ایبٹ آباد : امریکی فوج کا آپریشن....اسامہ بیٹے سمیت جاں بحق‘ تین ساتھی بھی مارے گئے

03 مئی 2011
ایبٹ آباد / اسلام آباد / واشنگٹن (بیورو رپورٹ + نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) نائن الیون حملوں کے تقریبا ً10 سال بعد القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں امریکی سپیشل فورسز کے ایک آپریشن میں جاں بحق ہو گئے اس کارروائی میں اسامہ کا بیٹا اور تین ساتھی بھی مارے گئے جبکہ انکی دو بیویوں سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسامہ ملٹری اکیڈمی کاکول کے قریب بلال ٹاﺅن میں مقیم تھے۔ امریکی صدر اوباما نے اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آپریشن ان کی ہدایت پر کیا گیا۔ ہم نے اسامہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا تھا اور انصاف ہوچکا ہے۔ اسامہ کی موت پاکستان کے تعاون سے ممکن ہوئی ہے۔ یہ امریکی و پاکستانی عوام کے لئے تاریخی کامیابی ہے۔ یہ ثابت کر دکھایا گیا کہ امریکہ جو کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ ہماری جنگ اسلام کے خلاف نہیں۔ صدر اوباما کے مطابق انہوں نے پاکستانی ہم منصب صدر زرداری سے بھی ٹیلیفون پر بات کی جن کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان اور امریکہ کےلئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس و انسداد دہشت گردی حکام نے بتایا ہے کہ اسامہ ایبٹ آباد میں بلال ٹاﺅن کے علاقے میں ایک مکان میں گزشتہ رات امریکی سپیشل فورسز کے آپریشن میں مارے گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آپریشن میں چار ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا جن میں سے ایک تباہ ہوا۔ بعض اطلاعات کے مطابق انتہائی حساس آپریشن میں اپاچی ہیلی کاپٹر استعمال کئے گئے۔ امریکی ٹی وی کے مطابق آپریشن کے دوران گرنےوالا ہیلی کاپٹر امریکی تھا اور اسے نیچے سے فائرنگ کر کے گرایا گیا تاہم اس میں کوئی امریکی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ اسکے بعد سپیشل فورسز نے کمپاﺅنڈ کے اندر داخل ہو کر آپریشن کیا اور اسامہ کے سر میں گولیاں لگیں جبکہ ان کے سامنے آنےوالے ایک اہلیہ کو بھی مار دیا گیا۔ دریں اثناءامریکی صدر بارک اوباما نے وائٹ ہاﺅس میں امریکی قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ایک آپریشن میں موت کی تصدیق کی۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال اگست میں اس مقصد کےلئے خصوصی احکامات جاری کئے تھے۔ ہماری انٹیلی جنس ٹیم نے اطلاعات حاصل کیں اور ایک ہفتہ قبل ہمیں اسامہ کی پاکستان موجودگی کی اطلاع ملی۔ اس آپریشن سے متعلق معلومات پر پاکستان سے تبادلہ خیال کیا گیا اور اسلام آباد نے اس میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت موجود تھے کہ اسامہ ایک مکان میں موجود ہے جس پر میں نے ہدایت دی اور ایبٹ آباد میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا گیا۔ یہ آپریشن ایک چھوٹی ٹیم نے کیا جس میں کوئی اہلکار زخمی ہوا نہ کوئی شہری مارا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں اسامہ بن لادن مارے گئے اور ان کی نعش قبضے میں لے لی گئی ہے ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن امریکہ کےلئے تاریخی دن ہے۔ اسامہ نے معصوم امریکیوں کو نشانہ بنایا وہ نائن الیون حملوں کا ذمہ دار تھا اس نے امریکہ کےخلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا اور اس کا قتل یا گرفتار کرنا امریکہ کی ترجیح تھی۔ اسامہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کا قاتل تھا اس نے ہزاروں مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ نائن الیون کے بعد دوست ممالک نے ہماری مدد کی۔ اوباما کا کہنا تھا کہ امریکیوں کے تحفظ کےلئے ہر جگہ کارروائی کا وعدہ سچ کر کے دکھایا ہے۔ امریکی عوام کو محفوظ بنانے کےلئے ہرممکن کارروائی کریں گے۔ امریکی قوم جان لے کہ ہم اپنی سلامتی کو کوئی خطرہ برداشت نہیں کریں گے۔ اسامہ کی موت پاکستان اور امریکہ کےلئے بہت بڑی کامیابی ہے، پاکستان دہشت گردی کےخلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے۔ القاعدہ کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رہےگا۔ میری ٹیم پاکستان کے تعاون کی شکر گزار ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹارگٹ بنانے کے لئے دو امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر 120کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بگرام ایئربیس سے آئے تھے ، پاکستانی راڈار سسٹم مکمل طور پر جام ہو گیا کہیں سے بھی ہیلی کاپٹروں کے داخلے کی اطلاع یا اشارہ نہیں ملا ، ایک ہیلی کاپٹر نے تین منزلہ کمپاﺅنڈ پر کریش لینڈ کیا ، ہیلی کاپٹر میں موجود افراد نے اسے مکان پر گرانے سے قبل آگ لگا دی اور خود اتر گئے تھے جبکہ دوسرا ہیلی کاپٹر مسلسل چکر لگاتا رہا ، امریکی کمانڈوز نے اسامہ کو سر میں گولی ماری، ان کے ساتھیوں کی طرف سے مزاحمت بھی کی گئی،آپریشن کے بعد خواتین سمیت متعدد افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر باہر لایا گیا ، پاکستانی فضائیہ ، انٹیلی جنس حکام اور فوج وقوعہ پر موجود نہیں تھی، اسامہ کی ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یمن میں القاعدہ کے ایک رکن نے اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے القاعدہ کے ایک رکن نے کہا کہ پہلے پہل تو انہیں بھی اس خبر پر یقین نہیں آیا تاہم پاکستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے اس خبر کی تصدیق ہوئی۔ اے ایف پی کے مطابق ڈائریکٹر سی آئی اے لیون پنیٹا نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروپ اسامہ کی موت کا بدلہ لینے کی یقینی طور پر کوشش کرینگے ہمیں چوکس اور پرعزم رہنا ہو گا۔ امریکی ٹی وی سی بی ایس نیوز کے مطابق اعلیٰ ترین سطح پر کلیئرنس ملنے کے بعد امریکی بحریہ کی تقریباً دو درجن اہلکاروں پرمشتمل ایلیٹ ”سیل“ ٹیم تشکیل دی گئی جس کی نگرانی سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا خود کررہے تھے ۔یہ ٹیم دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں میں موقع پر پہنچی جبکہ مزید دو درجن اہلکاروں پر مشتمل ایک دوسری ٹیم بھی قریب ہی محو پرواز رہی۔ امریکی اہلکاروں نے کمپاﺅنڈ میں اپنا آپریشن چالیس منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کرلیا۔ دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اسامہ کے حملے صرف امریکیوں پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں پر تھے۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں دنیا بھر کے بے گناہ افراد شامل تھے ۔ اسامہ کی موت سے نائن الیون میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو سکون ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ پاکستان کے تعاون سے اسامہ بن لادن کو مارنے اور القاعدہ پر دباﺅ ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔ حالیہ دنوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف جدوجہد جاری تھی، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے تمام افراد کے اہلخانہ اور ورثاءسے اظہار تعزیت کرتی ہوں۔ اسامہ نے پاکستان کے خلاف بھی جنگ جاری رکھی ہوئی تھی پاکستان کی جمہوری حکومت اور عوام کی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ طالبان کو بھی بتا دینا چاہتی ہیں کہ وہ ہمیں شکست نہیں دے سکتے اور ایک نہ ایک دن مکمل شکست انکا مقدر ہو گی۔ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ میڈرڈ دھماکے ہوں، لندن کے یا نائن الیون یا پاکستان میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات ان سب میں القاعدہ ملوث تھی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی میں مزید تعاون کریں۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسامہ کی اطلاع دینے والے کیلئے انعامی رقم کے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ یاد رہے کہ اسامہ کی اطلاع دینے والے کیلئے امریکہ نے 5 کروڑ ڈالر انعام دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ ہلیری کلنٹن نے اسامہ پر انعام کسے ملے گا اس کا جواب دینے سے گریز کیا۔ چیئرمین امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی لائبرمین نے کہا کہ پاکستان کو بتانا ہو گا کہ اسے اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا یا نہیں۔ اسامہ کے حوالے سے پاکستان کو سوالوں کے جواب دینا ہونگے۔ پاکستان ثابت کرے کہ اسے اسامہ کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔ لائبرمین نے مزید کہا کہ اسامہ کو مارنے کے دعوے کی تصدیق کیلئے امریکی انتظامیہ کو جلد نعش کی فوٹیج جاری کرنا ہو گی۔ رائٹر کے مطابق وائٹ ہاﺅس نے دعویٰ کیا ہے کہ جب امریکیوں نے کمپاﺅنڈ پر حملہ کیا تو اسامہ نے خواتین کی آڑ لینے کی کوشش کی۔ ادھر امریکی مسلمانوں نے اسامہ کی موت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نائن الیون کے بعد سے ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے ہتک آمیز سلوک کا خاتمہ ہو گا۔ آئی این پی کے مطابق امریکی مشیرقومی سلامتی جان برینن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں اسامہ کو رہائش کیلئے حمایت حاصل نہیں تھی، القاعدہ سربراہ کی موت القاعدہ کیخلاف جنگ کی بڑی کامیابی ہے،آپریشن میں شہری ہلاکتوں سے ہرممکن گریز کیا، ہرمنٹ دنوں کی طرح گزرا، کارروائی مکمل ہونے پر سب نے سکھ کا سانس لیا،تورابوراآپریشن کے بعد یہ موثر آپریشن تھا،6ماہ سے مناسب وقت کے انتظار میں تھے، پاکستانی حکام کو آخری وقت تک آگاہ نہیں کیا تھا اور اس وقت رابطہ کیا جب تمام لوگ ائربیس سے باہر نکل چکے تھے، حکمت عملی کے تحت پاکستانی حکام کو پہلے نہیں بتایا،ابھی نہیں بتاسکتے کہ کون کون گرفتارہیں، پاکستان کیساتھ مذاکرات اور بات چیت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے آپریشن میں حصہ نہیں لیا۔