پاکستان سمیت دنیا بھرمیں دمہ سے آگاہی کا دن آج منایا جا رہا ہے، پاکستان میں پچیس لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں ۔

03 مئی 2011 (14:02)
دنیا بھرمیں دمے کا عالمی دن ہر سال مئی کے پہلے منگل کو منایا جاتا ہے ۔ اس سال یہ دن \\\"آپ اپنے دمے پر قابو پا سکتے ہیں کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔ دمہ سانس کی ایک دائمی بیماری ہے جس سے دنیا بھرمیں تیس کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہر سال ڈھائی لاکھ افراد اس مرض کی وجہ سے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں پندرہ سال سے کم عمر کے بیس فیصد بچے اور دس فیصد سے زیادہ بالغ افراد اس مرض کا شکار ہیں ، دمہ کی بنیادی وجوہات میں گرد ، آلودگی ، سگریٹ نوشی ،صنعتی آلودگی ، فضلے اور نامناسب خوراک شامل ہیں ، پاکستان میں پولن ، ملبری ، کاٹن جننگ اور گندم کی گہائی وغیرہ سے دمے کا مرض لاحق ہوتا ہے، دمہ اورسانس کی دیگر بیماریوں کے اسباب مثلا آلودگی وغیرہ کوکم کرنے کیلئے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل اورپیٹرول میں سلفر کی مقدارکو کم کرنے ، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشنوں کا قیام ، گاڑیوں کی چیکنگ کا نظام ، متعارف کروانا اور سانس کی بیماریوں کے علاج کیلئےاستعمال ہونے والے انہیلرز کی کلورو فلوروکاربن فری ٹیکنالوجی متعارف کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ دمہ انفیکشن کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص کو نہیں لگتا بلکہ عام طور پر یہ ایک موروثی بیماری ہے اور بعض اوقات ماحول کی آلودگی اور درد یا خون کا دباؤ کم کرنے والی دواؤں کا استمعال بھی اس کا باعث بنتا ہے۔اس بیماری کے اثرات بچوں میں زیادہ ہیں اورگزشتہ بیس سال کے دوران اس کے اثرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔