چلو ایک لاکھ ہی سہی....!

03 مئی 2011
حافظ محمد عمران
وقت نیوز کے کھیلوںکے پروگرام گیم بیٹ کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے وفاقی وزیر کھیل انجینئر شوکت نے پاکستان کی تاریخ کے پہلے گولڈ میڈلسٹ پہلوان دین محمد کی مالی مدد کااعلان کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کی منظوری دی۔
حکمرانوں کی ناانصافیوں سے دلبرداشتہ دین محمدگاﺅں رتوکے اعوان کے ایک خستہ حال مکان میں زندگی کے آخری ایام گزار رہا ہے، کا شہر کی طرف رخ کرنے کو دل نہیں کرتا۔ وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ میں جنوری 2011ءمیں دین محمدنے انٹرویو میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوںکی تفصیلات بیان کی تھیں۔ اس خصوصی پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن نے اس حوالے سے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔ عارف حسن کی ہدایت پر ہی پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل چودھری محمد اصغر نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ کو پاکستان کا نام روشن کرنے والے پہلوانوں کی مالی مدد کی درخواست کی تھی جس میں 1962ءمیں پرتھ میں ہونے والی ایشین گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پہلوان محمد نیاز کی مالی مدد کی بھی درخواست کی گئی تھی جو غالباً کہیں کاغذوں میں گم ہو چکی ہوگی۔ اگر نہیں ہوئی تو پھر اس درخواست کا ابھی تک کچھ بنا کیوں نہیں ہے؟ جبکہ پہلوان محمد سعید نے 1962ءکی ایشین گیمز میں سلور میڈل، 1966ءکی کنگسٹن جمیکا کھیلوں میں برانز میڈل اور 1976ءکی ایڈنبرگ سکاٹ لینڈ ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا ان کے کیس بھی ڈی۔جی، بی۔ایس۔بی کی نظرکرم کے محتاج ہیں۔ خواہش ہے کہ ملک کا نام روشن کرنے والوں کے ناموں پر ان کی نوازش ہو جائے تاکہ زندگی کے آخری ایام میں انہیں کچھ سکون میسر آسکے۔ ویسے تو دین محمد کیلئے ایک لاکھ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے پھر بھی نیکی کی شروعات تو ہو۔ بھارت سے ہارنے والی کرکٹ ٹیم پر عنایات کرنےوالے حکمران پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کے بارے میں بھی اپنے دل میں نرم گوشہ پیدا کریں۔

چلو بھر پانی

سبز سفید مہکتے قومی پرچم پر چمکتے چاند ستارے میں لپٹا ،کپتان محمد طحہ خان کا ...