سیاست____ گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

03 مئی 2011
اس وقت وطن ِ عزےز نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ کراچی کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ۔ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور لوگ جھنجلا کر آئے روز سڑکوں پر نکلتے ہیں اور ان کے سامنے جو کچھ آتا ہے اس پر اپنا غصہ نکالتے ہیں ۔ بجلی کے بحران کے ساتھ کئی قسم کے بحرانوں کا خمیازہ صرف اور صرف عوام بھگت رہے ہیں اور حکمران ہیں تو صرف اور صرف اپنا اقتدار بچانے او ر آئندہ الیکشن کیلئے اتحادی تلاش کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں پی پی تو اپنی حرےف جماعت مسلم لیگ ق کو ان کی من پسند وزارتےں دینے کو تےار ہو چکی ہے ۔ ۔۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے اندر بھی ” موجودہ اتحاد “ کے خلاف باتےں ہو رہی ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے تو اس اتحاد کو غےر فطری قرار دے دےا ہے ۔ رضا ربانی بھی ق لیگ سے اتحاد پر راضی نہیں لیکن سیاسی پنڈت آصف زرداری کی سیاست کو داد دے رہے ہیں کہ وہ کمال ہو شیاری سے اپنے پتے کھیل رہے ہیں ، انہوں نے بڑے سلیقے سے اپنے تےن سال مکمل کر لئے ہیں اور باقی مدت پوری کرنے کیلئے انہوں نے ”ہر حال“ میں مسلم لیگ ق کو راضی کر لیا ہے ۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے دانستہ ق لیگ کے گرد گھےرا تنگ کیا اور اس سلسلے میں مونس الہی کو باقاعدہ جیل تک کی ہوا کھانی پڑی ہے، جس سے مجبور ہو کر چودھری برادران بقیہ سال ڈیڑھ کی مدّت کیلئے، اقتدار میں شامل ہو نے کو تےار ہو گئے ہیں ۔ حالانکہ ان کے اپنے کئی قریبی ساتھی اِس چند روزہ اقتدار اور وزارتوں کے حق میں نہیں ہیں ۔ پی پی کے اپنے کئی اہم رہنما اس غےر فطر ی اتحاد سے نالاں ہیں ۔ حقےقت یہ ہے کہ پچھلے تےن برسوں سے حکمرانوں نے دوران ِ اقتدار اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ کرپشن کے حوالے سے تو وزےراعظم صاحب بھی برملا تسلیم کر رہے ہیں کہ کرپشن میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور تاحال عوام کیلئے کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔ اب جیسے ہی بجٹ قرےب آ رہا ہے تو پنجابی محاورے کے مصداق
بُوہے آئی جنج وِنّھوں کُڑی دے کَن
یعنی انہیں بارات دروازے پر آتے ہی دلہن کے کان چھیدنے کا خیال آ گےا ہے کیونکہ انہیں علم ہے کہ مسلم لیگ ن انہیں بجٹ کے موقع پر مشکل میں ڈال سکتی ہے ۔ سو انہوں نے مسلم لیگ ق سے معاہدہ کر کے انہیں ساتھ ملا لیا ہے ۔ اس سارے قصے میں مسلم لیگ ن کو خاصا دھچکا لگا ہے اور اس میں مسلم لیگ کی قیادت کا بھی قصورہے کہ نوازشرےف نے سلیقے سے پتے نہیں کھیلے مسلم لیگ نے نہ تو ڈھنگ سے اپوزیشن کی ہے اور نہ ہی حکومت ۔۔کسی بھی اہم معاملے پر عوام کی امنگوں کا خیال نہیں رکھا گےا ۔۔ ریمنڈ ڈیوس کیس پر تاخیر سے بیانات جاری کر کے اپنے آپ کو واقعے سے الگ رکھنے کی باتےں کی گئیں ۔ آج میڈیا بھی مسلم لیگ ن کی تنہائی کا راگ الاپنے لگا ہے ۔ اگر بروقت تمام مسلم لیگےں متحد ہو جاتےں اور نواز شرےف بڑا دل کر کے چودھریوں کی پرانی کوتاہیوں کو معاف کر دےتے تو آج وہ آصف زرداری کی جگہ صدر ہوتے اور ملک میں ان کی مضبوط حکومت ہوتی ۔۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، یہی حال رہا تو مسلم لیگ ن کے ہاتھوں سے پنجاب بھی جا سکتا ہے ۔ آئندہ چند رو ز میں سیاسی موسم مزید واضح ہو جائے گا فی الوقت تو یہی کہا جا سکتاہے بقول شاعر:
مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھِری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں