آشیانہ بنانا مرا کام تھا

03 مئی 2011
جو منشور پیپلز پارٹی کا تھا وہ مسلم لیگ نون پورا کر رہی ہے۔ آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میاں شہباز شریف کی ایسی پرواز ہے جو انہیں قومی خدمت کی نئی بلندیوں پر پہنچا دے گی۔ اس ملک میں روٹی کپڑا مکان یہ تین لفظ ہوا میں اچھالے گئے تھے وہ ہوا ہی میں رہ گئے مگر وزیر اعلیٰ پنجاب کے تھکے ہوئے ماتھے پر جب ہم نے آشیانہ سکیم کی کامیابی کا نقشہ دیکھا تو یقین ہو گیا یہ مرد آہن ہے اور بے لوث ہو کر اپنی ناک کی سیدھ میں اپنا کام کئے جا رہا ہے۔ غریب متوسط لوگ جو ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں گزار دیتے ہیں بعض تو ایسے بھی ہیں کہ جن کے پاس اپنی نہ کرائے کی چھت ہے۔ دو مرلے اور تین مرلے کے یہ مکمل گھر ایک خاندان کو اسی طرح اپنے اندر سمو سکتے ہیں جیسے ماں بچے کو گود میں۔ یہ تو ابھی آغاز کار ہے اور پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ میاں صاحب کا ارادہ ہے کہ اسے شہر بلکہ دوسرے شہروں تک بھی پھیلایا جائے۔ اس سکیم کا افتتاح میاں نواز شریف نے کیا اور سمجھ لیں کہ اس کی اینٹیں خادم پنجاب نے ڈھوئیں کیونکہ وہ اس سارے پراجیکٹ میں اس طرح موجود رہے جیسے یہ غریبوں کے گھروندے نہیں ان کا محل تعمیر ہو رہا ہے۔ جب قرعہ اندازی کی تقریب برپا تھی تو ان کے چہرے پر کوئی تفاخر کی لکیر نہ تھی مگر یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی نے اپنے فرض کا کچھ حصہ مکمل کر لیا ہے۔ شہباز کی پرواز پنجاب کی فضاﺅں میں کرگسوں چیلوں کووں کے لئے قاتل ہے اور وہ اپنے صوبے کی دیکھ بھال جس انتھک انداز میں کر رہے ہیں قابلِ صد ستائش ہے۔ یہ انسان کی اپنی جبلت ہوتی ہے اب تو وہ مسلم لیگ ن کے لیڈر ہیں اگر وہ کسی اور پارٹی میں بھی خدانخواستہ ہوتے تو شہباز نے شہباز ہی رہنا تھا۔ اگرچہ حالات دگرگوں ہیں پاکستان دشمنوں کے نرغے میں ہے۔ لوٹ مار اتنی ہو چکی ہے کہ خزانے کی جگہ خزانے کا جوف ہے اس کے اندر جو کچھ ہے وہ ان کے خزانوں میں ہے جن کی جانب سے ہماری طرف بادِ سموم چل رہی ہے تاہم حالات کی تنزلی اور وسائل کی کمی کے باوجود میاں شہباز شریف کا غریبوں کے لئے مکانات فراہم کرنے کا یہ سلسلہ ایک صدقہ جاریہ ہے جو ان کی عاقبت سنوار دے گا۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے یہ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے جسے چھوٹے میاں صاحب نے اپنی مساعی سے ممکن بنا دیا اور بڑے میاں صاحب کی آشیرباد اس میں ہر طرح سے شامل رہی ہے۔ روٹی کا بھی بندوبست کیا گیا تھا مگر اس کو اس قدر ہدف تنقید بنایا گیا کہ وہ سلسلہ بند ہو گیا۔ رہ گیا کپڑا تو یہ ابھی تشنہ تکمیل ہے۔ خادم پنجاب نے تجاوزات ہٹا کر لاہور کے دل کے والو کھول دئیے ہیں اللہ انہیں اجر عطا کرے۔ آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں اب تک جتنے گھر بنے ہیں ان کی تقسیم شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے کی گئی اور موقع پر ہی ملکیت تفویض کر دی گئی۔ زمین تھوڑی ہے۔ آبادی بے تحاشا ہے۔ یوں سرکاری زمین کو ضائع کرنا درست نہ ہو گا کہ ہر مکین کو الگ الگ مکان فراہم کیا جائے۔ ہماری رائے میں میاں شہباز شریف کو اب اگلے مرحلوں میں بڑے بڑے پلازہ تعمیر کرنے چاہئیں۔ اس طرح زمین کم لگے گی اور مکان زیادہ بنیں گے۔ لیکن یہ پلازے جدید انداز کے ہوں۔ آج کے خطروں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تاکہ زلزلے یا کسی دوسری قدرتی آفت سے یہ زمین پر نہ آ رہیں۔ میاں صاحب اپنی حکومت کے پانچ سالوں کو دن بدن کے حساب سے کام میں لا رہے ہیں۔ کاش مسلم لیگوںکا اتحاد ہو جاتا اور مسلم لیگ ن ایک بڑی ملک گیر سیاسی قوت بن کر ملک و قوم کی خدمت کرتی، مگر ....ہم میاں شہباز شریف کو ان کی آشیانہ سکیم کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر پہلی پہلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ خدا کرے کہ وہ اس سکیم کو اپنے دل اور جانفشانی کی طرح مزید وسیع کریں اور پنجاب کے بے چھت غریب عوام کو اپنا آشیانہ نصیب ہو۔ جس میں وہ انڈے دیں یا بچے دیں۔