اسامہ بن لادن کی روح

03 مئی 2011
امریکہ گذشتہ دس برس میں افغانستان کو تو فتح نہیں کر سکا نہ وہاں کے عوام کو زیر دام لا سکا ہے لیکن اس نے تمام عرصے کی طاقت آزمائی کے بعد اسامہ بن لادن کو قتل کر لیا ہے--- فرد واحد بالآخر کرہ ارض کی سب سے بڑی فوجی، معاشی اور سیاسی رسوخ رکھنے والی قوت کے آگے جان کی بازی ہار گیا ہے۔ امریکہ کو یہ ہدف حاصل کرنے کےلئے اپنی تمام تر فوجی بالادستی اور بے پناہ وسائل کے ساتھ ایک دہائی سے زائد مدت صرف کرنا پڑی ہے--- اسامہ کو خبروں کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت کے قرب میں واقع شہر ایبٹ آباد میں ایک محل نما مکان کے اندر نرغے میں لیا گیا--- امریکہ کی سپیشل فورسز نے کارروائی کی۔ اس مقصد کی خاطر واحد سپر طاقت کے ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کے ایک ہوائی مستقر سے ہی پروازیں بھریں--- اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں ایک یہ کہ پاکستان میں تمام تر حکومتی دعوﺅں کے برعکس امریکی فوجی دستے موجود ہیں۔ ہم صرف ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی جاسوسوں کا رونا روتے تھے۔ اب ثابت ہو گیا ہے ہماری سرزمین وطن اس سے کہیں بڑھ کر غیر ملکی فوج کی کارروائیوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے جبکہ ملک کے عوام کو اس سے مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا گیا ہے--- دوسری یہ کہ اسامہ بن لادن کے خلاف یہ نتیجہ خیز آپریشن پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا--- صدر اوباما نے اس کی تصدیق کی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں سے ڈرون حملوں کے خلاف فضا تیار کی گئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا پاکستان کی حکومت اور فوجی قیادت کو اپنی سرزمین پر امریکی طیاروں کی بم باری کسی طور پسند نہیں لیکن ملک کے عوام کو معلوم نہ تھا بظاہر امریکہ مخالف اس فضا کی آڑ میں امریکہ کی نیوی کے فوجی دستوں کو حرکت میں لا کر ملک کے اندر اتنی بڑی خفیہ کارروائی کا پروگرام تیا رکیا جا رہا تھا۔ یوں امریکہ کی خوشی کا وہ سامان ہو رہا تھا جس کا عمومی طور پر تصور نہ کیا جانا تھا۔ع۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
ہماری اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے امریکہ دوست رہی ہے۔ زرداری حکومت نے تو اقتدار سنبھالتے ہی واشنگٹن کے آقائے ولی نعمت سے کہہ دیا تھا کہ آپ سرزمین پاکستان پر ڈرون حملے جاری رکھیں ہمیں کوئی اعتراض تھا نہ ہو گا البتہ عوامی عوامی تنقید برداشت کر لیجئے گا کہ ہماری سیاسی مجبوری ہے--- اسامہ بن لادن کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے جو تقریر کی ہے اس میں پاکستان کے ارباب حل و عقید کے تعاون کی تحسین پوری طرح جھلک رہی تھی ۔اس موقع پر ہمارے اصل حکمران سے جن کے ہاتھوں میں ملک کے دفاع اور خارجہ امور دونوں کی طنابیں ہیں یہ سوال کرنے کو ضرور جی چاہتا ہے اگر اسامہ بن لادن کا امریکہ کے ہاتھوں انجام اس طرح ممکن بنانا تھا تو اس میں دس سال کی تاخیر کیوں کی گئی اس مدت کے دوران ملک کا جو حشر ہوا--- ڈرون حملوں اور دوسری کارروائیوں نے ہماری حاکمیت اعلیٰ اور اندرونی و بیرونی سلامتی پر اتنے منفی اثرات مرتب کئے گئے کہ اس کام کی اجازت کیوں دی گئی--- دس سال میں جو ہمارے سینکڑوں فوجی کام آئے ہیں۔ اس سے زیادہ تعداد میں سیولین ہلاک ہوئے ہیں ملک کو 36 بلین ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا ہے اس سے کیا حاصل ہوا ہے۔ ماسوائے اس کے کے صدر اوبامہ کی 2012 کا انتخاب جیتنا تقریباً یقینی ہو گیا ہے۔ صدر زرداری کا امسال ہونے والا دورہ امریکہ بڑے استقبال کے ساتھ ہو گا۔ اللہ پاکستان کے بارے میں امریکی بدگمانی پہلے سے بڑھ جائے گی۔ ہم نہ کہتے تھے کہ اسامہ پاکستان میں ہے ہمیں مطلوبہ باقی دہشت گرد بھی وہیں چھپے ہوئے ہیں۔ جنگ ان میں سے ایک ایک کو کھرچ کر زندہ یا مردہ نکال نہیں دیا جاتا۔ ہماری خفیہ و ظاہر فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ڈرون حملوں میں فرق نہیں پڑے گا۔ چاہے مزید دس سال لگ جائیں۔
اسامہ اگر واقعی اس دنیا میں نہیں رہے اور تاریخ کے اوراق کی نذر ہو گئے ہیں۔ لیکن ان کی شخصیت اور کردار نے دور حاضر پر جو اثرات چھوڑے ہیں انہیں آسانی سے مٹایا نہیں جا سکے گا--- ان کے ذات روز سال متنازع تھی۔ دنیا کی حاکم قوتیں انہیں لمحہ موجود کا سب سے بڑا دہشت گرد سمجھتی ہیں --- لیکن مسلمانان عالم کے ایک بڑے طبقے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ اس گوریلا لیڈر نے محکوم مسلمان قوموں کی آزادی کی جنگ برپا کی اور بہت بہادری سے لڑی۔ اس شخص نے مٹھی بھر ساتھیوں کی مدد سے جن کے پاس کوئی منظم فوج نہ تھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں ایک کا کئی ہزارواں حصہ بھی وسائل نہ تھے لیکن اس دنیا کی پوری کی پوری اسٹیبلشمنٹ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں--- تاریخ کا دھارا بدل ڈالا--- صدر اوباما نے کہا ہے امریکہ اسلام کا مخالف نہیں لیکن اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ امریکہ نے مسلمانوں کے ممالک کو عمومی طور پر اور فلسطینیوں کو خاص طور اسرائیل کی مدد سے محکوم بنا رکھا ہے۔ اس کا یہی رویہ بھارت کے حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ بھی ہے۔