حج پالیسی، کوٹہ ذاتی پسند پر دینے کیخلاف درخواست، وزارت مذہبی امور سے جواب طلب

03 مئی 2011
لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے حج پالیسی 2011ء، نوٹیفکیشن اور حج کوٹہ میرٹ کے منافی ذاتی پسند و ناپسند کی بنا پر دینے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی وزارت مذہبی امور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 مئی کو جواب طلب کرلیا ہے ۔اشفاق مرزا کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ نئی حج پالیسی میں میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے موجودہ سال بھی دوران بدانتظامی کے باعث فریضہ حج ادا کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ حج پالیسی 2011 ءکے نفاذ کے بعد سے من پسند افراد کو کوٹے جاری کئے جا رہے ہیں لہذا عدالت میرٹ پر کوٹہ دینے کے احکامات جاری کرے اور حج پالیسی کو کالعدم قرار دے۔ اشفاق مرزا سمیت 12دیگر ٹورز آپریٹرز کی طرف سے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں وزارت مذہبی امور ، سیکرٹری مذہبی امور ، وزارت قانون، ڈائریکٹر حج ، مسابقتی کمشن اور سات افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حج پالیسی نہ تو تشہیر کی گئی ہے اور نہ ہی عوام تک پہنچائی گئی ہے حالانکہ مدعی تحریری طور پر متعدد بار تحریری پالیسی کیلئے وزارت مذہبی امور کو لکھ چکے ہیں مگر حج پالیسی 2011ءعوام کو نہیں دکھائی گئی اور اس پالیسی کی بنیاد پر پانچ نوٹیفیکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں جو کہ بدنیتی کی بنیاد پر ہیں۔ نئے حج آپریٹرز کیلئے پےڈاپ کیپٹیل پچاس لاکھ سے بڑھا کر دو کروڑ روپے کر دیا گیا ہے اور پانچ لاکھ روپیہ بطور رشوت حج فنڈ کیلئے وصول کیا جائیگا اور 2011ءکے حج کیلئے کسی بھی نئے فرد کو کوٹہ نہیں دیا جائے گا جو کہ آئین کے آرٹیکل (4), (18), (25) کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ شفافیت کا مذاق اڑایا گیا۔
حج پالیسی چیلنج

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...