امریکی میڈیا کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں دوہزارپاؤنڈ وزنی بم استعمال کرنے کی تجویز دی گئی تھی جسے باراک اوباما نے مسترد کردیا۔

03 مئی 2011 (23:46)
امریکی میڈیا کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں دوہزارپاؤنڈ وزنی بم استعمال کرنے کی تجویز دی گئی تھی جسے باراک اوباما نے مسترد کردیا۔
امریکی ٹی وی کے مطابق مارچ میں اسامہ بن لادن کے اییٹ آباد میں رہائش پر بمباری کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس پرعمل نہیں کیا گیا۔ منصوبے کے تحت اس گھر پر دوہزار پاؤنڈ وزنی بم گرایا جانا تھا تاہم بڑے پیمانے پر تباہی کے پیش نظر امریکی صدر نے منصوبہ مسترد کردیا ۔ جس کے بعد اسامہ کے خلاف زمینی کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا جس کی مشق سات اور تیرہ اپریل کے درمیان امریکی بحریہ نے کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق آپریشن کی حتمی منظوری باراک اوباما نے جمعے کو دی ۔ ایبٹ آباد میں کارروائی ہفتے کی رات کو کی جانی تھی تاہم خراب موسم کے باعث اتوار کو آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے بعد اسامہ بن لادن کی لاش کو افغانستان کے علاقے جلال آباد میں لے جایا گیا۔ جہاں اس کے دو رشتے داروں کے ساتھ ڈی این اے میچ کیا گیا جو سو فیصد درست نکلا۔ امریکی ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی بحریہ میں شامل مسلمان اہلکاروں نے بحری جہاز میں اسامہ بن لادن کی آخری رسومات ادا کیں جس کے بعد ان کی لاش کو سمندر برد کردیا گیا۔ دوسری جانب برطانوی اخبارنے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے اسامہ کی لاش سعودی عرب کے حوالے کرنے کی پیشکش بھی کی تھی تاہم سعودی حکام نے لاش کی وصولی سے انکار کردیا تھا۔