پاکستان اور امریکہ دو طرفہ مذاکرات، اسامہ بن لادن کی موت کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کی نئی حکمت عملی پر غور ۔

03 مئی 2011 (13:37)
دفترخارجہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر جبکہ امریکی وفد کی قیادت پاکستان اور افغانستان کیلیےامریکہ کےخصوصی نمائندے مارک گراس مین کررہے ہیں۔ مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات ، باہمی تعاون، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں رابطوں کے فروغ، دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو دور کرنے، پاکستان کے لیے امریکی امداد اور اسامہ بن لادن کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ساتھ ہی امریکی نمائندہ خصوصی کے دورہ پاکستان اورمذاکرات کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں اسامہ کی موت کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کی نئی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکام نے امریکہ پر ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ڈرون حملے دونوں ممالک کے درمیان نفرتوں کا باعث بن رہے ہیں۔ مذاکرات میں دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام اور امریکی سفیر سمیت امریکی سفارتخانہ کے حکام سیکرٹری خارجہ اور امریکی نمائندہ خصوصی کی معاونت کرہے ہیں۔