سلطنت خداداد میں جاگیرداری سسٹم ختم کرنے والا”مسلمان حکمران“

03 مئی 2014

حافظ محمد اقبال جاوید
دنیا کی کوئی خودار رعایا اور اس کے غیرت مند حکمران کسی طور پر بھی برداشت نہیں کرتے کہ ان کی دھرتی ماں پر تجارت کے بہانے دیار فرنگ سے آ کر قبضہ جمائے اور ان کی صنعت و حرفت اور خوشحالی کو افلاس میں بدل دیں۔ سلطان ٹیپو شہید اور اس کے بہادر باپ حیدر علی کا نام دنیا کے غیرت مند حکمرانوں کی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ انہوں نے اپنی قوم وطن معیشت کو آزاد کروانے کے لئے آخری سانس تک جدوجہد کی حتیٰ کہ شہادت کے مقام بلند تک جا پہنچے۔
اپنے بہادر باپ حیدر علی کے انتقال کے بعد سلطان ٹیپو 1782ء میں میسور کا حکمران بن گیا۔ اس کی سلطنت مغرب میں کرناٹک مالا بار جنوب میں دکن شمالی میں بنگلور اور مشرق میں میسور اور سرنگا پٹم تک پھیلی ہوئی تھی۔ اقتدار اعلیٰ سنبھالتے ہی سلطان ٹیپو نے حلف اٹھایا کہ جب تک وہ قابض فرنگیوں کو اپنی مقدس سر زمین سے نکال باہر نہیں کرے گا تب تک قیمتی لباس پہنے گا نہ تخت پر سوئے گا۔ اس نے اپنی رعایا کو حکم دیا کہ وہ غیروں کے ملک سے آئی ہوئی کسی بھی چیز کوہاتھ تک نہ لگائے۔ سلطان ٹیپو کی غیرت مندی کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ کپڑا اور عیش و عشرت کی چیزیں تو درکنار اپنے دستر خوان پر غیر ملک کا نمک تک گوارہ نہ کرتا تھا۔ سلطان ٹیپو بیک وقت ایک سچا محب الوطن ہندوستانی اور ساتھ ہی ساتھ ایک سچا اور پکا مسلمان بھی تھا۔ اس نے اپنی ریاست میسور کا نام سلطنت خداداد میں بدل دیا تھا۔ ہندوستان کی تاریخ میں وہ پہلا مسلمان حکمران تھا۔ جس نے اپنی سلطنت خداداد میں جاگیرداری سسٹم کو ختم کر کے وڈیروں کے ظلم و ستم سے کسانوں کو نجات دلا ئی اور انہیں خوشحال بنایا۔ یہی وجہ تھی کہ نظام اور مرہٹے اس کی جان کے دشمن ہو گئے تھے۔
انگریز مورخ میجر ڈبلیوٹامس اپنی کتاب Empire of Asia کے صفحہ 210 پر لکھتا ہے کہ ٹیپو کے زیر حکمرانی سلطنت خداداد تمام ہندوستان میں سب سے زیادہ سرسبز اور اس کی رعایا سب سے زیادہ خوشحال تھی۔ مشہور فرانسیسی سیاح کیپٹن لٹل اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے کہ
”جب ہم ٹیپو کے ملک سلطنت خداداد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ صنعت و حرفت کی ترقی کی وجہ سے نئے نئے شہر آباد ہوتے جا رہے ہیں۔ رعایا اپنے کاموں میں مصروف و منہمک ہے۔ زمین کا کوئی بھی حصہ بنجر نظر نہیں آیا۔ قابل کاشت زمین جس قدر بھی مل سکتی ہے اس پر کھیتیاں لہلہا رہی ہیں۔ ایک انچ زمین بھی بے کار نہ تھی۔ رعایا اور فوج کے دل میں بادشاہ کا احترام اور محبت اتم درجہ موجود ہے۔ فوج کی تنظیم اور اس کے ہتھیاروں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ یورپ کے کسی مہذب ملک کی فوج سے کسی لحاظ سے پیچھے نہیں ہے۔ میسور آرکولاجیکل رپورٹ 1917ء کے مطابق سلطان ٹیپو کا سلطنت خداداد میں رہنے والے غیر مسلموں‘ ہندو‘ سکھ‘ پارسی‘ عیسائی اور بدھوں کے ساتھ اس قدر احسن برتاﺅ تھا کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں سلطان کی بھیجی ہوئی کوئی نہ کوئی چیز آج بھی موجود ہے۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے سرنگا پٹم سے واپسی پر سلطان ٹیپو شہید کی عظمت کو اپنی کتاب جاوید نامہ میں شائع کر کے شہرت و غیرت کو اور نمایاں کردیا ۔
مشرق اندر خواب اور بیدار بود (اقبال)
 سلطان ٹیپو کا دور حکمرانی اٹھارویں صدی کا آخری زمانہ ہے۔ تجارت کے بہانے اور ہندوستان وارد ہونے والے فرنگی ایسٹ انڈیا کمپنی بنا کر اپنا قصر حکومت تعمیر کر رہے تھے۔ سلطان ٹیپو اس خطرے کو پھانپ چکا تھا۔ اس نے ہندوستان کے تمام حکمرانوں نظام حیدرآباد، مرہٹے‘ راجپوت‘ سکھ بلکہ گورکھوں تک اس خطرہ کی جانب توجہ دلائی کہ اپنے تمام اختلافات کو ختم کر کے قابض فرنگی کے مقابل متحدہ ہو جائیں۔
ادھر فرنگی یہ جان چکے تھے کہ سلطان ٹیپوکو شکست دینا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے خفیہ سازشوں کے ذریعے مراعات اور اقتدار کا لالچ دے کر نظام دکن اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ 1799ء میں میسور کی چوتھی جنگ شروع ہونے سے قبل سلطان ٹیپو نے اپنے آخری خطاب میں کہا کہ سطنت خداداد سب رعایا کی ہے۔ ما بدولت نے سات سال تک بہت کچھ اس کی نگہداشت کی‘ تدبیریں کیں لیکن اکابرین سلطنت ہر وقت درپردہ اس کی تباہی میں مصروف رہے۔
جنگ شروع ہوتے ہی نظام اور مرہٹے انگریزوں سے مل گئے۔ سلطان شہید کے سپہ سالار کھنڈے راﺅ اور میر صادق غداری کرکے فرنگی انگریزوں کے طرفدار ہو گئے۔ سلطان شہید اپنے وفادار ساتھیوں سمیت سرنگا پٹم کے قلعہ میں محصور ہو کر رہ گیا۔ ٹیپو سلطان جوانمردی سے انگریزی فوج کا مردانہ وار مقابلہ کرتا رہا۔ میر صادق جیسے ضمیر فروش غدار نے انگریزی فوج کو سرنگا پٹم کے قلعہ کے اندر داخل ہونے کے لئے فصیل کے کمزور حصہ کے بارے میں اسے بتا دیا۔ سلطان ٹیپو کے ایک ساتھی راجہ خان نے سلطان سے کہا کہ وہ انگریزوں کے آ گے ہتھیار ڈال دے۔ اس طرح اس کی جان بخشی ہو جائے گی۔ سلطان ٹیپو شہید نے جواب دیا۔ ”گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔“
4 مئی 1799ء کو عین مغرب کی نمازکے قریب ملت اسلامیہ کایہ فرزند عظیم تین اطراف سے انگریزی فوج کے گھیرے میں آ گیا۔ اس طرح امت مسلمہ کا یہ بطل جلیل اوالعزم‘ بہادری اور غیرت مندی کا پیکر‘ آزادی کا پرستار حکمران شہادت کے بلند مرتبہ مقام تک جا پہنچا۔
مر کے جی اٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام
گرچہ ہر ذی روح کی منزل آغوش لحد
(علامہ اقبال)

ایک سلطنت

‘ آپ نے ایک سلطنت اپنے لئے بنائی ہے‘ ایک وسیع و عریض سلطنت یہ سب آپکی ہے۔ ...