اسامہ کی موت عظیم فتح ہے‘ ہمارا انٹیلی جنس تعاون شامل تھا‘ اوباما نے بھی تسلیم کیا : وزیراعظم....آپریشن میں پاک فوج نے حصہ نہیں لیا : دفتر خارجہ

03 مئی 2011
اسلام آباد (اے پی پی + مانیرٹنگ سیل + ایجنسیاں) وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، اسامہ کو مارنے کیلئے کئے گئے آپریشن کیلئے انٹیلی جنس کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ فرانسیسی میگزین پالیٹک انٹرنیشنل اور فرانسیسی خبررساں ادارہ کو انٹرویوز میں وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کے ہزاروں جوان، شہری، خواتین اور بچے جاںبحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کیلئے یہ بات شرمندگی کا باعث تھی کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اسامہ کو اس سے پہلے گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا۔ اسامہ ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقہ میں تھا۔ پاکستان کا امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلہ کا معاہدہ ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کسی ایک واقعہ سے یرغمال نہیں بن سکتے اور دونوں ملکوں کو اپنے دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانا ہے۔ پی ایم ایل کیو کے ساتھ شراکت اقتدار کے معاہدہ کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل کیو ہمیشہ حکومت سے رابطہ میں رہی ہے۔ ہم اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد کیلئے زیادہ مستحکم حکومت چاہتے ہیں۔ مغربی ممالک اقتصادی اصلاحات کی سست رفتاری پر ہمیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، اب ہم آر جی ایس ٹی کے نفاذ کی کوشش کریں گے۔ مانیٹرنگ نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت عظیم فتح ہے۔ کامیاب آپریشن پر مبارکباد دیتا ہوں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ اسامہ کے خلاف آپریشن میں پاکستانی انٹیلی جنس کا تعاون شامل تھا۔ آپریشن انٹیلی جنس تبادلے کے بعد ہوا۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا پاکستان نے آپریشن میں کس حد تک تعاون کیا۔ وزیراعظم نے جواب دیا کہ مجھے زیادہ تفصیلات کا علم نہیں ہے۔ دریں اثناءوزیراعظم سے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اوباما نے بھی آپریشن میں ہمارا کردار تسلیم کیا۔ امریکہ نے کارروائی اعلان کردہ پالیسی کے تحت کی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ امریکی فوج اسامہ کو مارنے کے لئے براہ راست ایکشن لے گی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو۔ اے این این کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے امریکی صدر کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موت کے لئے کئے گئے آپریشن میں پاکستان کے تعاون کا بھرپور اعتراف کیا ہے، وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے مابین اس آپریشن میں تعمیری اور مثبت پیغاما ت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کو کوئی اور رخ دینے کی بجائے اس کی حساسیت کا احسا س کرنا زیادہ اہم ہے، انہوں نے میڈیا اور امریکی تھنک ٹینکس کو خبردار کیا کہ وہ افغانستان کے معاملے پر دونوں ممالک کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے سے گریز کریں، یہاں جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین کی قیادت میں امریکی وفد سے ملاقات میں کیا۔ مارک گراسمین نے وزیر اعظم گیلانی اور ان کی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون اور مدد کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر بھی شکریہ ادا کیا جس کے نتیجے میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موت ہوئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ٹیلی فون کر کے ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ اسامہ کے خلاف آپریشن سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان تعاون کا ثبوت ہے۔ پاکستان اور امریکہ نے مل کر اسامہ کے خلاف کارروائی کی۔
اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کی طرف سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے فوجی آپریشن میں اسامہ بن لادن جاںبحق ہو گئے۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انتہائی مطلوب دہشت گردی کے منصوبہ ساز اسامہ بن لادن امریکی فوج کے آپریشن میں مارے گئے جو امریکہ کی اعلانیہ پالیسی کے مطابق ہے۔ یہ آپریشن اس پالیسی کے تحت کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن دنیا میں جہاں بھی پایا گیا اسے امریکی فوج براہ راست کارروائی کر کے ختم کر دے گی۔ دفتر خارجہ نے اسامہ بن لادن کی موت کو دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کے لئے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر اوباما نے اس کامیاب آپریشن پر صدر آصف علی زرداری کو ٹیلی فون کیا‘ اسامہ بن لادن کی موت پاکستان سمیت بین الاقوامی برادری کے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کے خاتمے کے عزم کی عکاس ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی پاکستان حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، ریاستی ادارے اور پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر پوری طرح سے متحد ہے۔ مانیٹرنگ نیوز کے مطابق آپریشن امریکی پالیسی کے مطابق امریکی فورسز نے کیا۔ پاکستانی فوج نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا ۔
دفتر خارجہ

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...