مزار میں تنہا چھوڑ دیا جائے‘ دروازہ کھلا تو آنکھیں وفور گریہ سے سرخ تھیں

03 مئی 2014

مولانا کوثر نیازی
میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ سکول کی لائبریری سے محمود خان بنگلوری (مرحوم) کی تالیف ”سلطنت خداداد“ نکلوا کر پڑھی‘ یہ سلطان ٹیپو شہید ؒ اور ریاست میسور پر اب تک لکھی جانے والی تمام کتابوں میں امتیازی مقام رکھتی ہے۔ اس وقت سے سلطان شہیدؒ کا نام حافظے میں ایسا پیوست ہوا کہ وقت کی الٹ پھیر اب تک اسے محو نہیں کرسکی۔ خیال تھا کہ کبھی ہندوستان جانا ہوگا تو سلطان شہیدؒ کے مزار پر بھی حاضری دوں گا۔ خدا کا شکر ہے کہ حالیہ سفر ہند میں اس کا موقع نکل آیا۔
رحمت اللعالمین کا نفرنس دہلی میں میسور کالج میں شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر سید منظور احمد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑے خلوص سے میسور آنے کی دعوت دی۔ ایک عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ میسور میں یوم اقبالؒ کی تقریب منعقد کریں اور اس میں فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال کو مدعو کریں۔ اصل میں میسور کے لوگ علامہ اقبالؒ سے سلطان ٹیپو شہیدؒ کے حوالے سے بھی خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ ایک زمانے میں میسور تشریف لے گئے تھے اور انہوں نے سلطان شہیدؒ کے مزار پر بھی حاضری دی تھی بعد میں اس حوالے سے ”جاوید نامہ“ میں حضرت علامہؒ نے سلطان کے کام اور پیغام کے بارے میں جو اشعار کہے وہ بھی اب تک یہاں کے اہل علم نے حرز جان بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ جب میں میسور پہنچا تو اس سلسلے میں بہت سی تفصیلات میرے علم میں آئیں۔
سلطان حیدر علی ابھی بادشاہ نہیں بنے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرزند عطا کیا، اس کا نام” فتح علی ٹیپو“ رکھا گیا ” ٹپن“ جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ تھے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ” ٹیپو“ اسی سے ماخوذ ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ ٹیپو کرناٹکی زبان میں (کرنا ٹک قدیم زمانے سے ریاست میسور کا نام چلا آرہا ہے) شیر کو کہتے ہیں ۔ سلطان حیدر کو شیروں سے بہت لگاﺅ تھا اور ویسے بھی ان کے بیٹے کو آگے چل کر شیر کی سی بہادری کا مظاہرہ کرنا تھا اس لئے اس کا نام ٹیپو رکھا گیا۔
ٹیپو چھ سات سال کے تھے کہ ایک دن سرنگا پٹم میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے(سرنگا پٹم ریاست میسور کا دارالحکومت تھا اور آج کل بھی کرناٹک کا مشہور شہر ہے) ان کے والد ان دنوں میسور کے راجہ کے زیر عتاب تھے۔ ایک مجذوب چلتے چلتے اس گلی میں رک گئے جہاں ننھا ٹیپو اپنے ہمجولیوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، فرمایا ”تمہارے ماتھے پر لکھا ہے کہ ایک دن تم اس سرزمین کے حکمران بنو گے جب وہ وقت آئے تو اس مقام پر ایک مسجد بنانا نہ بھولنا۔ ننھے ٹیپو کو یہ بات یاد رہی۔ سلطان بن کر اس نے ”مسجد اعلیٰ“ کے نام سے اسی مقام پر ایک عالی شان مسجد تعمیر کی یہ مسجد آج بھی موجود ہے اور جب میں سرنگا پٹم پہنچا تو اس مسجد میں دو نفل ادا کرنے کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی۔
سلطان حیدر علی کا انتقال ہوا تو انگریزوں کی سازشوں سے میسور میں ہرطرف شورش اٹھ کھڑی ہوئی۔ انگریز پہلے ہی اس کے باپ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ صلح کی دھجیاں بکھیر کر میدان جنگ میں اس کا سامنا کر رہے تھے۔انگریزوں کو ایک نئے معاہدہ کی رو سے سلطان ٹیپو ؒ کو اپنے باپ کی مملوکہ تمام ریاست کا واحد حکمران تسلیم کرنا پڑا۔
”تقسیم کرو اور حکومت کرو،، انگریزوں کا مشہور طریق کار ہے سلطان ٹیپو کے معاملے میں بھی وہ اس پر کار بند رہے۔ انگریزوں نے نفاق کے اےسے بیج بوئے کہ نظام اور مرہٹوں کو ٹیپو کے مقابلے میں اپنا حلیف بنا لیا۔ برطانیہ، مرہٹے اور نظام تینوں متحد ہو کر ٹیپو کے بالمقابل آگئے۔ ان کی فوج لاکھوں پر مشتمل تھی جبکہ سلطان کا لشکر صرف چالیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا۔ بنگلور کا کمانڈر کرشن راو¿ دشمن کے ہاتھوں بک گیا اور کسی جنگ کے بغیر بنگلور کو فتح کرنے کے بعد انگریزوں نے سرنگا پٹم کا محاصرہ کرلیا۔ محاصرہ نے طول کھینچا اور ٹیپو کی فوجوں نے قلعہ سے نکل کر حملہ آوروںکو کئی میل پیچھے دھکیل دیا تو انگریزوں نے تازہ دم ہونے کیلئے پھر صلح کا جال پھینکا۔ انہوں نے ٹیپو سے تین کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا طے پایا کہ جب تک یہ تاون ادا نہیں ہوتا سلطان کے دو صاحبزادے بطور یرغمال ان کے قبضے میں رہیں گے۔
1796ءمیں شہزادے واپس آگئے تو سلطان نے پھر سے جنگ کی تیاریاں شروع کیں، اس مرتبہ انہوں نے افغانستان، ایران، ترکی، فرانس اور کئی ہندوستانی حکمرانوں کے پاس اپنے سفیر روانہ کئے ان سفیروں نے 1798ءمیں واپس آکر سلطان کو مسلمان بادشاہوں کے مایوس کن جواب سے آگاہ کیا۔ صرف افغانستان کا جواب حوصلہ افزا تھا یا پھر فرانس کا جس نے اپنے دو سو فوجی ماہرین سلطان کی افواج کو تربیت دینے کیلئے روانہ کئے۔ افغانستان کو سلطان کی مدد سے باز رکھنے کیلئے برطانیہ نے اپنی سازشوں سے ایران اور افغانستان کو باہمی جنگ میں الجھا دیا۔ سلطان کا وزیراعظم میر صادق اور ان کا وزیر خزانہ پورانیہ در پردہ انگریزوں سے ملے ہوئے تھے۔ انہوں نے انگریزوں کی نقل و حرکت سے سلطان کو بے خبر رکھا تاآنکہ انگریزوں نے 22 فروری 1799ءمیسور پر حملہ کر دیا، 4مئی کو محاصرہ کے دوران سلطان کو اطلاع ملی کہ ان کا وفادار جرنیل سید غفار دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگیا ہے۔ وہ خود شمشیر بکف قلعہ کی بیرونی دیوار پر دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے نکل آئے۔ ایسے میں وزیر خزانہ پورانیہ نے چال چلی اس نے لڑتے ہوئے سپاہیوں کو اطلاع کر دی کہ خزانے سے تنخواہ دی جارہی ہے، سپاہی اپنی تنخواہ لینے دوڑے غداروں نے ادھر برطانوی لشکر کو اطلاع کردی۔ سلطان ٹیپو کے بعض ساتھیوں نے انہیں ہتھیار ڈالنے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا، اس پر سلطان نے جو جواب دیا وہ ہماری تاریخ آزادی میں سرعنوان بن کر چمک رہا ہے۔ سلطان نے کہا
”شیر کی زندگی کا ایک دن بھیڑ ( یا گیڈر؟) کی زندگی کے سو سال سے بہتر ہے“
اقبالؒ نے جاوید نامہ میں ان غداران ازلی کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دوزخ نے بھی ان ارواح رذیلہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ کہتے ہیں ہندوستان میں غلام کی تخم ریزی اور حقیقت انہیں ارواح خبیث نے کی ہے اگر وہ غداری نہ کرتیں تو انگریز کبھی کامیاب نہ ہوتے۔
 واقعی کرنا ٹک خطہءخداداد ہے موسم کے اعتبار سے بھی یہ پورے ہندوستان سے مختلف ہے، گرمیوں اور سردیوں کا موسم یہاں کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ ہر وقت بہار کا موسم رہا ہے جدھر دیکھو سبزہ ہی سبزہ پھول ہی پھول۔ میں نے زندگی میں بہت سے طویل سفر کار کے ذریعے کئے ہیں ایک سفر جو کبھی نہیں بھولے گا، بیروت سے دمشق کا ہے اور دوسرا بنگلور سے میسور تک کا ۔ میسور میں کوئی جگہ نہ ہوگی جو ، پھولوں سے خالی ہو خوبصورت گھنے درختوں کی چھاو¿ں دل میں ٹھنڈک ڈالتی چلی جاتی ہے۔ناریل کے درخت جنت کا بھی سامان ہیں اور کام و دہن کی تواضع کا قدرتی دستر خوان بھی۔
ساڑھے تین گھنٹے میں سرنگا پٹم آگیا جس کے بارے میں اقبال نے جاوید نامہ میں کہا ہے۔ ”ترجمہ“ ( میں نے اپنے آنسوو¿ں کے بیج جنوبی ہند میں بوئے جس کی خاک چمن سے لالہ وگل کی فصلیں لہلہا رہی ہیں، کاویری دریا ہر وقت سفر میں رہتا ہے اور میں نے اس کے تلاتم میں ایک دوسری ہی طرح کا شور محسوس کیا ہے)۔دریائے کاویری سرنگا پٹم کے باہر بہہ رہا ہے اور اس دریا کے تموج میں چشم زائر کو جو حسن نظر آتا ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے دریا میں ہو۔
میں خوش نصیب تھا کہ اس شہر کے زائرین کی فہرست میں اقبال کے ساتھ ساتھ میرا نام بھی شامل ہو رہا تھا۔ سلطان شہیدؒ کے مزار پر جانے کیلئے وضو کے علاوہ خوشبو لگانے کی بھی ضرورت تھی میں باوضو تو تھا مگر خوشبو میرے پاس نہ تھی کہ رستے میں لگا لیتا۔ ویسے بھی آج کل کے بنے ہوئے یوڈی کلون اور پرفیوم الکحل سے بنتے ہیں اور شہید ؒ کے مزار کیلئے وہ یوں بھی نامناسب رہتے۔ چنانچہ صندل کی لکڑی کا بنا ہوا ہار جو مجھے یہاں پہنایا گیا تھا ،اس مقصد کیلئے عطیہ الٰہی سے کم نہ تھا۔
یہ مزار خود سلطان شہید ؒ نے تعمیر کرایا تھا اور شروع میں اس میں ان کے والد ماجد سلطان حیدر علی اور ان کی والدہ ماجدہ فاطمہ مدفون تھیں۔ یہیں مسجد اقصٰی کے نام سے ایک خوبصورت مسجد بھی ہے شہادت کے بعد سلطانؒ کو بھی اپنے عظیم ماں باپ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ عمارت اسلامی فن تعمیر کا حسین نمونہ ہے اور اس کے دروازوں پر بڑے پرمعنی اشعار تحریر ہیں، سلطان کے والد حیدر تھے اور ماں فاطمہ، اس مناسبت سے شہید ٹیپو کو ان اشعار میں بڑا موثر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ مشرقی دروازہ پر جو قطہ درج ہے وہ ان کے والد ماجد کی شان میں ہے۔
در ملک حجاز از علی حیدر
مفتوح شدہ    ہفت قلاع خیبر
زیں حیدر دکنی و دل کرناٹک
گشتند مطیع یک خدیو کشور
( ملک حجاز میں حضرت علی مرتضٰی کے ہاتھوں خیبر کے سات قلعہ فتح ہوئے اور دکن کے اس حیدر کی وجہ سے کرناٹک کی تمام ریاستیں ایک امیر سلطنت کے زیر نگیں آ گئیں)
دوسرے دروازے پر ٹیپوؒ کیلئے کسی شاعر کا قطعہ درج ہے
آں سید شہدائے عرب سبط نبی
لخت جگر فاطمہؓ و جان علیؓ
از فاطمہ و حیدر دکنی، ٹیپو
سلطان شہیداں شدہ و جان ولی
( حضرت فاطمہؓ اور جناب علی ؓ کے لخت جگر اور سبط نبی(جناب حسینؓ) سید شہدائے عرب ہوئے اور دکن کے حیدر اور فاطمہ کے فرزند (ٹیپو) شہیدوں کے بادشاہ اور اولیاءکی جان بن گئے)
 یہاں دوستوں نے بتایا کہ جب حضرت علامہ اقبالؒ مزار شہید ؒ پر حاضر ہوئے تھے تو انہوں نے حکم دیا کہ دروازے بند کر دیئے جائیں انہیں تنہا مزار کے پاس چھوڑ دیا جائے۔ وہ کافی دیر وہاں رہے جب دروازہ کھلا تو ان کی آنکھیں وفور گریہ سے سرخ تھیں۔ لگتا ہے کہ جاوید نامہ میں ٹیپو شہید کے ساتھ آپ کی گفتگو اور دریائے کاویری کا پیغام انہی لمحوں کے القا کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور ممتاز عالم دین اور صوفی حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے بھی مزار شہید ؒ پر مراقبہ کیا تھا اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن ندویؒ نے بھی کچھ وقت یہاں تخلیہ میں گزارا اور ان حضرات پر بھی جذب و کیف کا ایک عجیب عالم طاری ہوا۔
مزار شہید ؒ پر آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، اس میں مسلم بھی تھے اور غیر مسلم بھی، یہاں کے غیر مسلم بھی سلطان شہید کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں اور انہیں مجاہد آزادی تسلیم کرنے کے علاوہ ایک خدا رسیدہ بزرگ بھی مانتے ہیں۔ سلطان دنیا کے وہ واحد بادشاہ ہیں جن کا باقاعدہ سالانہ عرس ہوتا اور اس میں تقریباً پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک ہر مذہب و ملت کے افراد شریک ہوتے ہیں۔ اقبال نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ
آں شہیدان محبت را امام
آبروئے ہند و چین و روم   و شام
نامش از خورشید مہ تابندہ تر
خاک قبرش از من و تو زندہ تر
رفت سلطان زیں سرائے ہفت روز
نوبت او در دکن باقی ہنوز
( سلطان ٹیپوؒ جو شہیدان محبت امام اور ہندو چین روم اور شام کی آبرو ہیں۔ ان کا نام چاند سورج سے بڑھ کر روشن ہے اور ان کی قبر ہم (نام نہاد) جیتے جاگتے انسانوں سے کہیں زیادہ زندہ ہے وہ خود اس سرائے دنیا سے کوچ کرگئے لیکن جنوبی ہند میں (دلوں کی سلطنت میں ) اب تک ان کا سکہ چلتا ہے)۔