امریکی آپریشن میں پاکستانی رضامندی شامل تھی یا نہیں: وزارت خارجہ کا بیان واضح نہیں

03 مئی 2011
لاہور (سلمان غنی) اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان عوامی حلقوں میں انتہائی حیرت اور افسوس سے سنا گیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان سے دو باتیں واضح ہوئیں کہ اولاً یہ آپریشن تنہا امریکی فورسز نے کیا اور دوم یہ اس امریکی پالیسی کا حصہ تھا جس میں اسامہ بن لادن کی کہیں پر بھی موجودگی پر امریکہ نے آپریشن کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ مبصرین نے ان دونوں نکات کے حوالہ سے کہا ہے کہ (1) پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی وضاحت میں یہ بات شامل کیوں نہیں کی کہ امریکہ نے اس آپریشن کیلئے پاکستان نے کسی بھی قسم کی رضامندی حاصل کی تھی یا نہیں۔ (2) وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ اگر رضامندی نہیں تھی تو پاکستان نے اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا۔ (3) وزارت خارجہ نے یہ وضاحت بھی نہیں کی کہ اوباما نے صدر مملکت آصف زرداری کو فون پر کیا کہا۔ (4) یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ صدر مملکت کو فون کرتے ہوئے صدر اوباما نے صرف اطلاع دی۔ کیا اس حوالہ سے مزید بھی کوئی بات کی جو پاکستان کے کسی بھی کردار سے متعلق تھی ۔ (5) ایبٹ آباد کے جس حصہ میں امریکی فورسز نے کارروائی کی وہ کنٹونمنٹ ایریا میں آتا ہے۔ آخر اس ایریا میں ہونیوالی کارروائی پر اب تک پاک فوج کا موقف کیوں سامنے نہیں آسکا۔ (6) یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک ایسا شخص جو دنیا کو مطلوب ترین ہو، جس کا قد کاٹھ منفرد ہو، وہ ایک کنٹونمنٹ ایریا میں شہری علاقہ کے اندر پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پاس اتنے سالوں تک چھپ کر کیسے رہنے میں کامیاب ہوا جبکہ کنٹونمنٹ ایریا کی دیواریں ایک مخصوص حد سے اوپر نہیں ہوسکتیں۔ عمارت کی بلندی بھی ایک خاص حد تک محدود ہوتی ہے۔ یہ عمارت بلند کیوں تھی ۔ (7) ان نکات کے علاوہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر ایک اور طرح سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ آخر اس واقعہ سے افغانستان، پاکستان اور خطہ میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاصے معنی خیز ہیں۔ (i) اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر القاعدہ کا ردعمل کیا ہوگا؟ (ii) القاعدہ پاکستان کیخلاف اپنی حکمت عملی کیا مرتب کریگی؟ (iii) افغانستان سے واپسی کی سوچ رکھنے والے امریکی صدر اگر افغانستان سے امریکی فوجوں کی نمایاں واپسی کا اگر کوئی پروگرام دیتے ہیں تو اس صورت میں پاکستان شدت پسندوں سے اپنے معاملات اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کیسے بہتر بنا سکے گا؟ (iv) اس تاثر کو زائل نہیں کیا جاسکے گا کہ اس کارروائی میں پاکستانی فورسز کی حمایت امریکہ کو حاصل تھی ، پھر شدت پسندوں کے ردعمل کی صورت میں پاکستان کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ مذکورہ تمام نکات کی روشنی میں اگر پاکستان کے اندر پایا جانیوالا عوامی ردعمل بھی مدنظر رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی کارروائی پاکستان کیلئے تباہ کن اثرات کی حامل ہوگی اور ریاست پر پاکستانی عوام کا تیزی سے اٹھتا ہوا اعتماد بھی مزید کمزور ہوگا۔
سوالات/ اسامہ بن لادن