیادت میں سوویت یونین کا روپ دھار لیا۔سلطنت ِ عثمانیہ کے حصے بخرے ہوگئے اور مشرق وسطیٰ عثمانی کنٹرول سے نکل کر چھوٹی چھوٹی سی بادشاہتوں اور امارات میں بٹ گیا بلکہ امریکہ اور برطانیہ کے اشتراکِ فکر و عمل سے بانٹ دیا گیا۔ دنیا کو یہ جاننے میں دیر نہ لگی کہ اس ہلاکت آفرین جنگ کے پیچھے کوئی سیاسی یا اخلاقی اصول نہیں تھا ٗ صرف مشرق وسطیٰ میں دریافت ہونیوالی معدنی دولت پر کنٹرول یا قبضے کا مقصد تھا۔ اِس کنٹرول اور قبضے کا منصوبہ اگرچہ برطانیہ نے بنایا تھا اور اس ضمن میں لارنس آف عریبیا کانام ایک الف لیلویٰ شہرت اختیار کر گیا۔ مگر حقیقی فوائد امریکہ نے حاصل کئے۔ اس جنگ نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنا دیا اور اس جنگ کی بدولت بسمارک نے جس جرمنی کو دنیا کی عظیم ترین قوت بنانے کا خواب دیکھا تھا اس جرمنی کو ایسی خوفناک شکست اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا کہ اسکے لیڈر معاہدہ ء وارسیلز میں درج نہایت ذلت آمیز شرائط ماننے پر مجبو ر ہوگئے۔ پہلی جنگ عظیم 1919ء میں ختم ہوئی ۔ تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا اور دوسرا شروع ہوا۔1930ء میں جرمنی کی اقتصادی حالت کچھ ایسی تھی کہ ویانا میں ایک ڈالر کے عوض جرمن مارک بوریوں میں بھر کر دیئے جاتے تھے۔ دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے شاید ہی کسی قوم نے ایسی ذلت کا سامنا کیا ہو!۔ لندن نیو یارک پیرس اورکریملن ۔ غرضیکہ دنیا کے کسی بھی شہر میں کوئی ’’ مردِ دانش ‘‘ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تباہی و بربادی کی تصویر بنا جرمنی عنقریب ایک ایسی قوت بن کر ابھرنے والا ہے کہ اسے شکست دینے کیلئے تقریباً باقی ساری دنیا کو اتحاد کرنا پڑے گا۔پوری دنیا ایڈولف ہٹلر کے نام تک سے پوری طرح واقف نہیں تھی۔ اسکے بارے میں بیشتر تجزیہ کاروں اور مفکروں کی معلومات صرف اتنی تھیں کہ وہ ایک قوم پرست جرمن تھا جو کچھ عرصہ ویانا کے سٹیشن پر قلی کے طور پر کام کرتا رہا تھا ٗ جس نے ’’ میری جدوجہد ‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی اور جس کی سربراہی میں چند جنونی جرمنوںپر مشتمل ایک پارٹی بھی قائم کی جاچکی تھی۔
اگلے پندرہ برس کے دوران جو کچھ ہوا اس کا ذرا بھی اندازہ 1930ء میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر سرونسٹن چرچل نے لکھا۔ ’’ ہٹلر ایک جنونی تھا ٗ وحشی تھا اسے بالآخر ہم نے شکست دی لیکن رات کو جب میں سوتا ہوں تو یہ خیال میرے لئے سوہان روح بن جاتا ہے کہ جو جنگ ہم نے جیتی اس میں ایک جرمن کے بدلے میں چھ اتحادیوں نے جان دی۔ میں اس بات پر ہٹلر کو خراج تحسین پیش کئے بغیر نہیں رہتا کہ اس نے اتنے قلیل عرصے میں ایک مفلوک الحال ملک کو اتنی بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت بنا دیا۔‘‘
جیسا کہ میں نے اوپر تحریر کیا ہے ہر جنگ کی کوکھ سے تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم نے نوآبادیاتی نظام پر ضرب کاری لگائی۔ یورپ کی سامراجی طاقتوں کیلئے اپنی نوآبادیوں پر قبضہ قائم رکھنا محال ہوگیا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی کم ازکم جغرافیائی محکومی ختم ہوگئی۔ پاکستان کا قیام ایسے ہی حالات میں عمل پذیر ہوا۔ برطانوی صحافی لیونارڈ موسلے نے اپنی کتاب ’’ برطانوی حکومت کے آخری ایام ‘‘ میں لکھا۔’’1946ء کے آغاز پر کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ 1947ء کاسال برصغیر کی آزادی اور تقسیم کا سال بنے گا۔‘‘ چرچل نے ایک ا نٹرویو میں کہا کہ برصغیر کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ 1950ء سے پہلے ممکن نہیں ہوگا۔میں یہاں1938ء میں ہونے والی ایک کانفرنس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔اس کانفرنس کا انعقاد پیرس میں ہوا اور اس میں شرکت کرنے والوں میں بڑے بڑے عالمی شہرت رکھنے والے مفکر تجزیہ کار اور تاریخ کے نبض شناس تھے۔اسی کانفرنس میں سارترے نے یہ سوال شرکاء کے سامنے پیش کیا۔’’ آپ لوگ مستقبل میں کیا دیکھ رہے ہیں ۔؟‘‘ کسی نے کہا کہ مجھے جرمنی کی جارحیت نظر آرہی ہے۔ کوئی بولا کہ آنبوالے برسوں میں فسطائیت جمہوریت اور اشتراکیت کے درمیان زبردست کشمکش اور زور آزمائی نظرآئیگی۔ شرکاء میں ایک فرانسیسی مفکر بالاک بھی تھا۔ اس نے اٹھ کر کہا۔’’ میں جو کچھ کہنے والا ہوں اس پر آپ سب چونکے بغیر نہیں رہیں گے۔ میں مستقبل قریب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں وہ زیادہ واضح نہیں ہے لیکن آگے چل کر مجھے ایک بڑی سیاسی قوت کی حیثیت سے اسلام کا ظہور صاف نظر آرہا ہے ۔‘‘ یہ ایک چونکا دینے والی سٹیٹمنٹ تھی۔ اکثر شرکاء نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ مگر ایک امریکی نے سوال کیا۔ ’’ یہ کیسے ممکن ہے ؟‘‘  …’’میں نے یہ بات کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں کہی صرف آثار دیکھ کر کہی ہے۔ مجھے انڈونیشیا سے شمالی و مغربی افریقہ تک دکھائی دے رہا ہے کہ اس مذہب کے پیروکار ایک قوم میں ڈھلنے والے ہیں۔ میں نے اسلام کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں محروم طبقوں کیلئے اشتراکیت سے کہیں زیادہ کشش ہے۔‘‘
دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی کچھ اہم جنگیں ہوچکی ہیں۔ مثال کے طورپر کوریا کی جنگ ٗ ویت نام کی جنگ اور سب سے بڑھ کر افغانستان کی جنگ ٗ میری مراد یہاں اس جنگ سے ہے جسے ہم افغان جہاد کہتے ہیں۔ یہ جنگ بھی اپنی کوکھ میں نتائج لائی تھی۔ ایسے نتائج جس نے دنیا کا سیاسی و جغرافیائی نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا۔ سب سے اہم بات اس جنگ کی یہ تھی کہ سیکولر مغرب بھی اسے ’’ جہاد ‘‘ کا نام دینے پر مجبور ہوگیا۔ میں یہ بات ایک خاص تناظر میں لکھ رہا ہوں۔
حال ہی میں امریکہ نے اس خطے پر دو جنگیں مسلط کیں۔ ایک عراق میں  اور دوسری افغانستان میں ۔ دوسری جنگ کے متاثرین میں پاکستان سرفہرست ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اس جنگ کا حصہ بن چکا ہے اور یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں      ’’ اسلام ‘‘ کا اور ’’ جہاد ‘‘ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے۔ آج یہ ذکر شاید بہت زیادہ خوش آئند انداز اور معنوں میں نہیں ہورہا لیکن آنے والے کل کی ’’ کوکھ ‘‘ میں ہمارے لئے کیا پل رہا ہے کوئی بھی نہیں جانتا۔میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ نے اپنے سامراجی عزائم اور مقاصد کی خاطر راکھ میں دبی ہوئی چنگاریوں کو ہوا دے کر ایک ایسے مستقبل کی طرف تاریخ کا رخ موڑ دیا ہے جو سامراجی منصوبوں کا حصہ ہر گز نہیں تھا۔اگر پہلی جنگ عظیم کے فاتحین کو علم ہوتا کہ ’’ وارسیلز کا معاہدہ ‘‘ ہٹلر کے ظہور کا باعث بنے گا تو وہ کبھی جرمنوں پر ذلت آمیز شرائط مسلط نہ کرتے۔
جہاں تک اسلام کے ظہورِ ثانی کا تعلق ہے اسکے تمام اسباب موجود ہیں ٗ صرف عوامل نظر نہیں آرہے۔
622میں سرداران مکہ کو نظر نہیں آرہا تھا کہ آٹھ سال کے اندر اندر عبدالمطلب کے پوتے)ﷺ( مکہ میں اس شان سے داخل ہوگا کہ مکہ کے درودیوار ’’ مرحبا مرحبا ‘‘ کی آوازیں بلند کریں گے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...