اسامہ کے خلاف آپریشن امریکی پالیسی کے تحت ہواایوان صدر میں سیاسی‘ عسکری قیادت کو بریفنگ

03 مئی 2011
اسلام آباد (آن لائن) امریکی فورسز کے آپریشن میں اسامہ بن لادن کے جاںبحق ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے پیر کو ایوان صدر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس صدر زرداری کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیراعظم گیلانی، آرمی چیف جنرل اشفا ق پرویز کیانی اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سمیت متعلقہ افسران و شخصیات نے شرکت کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اسامہ بن لادن کے جاںبحق ہونے کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے سے متعلق کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے اسامہ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور پاکستان نے جس حد تک امریکی انٹیلی جنس کو تعاون فراہم کیا اس بارے میں بھی شرکا کو بتایا گیا۔ اجلاس کو یہ بات بھی بتائی گئی کہ آپریشن میں پاکستانی فورسز نے حصہ نہیں لیا یہ امریکی پالیسی کے تحت آپریشن تھا جس کی تکمیل پر پاکستان کو آگاہ کیا گیا جبکہ سیاسی اور عسکری سطح پر امریکی متعلقہ حکام نے رابطے کئے اور تمام تر صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں واضح کیا گیا اسامہ بن لادن کے جاںبحق ہونے کا پاکستان میں شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے اور ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں جس پر وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ملک کی اہم سرکاری اور دفاعی تنصیبات کی سکےورٹی کو فول پروف بنانے سمیت عوامی مقامات پر بھی سکیورٹی انتظامات سخت کئے جائیں۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کا اس موقع پر کہنا تھا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو جاری رکھے گا، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاںجاری رکھی جائیں گی۔ صدر زرداری نے شرکا کو امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا۔
اجلاس