اسامہ نے کہا ”ہم اپنا ٹھکانہ تبدیل کر رہے ہیں“

03 مئی 2011
رﺅف طاہر
بالآخر اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کی مصدقہ خبر آ گئی اور اس کا ”سورس“ کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکی صدر باراک اوباما ہیں۔ ذیل میں عہدِ حاضر کے اس سب سے بڑے افسانوی کردار کی اہلیہ کے ایک انٹرویو کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ یہ انٹرویو سعودی عرب کے معرف ہفت روزہ ”المجلہ“ میں مارچ 2002ءمیں شائع ہوا تھا (راقم کے زیر ادارت جدہ سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اردو میگزین میں اس کا ترجمہ شائع ہوا) ۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عسکری کارروائی سے پہلے وہاں سے نکلنے والی اسامہ بن لادن کی اہلیہ کا انٹرویو تو کجا اس کی نئی جائے قیام معلوم کرنا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، پھر انہیں انٹرویو کے لئے قائل کرنا ایک اور مسئلہ تھا۔ انتہائی جدوجہد کے بعد اس جگہ کا سراغ تو مل گیا لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنی تصویر بھی چھپوانا نہیں چاہتی تھیں اور اپنی نئی قیام گاہ کو بھی راز میں رکھنا چاہتی تھیں۔ سکیورٹی کے حوالے سے وہ ان دونوں شرائط میں حق بجانب تھیں تاہم اس انٹرویو کے ”صوتی ثبوت“ کے لئے وہ اسے ریکارڈ کرانے پر رضامند ہو گئیں۔ انٹرویو کے دوران وہ انتہائی مطمئن اور پُراعتماد نظر آ رہی تھیں۔ ان کے جوابات میں سادگی تھی جیسے الفاظ تلاش کرنے اور سیاسی جواب دینے کے فن سے ناآشنا ہوں۔
سب سے پہلے یہ بتائیے کہ اسامہ کے ساتھ آپ کی زندگی کیسی بسر ہوئی؟
یہ انتہائی سادہ زندگی تھی۔ کبھی کبھار اسامہ رات گئے گھر لوٹتے اور گھنٹوں خود کلامی میں مصروف رہتے۔ بستر پر وہ ساری رات جاگتے رہتے۔ میں انہیں اس کیفیت سے باہر لانے کے لئے کوئی بات کرتی تو وہ ناراض ہو جاتے۔ ان کی نیند دو تین گھنٹے سے زیادہ نہ تھی۔ کم نیند کی وجہ سے تھکن کے آثار ان کے چہرے پر واضح طور پر نظر آتے تھے .... .... کیا ان کی باقی بیویاں بھی آپ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی تھیں؟
نہیں، ہر بیوی کا الگ گھر تھا۔ ہم چار بیویوں میں سے دو قندھار میں الگ الگ گھر میں رہتی تھیں۔ ایک کابل میں جبکہ چوتھی بیوی تورا بورا میں مقیم تھی۔ میرے ہاں وہ ہفتے میں ایک دن آتے۔ ہم چاروں ایک دو مہینے میں ایک بار ضرور اکٹھا ہوتی تھیں۔ یہ مشترکہ ملاقات عموماً اُمِ عوض کے گھر میں ہوتی۔ وہ مجھے اکیلے گھر سے باہر نکلنے سے سختی سے منع کرتے اور کہتے کہ اگر کوئی چیز چاہیے تو کسی بچے کو بھیج دیا کرو۔ میں زیادہ وقت گھر میں گزارتی تھی۔ آخری ایام میں تو وہ دو تین ہفتوں کے بعد آیا کرتے تھے۔ میرے پوچھنے پر بتاتے کہ وہ بہت زیادہ مصروف ہیں اور کچھ معاملات ہیں جن پر وہ طالبان رہنما¶ں کے ساتھ مسلسل میٹنگ کر رہے ہیں۔ وہ شہر سے باہر جانے کی خبر بھی کسی کو نہ بتاتے اور خاموشی سے سفر کرتے۔ وہ ہر سفر میں ہم میں سے کسی ایک کو ضرور اپنے ہمراہ لے جاتے تھے ۔ افغانستان میں آپ کا گھر کیسا تھا؟ اسامہ کھانے میں کیا پسند کرتے تھے؟ ۔۔۔ ہمارا گھر دوسرے گھروں جیسا ہی تھا، ایک سادہ سا دیہاتی گھر۔ کھانا بھی انتہائی سادہ۔ وہ اکثر روٹی کے ساتھ شہد یا کھجور کھاتے۔ گوشت بہت کم کھاتے تھے۔ آپ کے گھر پر اسامہ نے پہرے دار بٹھا رکھے تھے؟ ۔۔۔ جی ہاں! یہ کچھ مسلح نوجوان تھے۔ ۔ ۔ ۔ یہ عرب تھے یا افغان؟ ۔۔۔ زیادہ تر عرب تھے۔ اُسامہ کے قریب ترین ساتھی کون تھے؟ ۔۔۔ وہ اکثر سلیمان ابو غیث، ملا عمر اور ابو حفص کا ذکر کرتے اور کہتے کہ ان میں حوصلہ اور صبر ہے۔ وہ سفر میں ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ ۔ ۔ اسامہ کے ذاتی محافظوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی؟ ۔۔۔ جی ہاں! ان کے ساتھ قبائلی لوگوں کے علاوہ عرب نوجوانوں کا مسلح دستہ ہوتا تھا، ان کے ساتھ گاڑیاں بھی ہوتی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ کیا اسامہ نے کبھی آپ کو بتایا کہ وہ امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
نہیں! اس حوالے سے انہوں نے کبھی کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ اکثر امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ اور مسلمانوں پر ان کے مظالم کا ذکر کرتے۔ وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ان کے ذہن میں ایک بڑا پروگرام ہے جس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے وہ آخر دم تک ان کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
اسامہ کو آپ نے آخری بار کب دیکھا؟۔۔۔ 11 ستمبر سے پہلے وہ آئے اور کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو فون کر کے اطلاع دے دوں کہ ہم اپنا ٹھکانہ تبدیل کر رہے ہیں جس کے بعد ایک عرصے کے لئے ان کے ساتھ ہمارے رابطے منقطع ہو جائیں گے۔۔۔ تو کیا انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ نیا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟۔۔۔ میں نے اپنی والدہ کو فون پر اطلاع دیدی لیکن نئے ٹھکانے کے بارے میں انہوں نے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا۔ ایک گاڑی میں مجھے اور بچوں کو سوار کیا اور پاک افغان جنوبی سرحد پر واقع ایک گھر میں ہمیں اتار دیا گیا۔ یہیں کچھ روز بعد امریکہ میں ہونے والے حملوں (نائن الیون) کی خبر سُنی اور یہ بھی سُنا کہ امریکہ اب طالبان اور اسامہ کے خلاف جنگ کرے گا۔ جنگ شروع ہونے پر ہمیں ایک غار میں منتقل کر دیا گیا جہاں ہم نے دو مہینے گزارے۔ پھر اُسامہ کا بڑا بیٹا کچھ قبائلی لوگوں کے ساتھ آیا اور بتایا کہ والد صاحب نے تم لوگوں کو لینے کے لئے بھیجا ہے۔ وہاں سے ہمیں پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہم پاکستان جا رہے ہیں۔ میں سمجھتی رہی کہ ہمیں قندھار لے جایا جا رہا ہے۔۔۔ کیا یہ سچ ہے کہ انہیں گردے کا عارضہ تھا؟ ۔۔۔ جی ہاں! وہ اکثر اس کی شکایت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ اس کے علاج کے لئے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔۔۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد اُسامہ نے آپ سے رابطہ کیا؟ ۔۔۔ نہیں! کوئی رابطہ نہیں ہوا۔۔۔ اسامہ کا پسندیدہ مشغلہ ؟ ۔۔۔ شکار۔۔۔ اب جبکہ اسامہ دنیا کی نظروں میں دہشت گرد ہے، تو کیا آپ کو پشیمانی ہوتی ہے کہ آپ ان کی بیوی ہیں؟ ۔۔۔ پشیمانی کس بات کی؟ یہ تقدیر کا لکھا ہوا ہے۔ دنیا جو چاہے کہتی رہے، لیکن مجھے معلوم ہے وہ دہشت گرد نہیں۔۔۔ کیا آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے متعلق فکر مند ہیں؟ ۔۔۔ میں اپنے طور پر ان کی اچھی تربیت کروں گی۔ مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو لکھ دیا اس سے کہاں بھاگا جا سکتا ہے، اسے تو بہرحال قبول کرنا ہو گا۔