10 سال سے مطلوب شخص نے حلیہ تک نہیں بدلا‘ کئی سوالات سامنے آ گئے

03 مئی 2011
لاہور (رپورٹ معین اظہر سے) اسامہ بن لادن کی موت کے بعد اب بہت سے سوالات نے ایک مرتبہ پھر جنم لے لیا ہے کہ کیا دنیا کا سب سے بڑا مطلوب شخص 10 سال سے چھپتا پھر رہا تھا تو اس نے اپنی داڑھی کے نشانات بھی تبدیل نہیں کئے، اس نے کوئی حلیہ بھی نہیں بدلا ۔ وہ ایبٹ آباد کے ایسے گھر میں رہ رہے تھے جس کی 18 فٹ اونچی دیواریں تھیں، اس گھر میں کوئی ٹیلی فون لائن نہیں کوئی نیٹ نہیں کوئی جدید دنیا کا سسٹم نہیں تھا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس علاقے میں ایسے گھر کو چیک کیوں نہیں کیا۔ کیا اسامہ بن لادن امریکیوں کی بجائے ہر امریکی صدر کی مقبولیت کے کم کرتے ہوئے گراف کو بڑھانے کے لئے امریکہ کی مرضی سے استعمال ہوتا رہا اور اس کے بیان ریکارڈ کرنے کے لئے جو مشکوک لوگ آتے رہے کیا ان کو بھی کسی نے چیک نہیں کیا۔ اور جب دنیا کے سب سے بڑے ہائی ویلیو ٹارگٹ کو گھیرا گیا تو اس کے پاس اسلحے کی تعداد کیا تھی اور کتنے لوگ تھے اس کو زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن اس کو مارنے کو ترجیح کیوں دی گئی‘ اگر پاکستانی فورسز کے علم میں یہ بات تھی تو انہوں نے اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لئے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی‘ امریکہ کو اس میں کیوں اور کس کے کہنے پر شامل کیا گیا تاہم ایسے سوالات کے جوابات تاریخ میں مل جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران کیوں خاموش ہیں عوام کو سچ بتانے سے کیوں ڈر رہے ہیں۔
سوالات سامنے آ گئے