ایک ماہ میں پارٹی عہدیداروں کا اعلان کر دونگا‘ (ق) لیگ‘ پیپلز پارٹی کا اتحاد ملک کیلئے نہیں : مشرف

03 مئی 2011
لاہور (وقت نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے انہوں نے پاکستان واپس جانے کا پختہ ارادہ کر رکھا ہے اور وہ مناسب وقت پر ضرور پاکستان جائیں گے تاہم وہ وطن واپسی کی کوئی تاریخ نہیں دے سکتے۔ وہ وقت ٹی وی کے پروگرام ہاٹ لائن میں شمائسہ رحمن کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ پرویز مشرف نے ایک سوال پر کہا ان کے لئے پاکستان میں رہتے ہوئے کوئی پارٹی بنانا مشکل تھا کیونکہ میں 9 سال تک پاکستان کا صدر رہا ہوں‘ اب میں ایک سوٹ کیس اور بریف کیس پکڑ کر پاکستان واپس نہیں جا سکتا‘ پاکستان میں میری ایک مقبولیت ہے میں اپنی اس مقبولیت کو اپنی حماےت میں تبدیل کرنا چاہتا ہوں‘ تاہم ایسا صرف میری پاکستان واپسی سے ہی ممکن ہو گا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا پاکستان میں اس وقت حالات بہت خراب ہیں تاہم میرا خیال ہے حالات ایک ہی طرح کے رہیں گے دہشت گردی کا خطرہ آج بھی پہلے جیسا ہے‘ 9/11 کے بعد سے یہ خطرہ موجود ہے‘ میرے اوپر بھی خودکش حملے ہوتے رہے تھے‘ پاکستان میں مجھ پر کچھ مقدمات بھی قائم ہو سکتے ہیں لیکن میں ان چیزوں سے ڈرنے والا نہیں‘ میں پاکستان ضرور جا¶ں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگ خواہ وہ مرد ہوں یا خواتین ووٹ نہیں ڈالتے‘ امیدوار اپنی گاڑیوں میں بھر بھر کر لاتے ہیں اور ووٹ ڈلواتے ہیں پھر بھی 40 فیصد سے زائد ووٹ نہیں ڈالے جاتے‘ میں کوشش کر رہا ہوں کہ وہ 60 فیصد پاکستانی جو ووٹ نہیں ڈالتے انہیں اپنی حماےت میں جمع کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا لاہور اور اسلام آباد میں اپنی پارٹی کے دفاتر قائم کر لئے ہیں‘ پورے ملک میں اپنے دفاتر بنا رہے ہیں‘ بہت سے لوگ میرے پاس دبئی میں آ کر ملاقات بھی کر چکے ہیں‘ بہت سوں نے فون کیا ہے‘ اب ان ہی لوگوں کو پارٹی کی تنظیم سازی کے لئے نامزد کریں گے اور ایسا ایک ماہ کے اندر اندر ہو جائے گا۔ میں پاکستان جانے سے قبل اپنی جماعت کو فعال کرنا چاہتا ہوں۔ ایک ماہ میں پارٹی کے رہنما¶ں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا میرے خلاف زیادہ تر مسلم لیگ (ن) کے لوگ بول رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا یہ درست ہے مجھے نوازشریف نے چیف آف آرمی سٹاف بنایا تھا لیکن پھر کیا بات ہوئی جو وہ میرے خلاف ہو گئے‘ مجھے تو کوئی خاص بات نظر نہیں آتی‘ یہ بات آپ نوازشریف سے ہی پوچھیں۔ انہوں نے میرے خلاف کارروائی کر کے خود اپنے پا¶ں پر ہی کلہاڑی ماری‘ میرے خیال میں یہ ان کی سوچ سمجھ کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ ایک ڈیڑھ ماہ قبل تو انہوں نے مجھے رائےونڈ اپنے محل میں مدعو کیا تھا او ر میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ ان سے ملنے بھی گیا تھا‘ وہاں ان کے والد میاں شریف سے بھی ملاقات ہوئی تھی‘ ہم نے اکٹھے کھانا کھایا اور ایک ماہ قبل ہی انہوں نے مجھے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بھی مقرر کر دیا تھا اور میرے پاس فوج کے دو عہدے اکٹھے ہو گئے تھے‘ میرا خیال ہے میاں نوازشریف کے دماغ میں یہ سازش شاید پہلے سے ہی چل رہی تھی‘ میرا خیال ہے انہیں اس عہدے پر میری بجائے کوئی بالکل ہی ”چمچہ“ قسم کا آدمی چاہئے تھا جو میں نہیں تھا۔ اس سوال پر کہ اگر پاکستان کے مفاد میں آپ کو نوازشریف سے کوئی افہام و تفہیم کرنا پڑی تو کر لیں گے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے‘ ان کی طرف سے ایسی شہ سرخیاں میں دیکھ چکا ہوں کہ شاید میں ان سے ملنے کی کوشش کر رہا ہوں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں‘ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر مستقبل میں کبھی ایسی صورت نظر آئی تو پھر سوچیں گے۔ انہوں نے کہا ملک کی بہتری کے لئے میں ہر کام کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا ( ق ) لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ملک کے لئے نہیں وہ ان کے اپنے لئے ہے۔ میں چاہتا تھا ( ق ) لیگ کا صدر بن جا¶ں اور باقی رہنما مجھے اس کا صدر بنا دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے پارٹی مجھے ہینڈ اوور نہیں کی جبکہ میری خواہش تھی اس لئے مجھے اپنی پارٹی خود بنانا پڑی۔ ویسے ( ق ) لیگ اب بکھری ہوئی پارٹی ہے اس کے کئی حصے بن چکے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا نوازشریف اور پیپلز پارٹی کی دو دو مرتبہ حکومتیں رہی تھیں لیکن وہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کر سکیں تھیں اب بھی ان دونوں پارٹیوں کی حکومتیں ہیں لیکن وہ کیا ڈلیور کر رہی ہیں‘ کوئی بھی ایک شعبہ لے لیں اس میں کیا ترقی ہوئی‘ کچھ بھی نہیں‘ ہر شعبہ نیچے ہی جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کسی کو حکومت پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کرتی وہ آپ کو کچھ سہارا تو فراہم کر سکتی ہے لیکن میں ایک ایسے ادارے کا رکن ہوں جس نے جنگیں لڑی ہیں‘ میں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کیا ہے انہیں اچھی طرح جانتا ہوں‘ اس لئے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا اگر میں پاکستان واپس جا¶ں گا تو میرے مخالف ہوں گے۔ میں کسی ڈیل کے تحت یا اسٹیبلشمنٹ کے ذریعہ نہیں بلکہ ازخود واپس آ¶ں گا۔ انہوں نے کہا مسلم لیگیوں کا مسئلہ اصل میں یہی ہے وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے سر پر چڑھ کر آگے آتی ہے‘ ایسا نہیں ہونا چاہئے‘ عوام کے بل پر سب کچھ ہونا چاہئے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا موجودہ آرمی چیف سے ایک رابطہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں میں ہر دوسرے تیسرے دن ان سے فون پر بات کرتا ہوں تو ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا میاں نوازشریف کے عالمی سطح پر کوئی خاص تعلقات نہیں تاہم بےنظیر بھٹو کے عالمی لیڈروں سے تعلقات تھے لیکن ان کی بعض کمزوریاں بھی تھیں لیکن میری وہ کمزوریاں بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام عالمی گروپوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا زلزلے کے بعد انہوں نے ڈونرز کانفرنس بلائی تھی اس میں 76 ممالک کے وزرا آئے تھے اور 8 بین الاقوامی سربراہوں کو میں نے براہ راست ٹیلی فون کر کے کہا تھا کہ وہ ڈونیشن کا اعلان کریں۔ میں نے 3 ارب ڈالر کا قرضہ معاف کرایا اور باقی قرضوں کو ری شیڈول کرایا‘ اب موجودہ حکومت اتنی امداد لے کر دکھائے۔ اس سوال پر کہ ڈونرز ممالک نے یہ کہہ کر اپنی اعلان شدہ امداد بھی پاکستان کو نہیں دی کہ آپ کے زمانے میں جو امداد انہوں نے دی تھی وہ مس یوز ہوئی تھی‘ جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا امریکی سی آئی اے اور پاکستان کی آئی ایس آئی کے درمیان ریلیشن شپ اچھی نہیں‘ ہمارے زمانے میں یہ تعلقات برابری کی سطح پر تھے۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے امریکہ کو ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا ان کے دور حکومت میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی تو اس پر انہوں نے احتجاج کیا تھا۔
مشرف / وقت نیوز