امریکہ کو اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا 2003ءسے علم تھا‘ کارروائی میں دیر کیوں کی : وکی لیکس

03 مئی 2011
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ ڈیسک + این این آئی) وکی لیکس کے مطابق اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا انکشاف 2003ءمیں ہو گیا تھا۔ امریکہ کو اسامہ کی پاکستان موجودگی کا علم تھا وکی لیکس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب امریکہ کو اس کا پہلے سے علم تھا تو اس نے اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی میں تاخیر کیوں کی؟ رپورٹ کے مطابق اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم ابو الفراج اللبی سے تفتیش کے دوران ہوا تھا۔ اسامہ کے کوریئر عبدالخالق جان کے خط سے اہم ثبوت ملے۔ دریں اثنا امریکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت ان کے پیغام رساں تک رسائی کے بعد ممکن ہوئی‘ القاعدہ کے سربراہ کے گھر کی تلاش میں چھ برس لگے آپریشن سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنے خاندان کے ساتھ ایبٹ آباد میں اپنے پیغام رساں کے گھر میں مقیم تھے۔ کئی سال کی انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ معلومات کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ یہ گھر پیغام رساں کی بساط سے باہر ہے اور اس میں کوئی اہم شخصیت موجود ہے پہاڑ کے اوپر بنائے گھر کو 12 فٹ کنکریٹ کی دیواروں اور خاردار تاروں کے ذریعے محفوظ بنایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ گھر کا کچرا باہر پھینکنے کے بجائے جلا دیا جاتا تھا تاکہ کچرا لینے کوئی نہ آئے۔ صدر اوباما نے تمام انٹیلی جنس کا جائزہ لینے کے بعد جمعہ کو پاکستان میں اسامہ کے خلاف آپریشن کے حتمی احکامات پر دستخط کئے۔ امریکی اہلکار ہیلی کاپٹر میں پاکستان میں داخل ہوئے اور چالیس منٹ کے آپریشن کے دوران مزاحمت پر اسامہ بن لادن اور ان کے تین ساتھی جاں بحق ہو گئے اس دوران وہ عورت بھی جاں بحق ہو گئی جسے القاعدہ انسانی ڈھال بنا رہی تھی۔ آپریشن کے بعد اسامہ بن لادن کی نعش افغانستان پہنچا کر اوباما کو اطلاع دی گئی۔ اخبار کے مطابق جب تورا بورا سے روانہ ہوئے تو امریکی فوج اور انٹیلی جنس فورسز نے اسامہ کا 10 سال تک پیچھا کیا۔ پیغام رساں بھی 4 سال گوانتاناموبے میں زیر حراست رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اسامہ کو چھپانے کیلئے 12 فٹ موٹی کنکریٹ کی دیواریں بنائی گئی تھیں اس آپریشن کے لئے اوباما نے مختلف میٹنگز کے ذریعے منصوبہ بندی کی۔ دریں اثنا امریکی حکام نے بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسی کو اگست 2010ء میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ کے بارے میں علم ہوا جو پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں قدرتی آفات اور دہشت گرد حملوں سے محفوظ مقام پر واقع جگہ تھی۔ اس عمارت کو دیکھ کر ہم ششدر رہ گئے کیونکہ یہ ایک غیر معمولی عمارت تھی۔ امریکی حکام نے کہا کہ ایبٹ آباد کے مضافات میں ایک تنگ اور نسبتاً گندی سڑک کے اختتام پر یہ عمارت 2005ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ عمارت میں صرف دو حفاظتی دروازوں سے داخل ہونا ممکن تھا تین منزلہ عمارت میں احاطے سے باہر کی سمت بہت کم کھڑکیاں رکھی گئیں جبکہ تیسری منزل پر ٹیرس پر سات فٹ اونچی دیوار بنائی گئی۔ عمارت میں ٹیلی فون تھا نہ انٹرنیٹ کا کنکشن تھا۔ حکام نے بتایا کہ مختلف ذرائع سے وہ یہ بہترین اندازہ لگانے میں کامیاب ہوئے کہ اس مکان میں بن لادن اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیررہے جس میں اس کی سب سے چھوٹی بیوی بھی شامل ہے۔
وکی لیکس