ظالم و مظلوم : لازم و ملزوم!

03 مئی 2011
ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے اشتراک اقتدار پر بہت دنوں سے گفتگو ہو رہی تھی۔ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ ایسی بات ہاتھ آئی ہے تو پھر جب تک سننے والے ہاتھ نہ جوڑ لیں خاموشی نہیں ہوتی۔ اس کالم میں کچھ دوستوں کی باتوں پر بات ہو گی۔ مجھے دکھ یہ ہے کہ مرشدومحبوب مجید نظامی کی قیادت میں مسلم لیگیوں کے اتحاد کی بات بڑھی ہوتی تو آج یہ سیاسی جوڑ توڑ اور سرکاری افراتفری کی فضا نہ ہوتی۔ جناب پرویز رشید نے کہا ہے کہ نئے حکومتی اتحاد کا حصہ نہ بننے والے ق لیگیوں کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ وہ ہم سے رابطہ کریں۔ یعنی سودا کریں۔ گورنر راج کے دوران بھی ق لیگ اور پیپلز پارٹی میں رابطے ہوئے تھے تو ن لیگ والوں کے لئے اتنی پریشانی نہ تھی۔ اب تو وہ واقعی کچھ کچھ ڈرے ہوئے ہیں۔ ورنہ شہباز شریف کو رات اسلام آباد میں گزارنے کی کیا پڑی تھی۔ سنا ہے انہوں نے جنرل کیانی سے ملاقات کی ہے۔ جب کہ چودھری نثار ایجنسیوں کے کردار پر کیچڑ اچھالتا ہے اور رابطے بھی خود رکھتا ہے۔ اس حوالے سے نوازشریف کایہ بیان غیر ضروری ہے کہ دن کی روشنی میں ملنا چاہئے تھا۔ وہ یہ بات فون پر بھی کر سکتے تھے۔ وہ غصے میں ہیں یا کوئی اور چکر ہے۔ پہلے بھی شہباز شریف جنرل کیانی سے چودھری نثار کے ساتھ مل چکے ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں۔ نواز شریف ناراض ہوئے تھے۔ دوسری ملاقات ان کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ اب بھی چودھری نثار کا کچھ کردار ضرور ہو گا۔ وہ ایجنسیوں کے خلاف بھی ان سے پوچھ کر بات کرتا ہے۔ یا نہیں؟ چودھری صاحب نے جنرل مشرف کو نواز شریف سے آرمی چیف بنوایا تھا۔ اب بھی ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے وہی نواز شریف کے خلاف بیان بازی کے لئے فضا ہموار کرتا ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ چودھری نثار کے ہوتے ہوئے ن لیگ کی قیادت کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ ....ع
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
سنا ہے اس کے رابطے امریکہ سے ہیں۔ امریکہ سے رابطے پاکستان میں ہر کسی کے ہیں۔ چودھری نثار صدر جنرل ضیا کی مجلس شوریٰ میں کم عمر رکن تھا۔ جب ضیا، جونیجو کشمکش شروع ہوئی تو ضیا کے ساتھی کابینہ سے نکل آئے تھے۔ مگر چودھری نثار موجود رہا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی ضرورت کہاں ہے اور اسے کیا بات کرنی ہے۔ چودھری نثار نے یہ بیان کس کے کہنے پر دیا ہے کہ موجودہ حکومتی اتحاد آئی ایس آئی نے بنوایا ہے۔ آئی ایس آئی نے آئی جے آئی بھی بنوایا تھا۔ اس میں چودھری نثار بھی شامل تھے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل قوم سے اس کے لئے معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ چودھری نثار نے کہا ہے کہ چودھری شجاعت کو چیئرمین سینٹ بنانے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ فاروق اے نائیک توجہ کریں اس سے زیادہ رضا ربانی دوبارہ احتجاجاً وزارت سے الگ ہو جائیں۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا وزیر خارجہ بن رہی ہیں اور ماروی میمن کو سپیکر بلکہ لاﺅڈ سپیکر بنایا جا رہا ہے۔ یہ سچ ہے تو یہ خبریں چودھری نثار کو کہاں سے ملتی ہیں؟
سابق ایم ایم اے کے رہنما سینیٹر ساجد میر نے کہا ہے کہ ق لیگ اور پیپلز پارٹی میں کرپشن قدر مشترک ہے۔ جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں حکومتی اتحاد تھا تو کیا قدر مشترک تھی یہ کس کی میڈیا ٹیم تھی جس نے زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ اور پھر ترقی دے کر ہنڈرڈ پرسنٹ بنا دیا تھا۔ پھر اس کے ساتھ مل کر حکومت بھی بنا لی۔ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا زرداری کے گناہوں میں نواز شریف بھی برابر کا شریک ہے۔ نواز شریف نے اس نظام کو بچانے کے لئے جو کیا وہ چودھری شجاعت کر رہا ہے تو کیوں بڑا گنہگار ہے؟
مونس الہی کی رہائی اور بجٹ کی منظوری کی بہت بات ہو رہی ہے۔ پہلے تین سال کے بجٹ کس نے منظور کرائے۔ جب چودھری پرویز الہی اپوزیشن لیڈر تھا تو فرینڈلی اپوزیشن کا الزام نہ لگا تھا اپوزیشن لیڈر چودھری نثار زرداری حکومت میں وزیراعظم گیلانی کا سینئر وزیر تھا چودھری پرویزالہی بھی سینئر وزیر ہو گا جو اعتراض چودھری پرویزالہی پر ہو رہا ہے۔ اس کی زد میں چودھری نثار بھی آتا ہے۔ مونس الہی کے لئے پیر پگارا نے کہا ہے کہ وہ حکومتی اتحاد کے باوجود نہیں چھوٹے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اتحاد میں یہ معاملہ زیر بحث ہی نہیں۔ اب عدالتوں کی مرضی ہے تو کیا عدالتیں بھی اس حکومتی اتحاد سے متاثر ہوں گی؟ مونس الہی پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہو گا مگر الزام تو آیا وہ جیل کی ہوا بھی کھا رہا ہے تو اب وہ لیڈر بن گیا ہے۔ اس کے لئے اس کو کس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ عدالت کے احاطے میں اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور ہو رہی تھیں تو اقتدار کی دیویاں بھی قربان ہونے لگیں یہ کیا سیاست ہے۔ یہ انتقامی سیاست ہے یا فرینڈلی سیاست ہے۔؟
صدر زرداری اور چودھری پرویزالہی دونوں نے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ جو سلوک نواز شریف نے کیا ہے۔ رعونت اور فرعونیت کے مقابلے میں ہم پنجاب حکومت کے لئے خطرہ نہیں بنیں گے۔ مفاہمتی گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ ہی رہیں گے۔ لیکن ڈاکٹر بابر کا نام نامی ہی آ رہا ہے کہتے ہیں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہو گی مگر کوئی گھوڑا اپنے طور پر ہمارے اصطبل میں آ گیا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری اصطبل میں گدھے، گھوڑے اکٹھے بندھے ہوتے ہیں کچھ خچر بھی ہوتے ہیں یا ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں خچر گھوڑوں کے کُھسرے ہوتے ہیں۔ خطرہ عطا محمد مانیکا سے نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہر علی جاوید سے ہے۔ وہ امریکہ میں رہا ہے۔ ان کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے۔ اسے چودھری نثار نے یونیفکیشن بلاک کا صدر بنوایا ہے۔ فارورڈ بلاک میں بیک ورڈ بلاک بنوانے کا کام ڈاکٹر طاہر علی جاوید کرے گا جو سٹیج پر نواز شریف اور چودھری نثار کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یونیفکیشن بلاک کا اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میں بنوانے کا کام مکمل تھا۔ ڈاکٹر طاہر علی جاوید کو رانا اقبال نے مبارکباد بھی دے دی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو زیادہ گہری فرینڈلی اپوزیشن سامنے آتی۔ نواز شریف نے پنجاب حکومت سے پیپلز پارٹی کے وزیروں کو نکال باہر کرنے کی ہدایت کر دی۔ ورنہ ان بے اختیار وزیروں سے شہباز شریف کو کوئی مشکل نہ تھی۔ ن لیگ کی سیاست میں تدبر کے لئے بھی تکبر سے کام لیا جاتا ہے۔ قاتل لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی نے اتحاد کر لیا تو مقتول لیگ سے بھی اتحاد کیا تھا۔ غیر سیاسی ماحول میں خاندانی جھگڑوں میں دونوں طرف سے قتل ہوتے ہیں اور صلح ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن اپنی بیٹیوں کے رشتے بھی کر لیتے ہیں۔ تہذیب و تمدن میں یہ بات جائز ہے تو سیاست و حکومت میں کیوں نہیں۔ کہتے ہیں کل کے دشمن آج کے دوست اور ظالم مظلوم ہو جاتے ہیں اور مظلوم ظالم۔ زندگی میں ظالم و مظلوم تو لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ بس یہ توقع کرنا چاہئے کہ کسی حکومتی اتحاد سے لوگوں کو بھی فائدہ ہو۔ وزارتیں اور مراعات آپس میں ہی نہ بانٹی جاتی رہیں۔ لوگوں کو بھی کوئی آسودگی اور خوشحالی ملے۔ تکلیف کو ریلیف میں بدلنے کے لئے بھی اتحاد ہونا چاہئے۔ کیا آخری دو سال پہلے تین سالوں سے بہتر ہوں گے۔ ؟ !

ظالم اور مظلوم

کسی سیانے کا کہنا ہے کہ جب انسان انسانیت ترک کر دے تو اسے خوف سے بچانا مشکل ...