ایبٹ آباد آپریشن ہماری خودمختاری پر حملہ ہے‘ وزیراعظم ایوان میں وضاحت کریں : ارکان سینٹ

03 مئی 2011
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں + مانیٹرنگ نیوز) سینٹ کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان نے ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم ایوان میںآ کر اس کی وضاحت کریں اور بیرون ملک دورے پر جانے کے بجائے ایبٹ آباد آپریشن پر قوم اور ایوان کو اعتماد میں لیں تاکہ حقائق معلوم ہو سکیں اسامہ کے جاں بحق ہونے پر پوری دنیا میں جو خوشیاں منائی جا رہی ہیں کل یہ پاکستان پر برسیں گی امریکی صدر کا یہ بیان کہ یہ آپریشن امریکی فورسز نے کیا انتہائی افسوسناک ہے نکتہ اعتراض پر سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ایبٹ آباد آپریشن پر حکومت کی طرف سے کوئی واضح بیان نہیں آیا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیز سے انٹیلی جنس شیئرنگ ہوئی جبکہ امریکی صدر اوباما نے کہا کہ یہ آپریشن مکمل طور پر امریکی فورسز نے کیا۔ بتایا جائے امریکی فوج نے پاکستان میں اسامہ کیخلاف کارروائی کیوں کی؟ سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ہمیں اپنا راستہ خود بنانا ہو گا‘ امریکی صدر کا بیان افسوسناک ہے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک سال سے مانیٹر کر رہے تھے ہمیں اس جنگ سے باہر آنا ہو گا۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس واقعہ کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر ہونگے۔ عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ پاکستان ہماری سرزمین ہے لیکن اس کے دفاع کا حق ہمیں نہیں آج جو کچھ ہوا وہ مکافات عمل ہے۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ اگر آج ملک میں 9 آدمیوں کو مارنے کی کارروائی ہو سکتی ہے تو ہم ایک ایٹمی ملک ہیں کل کوئی اور کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان نیر حسین بخاری نے کہا کہ آپریشن سے متعلق وزارت خارجہ سے تفصیلات طلب کر لی ہیں جیسے ہی وصول ہونگی ایوان میں پیش کر دینگے۔ واقعہ کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کیا جائیگا۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم‘ اے این پی اور دیگر جماعتوں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ‘ لوڈشیڈنگ اور سندھ میں مردم شماری پر شدید احتجاج کیا متحدہ کے طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ کراچی میں ہمارے کارکنوں کو جاں بحق کیا جا رہا ہے ان کا کیا قصور ہے۔ بابر غوری نے کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو سزا دی جائے۔ اے این پی کے زاہد خان نے کہا کہ صوبائی حکومت ناکام ہو گئی ہے تو اس کا اعتراف کرنا چاہئے الیاس بلور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پی کے میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے دفاتر پر حملے میں صوبائی حکومت ملوث ہے۔ اجلاس کے دوران ایوان نے سٹیٹ بنک آف پاکستان ترمیمی بل 2010ء اور انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آف پاکستان 2010ء بل کی منظوری دے دی جبکہ وزیر خزانہ کی ایوان میں عدم موجودگی پر چیئرمین سینٹ نے برہمی کا اظہار کیا اور قائد ایوان کو وزراء کے رویہ سے وزیراعظم کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے رواں سیشن کیلئے پینل آف پریزائیڈنگ آفیسرز کے ناموں کا اعلان کیا۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف و پارلیمانی امور کی طرف سے فوجداری قانون ترمیمی بل 2010ءاور لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ترمیمی بل 2011ءپر قائمہ کمیٹی کی رپورٹیں ایوان میں پیش کر دی گئیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی بل 2011ءپر کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر ڈاکٹر خالد سومرو کے والد کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں قائد حزب اختلاف وسیم سجاد (ق) لیگ کے حکومت میں شامل ہونے کے بعد آج سینٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدے سے اپنا استعفی چیئرمین سینٹ کو پیش کر دیں گے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق جب کوئی پارٹی اپوزیشن کو چھوڑ کر حکومت میں شامل ہو جائے تو اس کا رکن اپوزیشن لیڈر نہیں رہ سکتا اس لئے میں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے قائد حزب اختلاف کیلئے اسحاق ڈار اور مولانا غفور حیدری کے نام لئے جا رہے ہیں۔
ارکان سینٹ