’’قیادت‘‘ اور خوداعتمادی

03 مئی 2014

اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان میں وفاق اور تمام صوبوں میں جو حکومتیں برسراقتدار ہیں ان سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے عبارت ہیں جن کو عوام نے عام انتخابات میں اپنے ووٹوں سے منتخب کیا تھا۔ ان تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنے اپنے انتخابی منشور عوام کے سامنے پیش کئے گئے تھے، یقیناً عوام کی طرف سے ایسے منشوروں میں کئے گئے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اعتماد کے ساتھ انہیں حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا۔ اس عوامی مینڈیٹ کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہوں نے قیادت کا منصب سنبھالا، سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اکثریتی جماعت کی حیثیت سے وفاقی حکومت بنائی، وزارت عظمیٰ کا منصب ایک بار پھر اسکے سربراہ میاں نواز شریف نے سنبھالا۔
آخر وہ محرکات کیا تھے جن کے باعث پاکستان کے عوام نے قیادت کا تاج پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے منتخب کیا؟ اس حوالے سے اس جماعت کے ان وعدوں سے عبارت منشور کا ذکر کرنا ضروری ہے جو اسکے قائد میاں نواز شریف نے انتخابات سے قبل 7 مارچ 2103 کو ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں پیش کیا۔ اس منشور کا اولین نکتہ یہ تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اقتدار میں آنے کے بعد مزدور کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہوار کر دیگی۔ توانائی بحران کا دو سال کے اندر خاتمہ کرکے لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائیگی۔ برسراقتدار آنے کے چھ ماہ بعد بلدیاتی الیکشن کرائے جائینگے۔ ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرینگے ہر ضلع میں تمام سہولتوں سے آراستہ ہسپتال قائم کئے جائینگے، انہوں نے یہ سلوگن بھی دیا ’’ہم بدلیں گے پاکستان‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمارے منشور کا پہلا نکتہ معیشت کی بحالی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی شرح بے قابو ہو چکی ہے اس پر قابو پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 گھنٹے سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے صنعتی شعبے اور عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ بحران ناقابل علاج نہیں بلکہ حکومتی کرپشن (پیپلز پارٹی کی حکومت) اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘‘۔  مہنگائی پر قابو پانے، مزدور کی تنخواہ کم از کم پندرہ ہزار روپے اور پالیسی بناتے وقت بانیؒ پاکستان کے وضع کردہ اصولوں سے رہنمائی یقیناً یہی وہ نعرے اور وعدے تھے۔ عوام نے جن کے دام فریب میں گرفتار ہو کر موجودہ برسراقتدار قیادت کو اپنے لئے اور ملک کیلئے چنا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس منتخب قیادت کو ملک کے سیاہ وسپید کا اختیار سنبھالے ابھی صرف ایک سال کا عرصہ ہوا اور اس عرصے کے دوران اسکے اپنے وعدے کے مطابق بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا تھا جب کہ جہاں تک مزدور کی کم از کم تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کے وعدہ کا تعلق ہے۔ وہ تو اس اعلان کے تین ہی ماہ بعد وفا نہ کیا گیا گویا انتخابی منشور پر عملدرآمد پر بسم اللہ نہ پڑھی جا سکی۔ یہ قیادت کی فروگزاشت نہیں تھی۔ درحقیقت اس وعدے کا ایفا نہ ہونا ’’قیادت‘‘ میں اعتماد کا فقدان تھا۔ ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، سربفلک سیکرٹریٹوں میں ترقی یافتہ ممالک کے دفاتر سے کہیں زیادہ لاگت کی تزئین آرائش، وسیع وعریض کابینہ کے ارکان کی بیش قیمت گاڑیوں، وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی اور اسی قسم کے غیر ضروری بھاری مشاہرہ پانے والے ملازمین کیلئے قومی خزانے سے مختص بھاری رقوم کو ختم کرکے مزدوروں کی تنخواہیں بڑھانے کا وعدہ پووا کیا جا سکتا تھا کم از کم قیادت کے وعدہ کی لاج ہی رکھ لی جاتی مگر مشیروں، وزیروں نے یقیناً ایسی دلیلیں دی ہونگی کہ قیادت کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔
 انہیں یاد ہو گا کہ انہوں نے منشور پیش کرتے وقت کہا تھا کہ پالیسی وضع کرنے کے ہم بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے وضع کردہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کرینگے جس طرح پاکستان کی قیادت کی کرسی پر براجمان انہوں نے قوم سے کئے گئے دیگر وعدوں کو وفا کرنے میں تساہل سے کام کیا وہاں انہوں نے قائداعظمؒ کی ذات گرامی کی طرف بھی رہنمائی کیلئے خدا معلوم رجوع کرنے پر کیوں توجہ نہ دی؟
 بانیؒ پاکستان نے عوام کے ایسے ہی مصائب ومسائل کے حوالے سے 1943ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی تقریر میں فرمایا تھا… ’’جمہوریت ہمارے خون میں رچی بسی ہوئی ہے یہ ہمارے رگ وریشے میں پیوست ہے صدیوں کے نامساعد حالات نے اس خون کو محض سرد کر دیا ہے اور وہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے اس لئے صرف آپ کی شریانیں کام نہیں کر رہی ہیں۔ یہاں میں ان زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کر دینا چاہتا ہوں جو ہماری وجہ ہی سے پھل پھول رہے ہیں یعنی ایک ایسے نظام کے ذریعے جو انتہائی ناقص اور غلط ہے اور جس نے انہیں اس قدر مطلبی اور مفاد پرست بنا دیا ہے کہ انکے ساتھ اب کسی قسم کی بحث وتمحیص بھی فضول ہے۔ انکے خون میں عوام کا استحصال رچ بس گیا ہے وہ اسلام کے سبق کو بھول چکے ہیں ہوس اور خودپرستی میں یہ صرف خود فائدہ اٹھا رہے ہیں اور دوسروں کے مفادات کو انہوں نے پوری طرح سے پس پشت ڈال دیا ہے… میں متعدد دیہات میں گیا… وہاں ہمارے لاکھوں لوگوں کو دن میں ایک وقت کی روٹی پیٹ بھر کر میسر نہیں ہوتی کیا اسی کا نام تہذیب ہے؟ پاکستان کی غرض وغایت کیا یہی ہے؟… اگر پاکستان کی غرض وغایت یہی ہے تو پھر ہمیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے‘‘۔
موجودہ ملکی منتخب قیادت کو بلاخوف وخطر خوداعتمادی کے جوہر کو ملک وقوم کی بہتری اور خوشحالی کیلئے استعمال میں لانا ہو گا۔ تبھی وہ حضرت قائداعظمؒ کے سیاسی وارث ہونے کا حق ادا کر سکیں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر اسکے زرعی میدانوں سے حاصل ہونیوالی اجناس کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں، غریبوں کے بچے ملک میں پیدا ہونے والے پھلوں کیلئے ترستے ہیں۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کو ایک حد تک مٹا کر رکھ دیا ہے۔ یہ احساس جمہوری اداروں کے ارکان سمیت وزرائ، مشیروں، معاونین خصوصی قسم کی جو ’’تکون‘‘ کو نہیں ہو سکتا جو فاقہ کش غریب عوام کے ٹیکسوں سے عالیشان محل نما بنگلوں میں عیش وعشرت سے زندگی بسر کر رہے ہیں ایسے مخصوص طبقے کو تو آٹا، چاول، دالوں اور سبزیوں وغیرہ کی ہوشربا گرانی کا بھی کوئی پتہ نہیں ہوتا کیونکہ انہیں سبھی کچھ عوام ہی کے ٹیکسوں کی بدولت حاصل ہو رہا ہے۔ ایسے حالات کا موجودہ منتخب قیادت کو ادراک ہونا اسکے اپنے مفاد میں ہے۔ قیادت ’’خود اعتمادی‘‘ کیلئے عوامی فلاح کے ایسے اقدامات اٹھانے کی طرف توجہ ہی نہ دے بلکہ عملی قدم اٹھائے۔ جو صحیح معنوں میں ملک کے عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کا موجب ہو۔ سرکاری محکموں سے کرپشن کی لعنت ختم ہو، عوام کے کام صرف ایک ٹیلی فون کال پر متعلقہ محکمہ انجام دینے کا پابند ہو کسی چاپلوس، خوشامدی اور خودغرض حاشیہ نشین سے مشوروں کا سلسلہ منقطع کرکے ہی قیادت عوامی معیار پر پورا اتر سکتی ہے، اور بابائے قوم کے وارث کے طور پر تاریخ میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔