کیا ہم یہ کام کر لیں گے؟

03 مئی 2011
”خالد احمد بول رہے ہیں؟“ موبائیل پر ایک ٹی وی اینکر کی چمکتی ہوئی آواز اُبھری تو ہم نے بجھے بجھے نیندرائے نیندرائے لہجے میں کہا، جی حضرت! خالد احمد ہی بول رہا ہوں!“ تو وہ بولے‘’آپ کیا کہتے ہیں؟ اس خبر پر؟“، ....’کس خبر پر؟، ہم نے پوچھا تو وہ بولے،’ مولانا! اسامہ بن لادن مر گیا!‘ تو ہم بے اختیار پوچھ بیٹھے‘’پھر مر گیا!‘ تو انہوں نے ہنستے ہوئے یہ کہہ کر فون بند کر دیا‘ ’آپ فریش ہو لیں، میں آپ سے تھوڑ دیر بعد دوبارہ بات کروں گا!‘ ہم آنکھیں ملتے خواب گاہ سے باہر آئے تو ہماری شریک حیات نے چائے کا کپ بنا کر ہمارے سامنے رکھ دیا اور کاکول روڈ پر ہیلی کاپٹر گرنے اور جانی نقصان کے احتمال کی خبر سنا دی، یہ آج صبح کے نوائے وقت کے صفحہ ا¶ل کی خبر تھی! ہم نے ٹی وی آن کیا تو خبر موجود تھی اسامہ بن لادن کی ہلاکت’‘ یہ ایک اہم خبر تھی کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک انٹرویو میں کہہ چکی تھیں’‘
THIS IS THE SAME PERSON WHO MURDERED OSAMA!
اتنی باخبر قائد کے منہ سے یہ الفاظ سننے کے بعد ہم تو ’اسامہ‘ کے لئے ایک ’قصہ پارنیہ‘ میں ایک ’باب‘ کھول کر بند کر چکے تھے! مگر آج جبکہ وہ اس دنیا میں نہیں، صدر اوباما نے ان کے شوہر کو علی الصبح جگا کر یہ ’خبر‘ دوبارہ پہنچا دی! کہ اسامہ کا قاتل کوئی ’شیخ‘ نہیں بلکہ ایک ’صدر‘ ہے!
اسامہ بن لادن کی ہلاکت ایک اہم خبر ہے مگر اس کی ” جائے ہلاکت“ ایک اور ’اہم تر‘خبر ہے! امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک نے ”دہشت“ کے خاتمے کیلئے اپنا عزم دوہرایا ہے، مگر امریکی ذرائع ابلاغ کو ان سب سے گلہ ہے کہ انہوں نے ’صرف‘ عزم کا اعادہ کیا ہے!
جبکہ افغانستان اور بھارت کے ردعمل پر ان کی ’نواگری‘ دیکھنے کے لائق تھی! جناب حامد کرزئی کا فرمانا تھا کہ اسامہ بن لادن کا پاکستان میں پایا جانا اس امر پر گواہ ہے کہ گزشتہ کئی برس سے افغانستان کے شہریوں کا روز کے روز قتل عام کسی ”اچھے تصور“ کا حامل نہیں تھا! افغانستان کے قائد حزب اختلاف جناب عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کا پاکستان میں قتل ہونا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ”دہشت کی جنت“ افغانستان کے ہم سائے میں واقع ہے! کابل کی بولی سے ہٹ کر دہلی کی زبان پر کان لگایا تو وہاں ذرا مختلف بِس گھولا جاتا سنائی دیا‘’ اسامہ بن لادن کا خاتمہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فتح مندانہ نشان منزل ہے اور اب ضرورت ہے کہ دہشت کی یہ جنت دہشت گردوں سمیت ڈھا دی جائے! امریکہ کی آواز میں آواز صرف اسرائیل نے ملائی اور اسے ’جمہوری ممالک کی فتح‘ قرار دیا اور ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ اسرائیل نازک مواقع پر اپنی ’نازکی‘ برقرار رکھنے میں کامیاب تو ہوتا ہی ہے، اپنے ’مقاصد‘ پر پڑا نقاب بھی سرکنے نہیں دیتا!
پاکستان تو صرف یہ جانتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ اس عزم کا اظہار کئی بار کر چکا ہے کہ اسامہ بن لادن اس کا ہدف ہے اور یہ دنیا کے کسی بھی حصے میں پایا گیا تو امریکی افواج اسے براہ راست نشانہ بناکر دم لیں گی! سو، ہم نے ’اسامہ بن لادن کاخاتمہ‘ اسی ’عزم‘ کی تکمیل کے طور پر قبول کیا اور دہشت پر جنگ کیلئے مکمل طور پر ہم قدم رہنے کے عزم کا اظہار بھی کر دیا، مگر ہم نے امریکہ میں بھارتی لابی کے گُل کھلنے سے پہلے چن لینے کا اہتمام نہیں کیا! بھارت اس خطے میں ’اسامہ بن لادن‘ کے ساتھ ایک باب بند ہوتا نہیں دیکھ رہا، وہ اُسامہ بن لادن کے خاتمے کے ساتھ ایک نیا عہد بدامنی ’طلوع‘ ہوتے دیکھ رہا ہے اور القاعدہ کی باقیات اپنی فکر کے مرکزے کے طور پر منضبط کرنے کی سوچ سامنے لا رہا ہے! کیا ہم اس کے توڑ کے لئے تیار ہیں؟
ہم اس موقع پر اپنے ذرائع ابلاغ پر صرف ایک بات جتانا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ کہ ’قومی کاز‘ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا! اور اس وقت آئندہ کچھ ہفتوں میں کیا ہونے والا ہے؟ اس کا ادراک پیدا کرنا ہماری پہلی قومی ضرورت ہے!
’اسامہ بن لادن‘ پر حملے کی خبر صدر اوباما نے قوم کو سنائی! انہوں نے اسے امریکی عوام اور پاکستانی عوام کی مشترکہ فتح قرار دیا! اس پیغام کا مطلب صرف اتنا تھا کہ وہ عراق اور افغانستان سے افواج کی بروقت واپسی مکمل اور آئندہ مدت انتخاب اپنے نام ہوتا دیکھ رہے ہیں، مگر بھارت اور افغانستان آج بھی ’جارج بش‘ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور اس خطے سے ’امریکہ کی واپسی میں تاخیر، کیلئے کام کر رہے ہیں! اور ہمیں یہ فیصلہ اب کرنا ہے کہ ہمیں ’امریکہ فری افغانستان، زیادہ موزوں لگتا ہے یا ’انڈیا آکوپائیڈ افغانستان‘ زیادہ ناقابل قبول لگتا ہے!
سوچنے کی بات صرف اتنی ہے کہ ایک ’مستقل بیمار‘ اور ہر ماہ ’باقاعدہ علاج‘ پر مجبور شخصیت آہستہ آہستہ پاکستان کے اندر تک کس نے دھکیلی اور پھر اس کی موت پر اتنا زبردست ہنگامہ کہ اس کی ”جائے ہلاکت“ ”دہشت کی جنت“ قرار دے کر پیوند زمین کر دیئے جانے کے قابل ٹھہرانے والے ایسا کرتے ہوئے شرمانے کیلئے بھی تیار نہ ہوں؟ کون ہو سکتے تھے؟ اور کون ہو سکتے ہیں؟ ہمیں اس مرحلے سے کامیاب گزرنے کیلئے اس طرف ضرور دیکھنا ہوگا؟ اور اپنی ”مشرقی ہمسائی“ کو سمجھنا ہوگا! ہمارے ”مغربی ہم سائے“ تو محض ”ہمسائی“ سے آس لگائے بیٹھے ہیں، وہ اس ”چکی“ کی پسائی سے واقف نہیں، وہ گندم کو ’آٹا‘ ہوتے دیکھتے رہے ہیں! اگر یہ اس ’چکی‘ میں آ گئے اور پتھر ہیں تو ریت بن کے نکلیں گے، یہ کوہساروں کو ریگ زاروں میں بدلنے کا تجربہ رکھتے ہیں، یہ بردہ فروش ہمارے بھائی نہیں بن سکتے! ہمیں ان سے ہوشیار رہنا ہے اور اپنے دوستوں کو بھی ان سے ہوشیار رکھنا ہے! کیا ہم یہ کام کر لیں گے؟ یقیناً یہ ناممکن نہیں!