انتہائی حساس علاقے میں اُسامہ کا سیف ہاﺅس سکیورٹی اداروں سے کیسے اوجھل رہا

03 مئی 2011
لندن (تجزیہ/ خالد ایچ لودھی) اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کا ایک باب ختم ہو گیا ہے۔ امریکہ جوکہ اسامہ کی تلاش میں افغانستان اور پاکستان کی سرزمین پر فوجی آپریشنز کے ذریعے بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرتا رہا ہے وہ اب ختم ہو جانا چاہئے، وقت کی نزاکت اور زمینی حقائق کے مدنظر اب القاعدہ اور طالبان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھنا چاہئے کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ طالبان کے وجود کو تسلیم کیا جائے اور خطے میں امن و امان کے قیام کی خاطر مذاکرات کا آغاز کیا جائے، ساتھ ہی افغانستان سے غیرملکی فوجوں کو جلد از جلد اپنی واپسی کا شیڈول بھی دے دینا چاہئے، افغانستان میں امریکی سی آئی اے اور بھارت کے خفیہ اداروں اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی سرگرمیاں بھی ختم ہونی چاہئیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں رہ گیا لہٰذا اب حکومت پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں اپنی خودمختاری کو اولیت دیتے ہوئے یہ واضح کر دینا چاہئے کہ اب سرزمین پاکستان پر دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے تو پھر اسکے لئے افواج پاکستان ہی کو کارروائی کرنے کا اختیار ہے۔ امریکی سفارت خانے کو پاکستان میں سفارت کاری کی حد تک ہی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ جہاں تک اسامہ بن لادن کے پاکستان کے انتہائی حساس علاقے ایبٹ آباد کینٹ میں موجودگی کا تعلق ہے تو پھر یہ تمام حقائق منظرعام پر لائے جائیںکہ پاکستان کی افواج کے سب سے بڑے تربیتی مرکز کاکول اکیڈمی کے پاس اسامہ بن لادن کا یہ ” سیف ہاﺅس “ کس طرح قائم ہوا اور یہ پاکستان کے سکیورٹی کے اداروں کی نظر سے کس طرح اتنا اوجھل رہا ؟مغربی میڈیا کے مطابق سی آئی اے ایبٹ آباد میں اس آپریشن کیلئے اکیلے ہی کام کر رہی تھی اگر یہ حیققت پر مبنی ہے تو پھر پاکستان کے سکیورٹی کے ادارے سی آئی اے اور اسامہ بن لادن کے ” سیف ہاﺅس “ سے کیونکر بے خبر تھے؟ کیا حکومت پاکستان کو اس آپریشن کے بارے میں کبھی اعتماد میں لیا گیا تھا؟ اور پھر کیا افواج پاکستان پر امریکہ کو اعتماد نہ تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کا جواب آنا چاہئے۔ آپریشن میں پاکستان کے کردار پر بھی عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے جس طرح کا جشن بھارت اور امریکہ میں اس واقعہ پر منایا جا رہا ہے اسکے پیش نظر سرزمین پاکستان پر سکیورٹی کیلئے ہر طرح کے سخت اقدامات کی بھی ضرورت ہے اور خاص طور پر پاکستان کے ایٹم بم کو اب نشانہ بنانے کی ناپاک سازش ہو سکتی ہے جس کے لئے سی آئی اے، را اور موساد کا گٹھ جوڑ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے۔
تجزیہ