A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

آپریشن کے دوران کب کیا ہوا؟

03 مئی 2011
لندن (بی بی سی ڈاٹ کام) فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آپریشن رات ساڑھے دس بجے شروع ہوا ۔ آپریشن کے آغاز کے موقع پر کئی ہیلی کاپٹر علاقے میں نیچی پرواز کرتے دیکھے گئے جس سے مقامی آبادی میں بے چینی بھی پھیلی۔ آپریشن کا ہدف ٹھنڈا چوا کے علاقے میں ایک ایسا احاطہ تھا جس کے وسط میں ایک تین منزلہ عمارت بنائی گئی تھی۔ ہیلی کاپٹرز اس عمارت کے باہر اترے اور اس سے نکلنے والے افراد نے مقامی لوگوں سے پشتو میں بات کی۔ آپریشن سے قبل اس علاقے کے باسیوں کو گھروں کی بتیاں بجھانے اور گھروں سے نہ نکلنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مقامی آبادی نے گولیاں چلنے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ اطلاعات کے مطابق اس آپریشن میں چار امریکی ہیلی کاپٹر شامل تھے جن میں سے ایک ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے اسی گھر پر جا گرا جہاں آپریشن شروع ہونے والا تھا۔ اسامہ کے خلاف اس آپریشن میں چالیس امریکی شامل تھے۔ مقامی آبادی کے مطابق آپریشن کا نشانہ بننے والا احاطہ تین ہزار مربع گز پر واقع ہے اور اس کی چاردیواری چودہ فٹ اونچی ہے۔ اتنی اونچی چاردیواری کی وجہ سے اس احاطے میں ہونے والی سرگرمیوں کی باہر کے لوگوں کو کوئی خبر نہیں تھی۔ اس چاردیواری پر خاردار تاریں اور کیمرے بھی نصب تھے۔ اس احاطے کے دو دروازے تھے اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وہاں نہ تو فون اور نہ ہی انٹرنیٹ کی تاریں موجود تھیں۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ یہ گھر دس سے بارہ برس قبل ایک پشتون شخص نے تعمیر کیا تھا اور آس پاس کے رہائشیوں میں سے کسی کو نہیں پتہ تھا کہ دراصل وہاں کون رہ رہا تھا۔ فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انہیں عمارت سے شعلے اٹھتے دکھائی دئیے اور پھر آپریشن میں شریک فوجی عمارت سے باہر نکلے۔ پاکستانی فوجی آپریشن مکمل ہونے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور پھر انہوں نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر وہاں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس آپریشن میں حصہ لینے والے امریکی فوجی ایبٹ آباد سے کچھ فاصلے پر واقع تربیلا غازی کے فوجی اڈے سے آئے تھے۔ اس فوجی اڈے پر امریکی میرینز کا بھی اڈا ہے۔
کب کیا ہوا ؟