معیاری جمہوریت کی جانچ کیسے ہو؟

03 مئی 2011
نجانے کیوں ہم نے جمہوریت کو مقدس گائے بنا رکھا ہے کہ اس نظام کی خامیوں پر گفتگو ممکن ہے اور نہ ہی اس نظام کی آڑ میں لوٹ مار پر صدائے احتجاج بلند کی جاسکتی ہے۔ حضور والا! یہ بات بھی درست کہ جمہوریت دستیاب نظاموں میں سے موزوں ترین نظام ہے۔ یہ دعویٰ بھی بجا کہ اس نظام کی مضبوطی ہی عوام الناس کی فلاح کا باعث ہوگی۔ یہ مطالبہ بھی درست کہ الیکشن کمیشن، خودمختار اور ادارے مضبوط ہونے چاہئیں مگر کیا یہ کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ان اقدامات کا کیا فائدہ ہوگا۔ میرے نزدیک سراسر کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اقدامات ایک کمزور بنیادوں کی عمارت پر لینٹر ڈالنے کے مترادف ہونگے کہ عمارت چھت کی مضبوطی کے باوجود کمزور ہی رہے گی۔جہاں آدھے سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز جعلی ہوں، الیکشن لڑنے کا اختیار صرف چند سو ارب پتی افراد کو ہو، مڈل کلاس کو اقتدار سے دور کردیا گیا ہو، جماعتوں میں انتخابات ہی نہ ہوتے ہوں، پارٹی سربراہان اپنے آمرانہ روئیے اور اپنے رشتہ داروں کو اپنی طاقت کی وجہ سمجھیں۔ ٹکٹ ہولڈرز کروڑوں لگا کر اربوں کمانے کی آس پر آئیں۔ جماعتیں ٹکٹ برادری، مسلک اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کریں۔ ایجنسیاں مرضی کے نتائج کیلئے قبل از انتخابات اور بعد از انتخابات دھاندلیاں کریں۔ ایک دوسرے کو قاتل اور سکیورٹی رسک کہنے والے سیاستدان صرف ذاتی مفاد اور اقتدار کی خاطر بغلگیر ہوجائیں تو مجھے کہنے دیجئے کہ وہاں انتخابی اصلاحات کی سرکس اور جمہوریت کے تماشے کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ ہفتے پلڈاٹ کے زیراہتمام سیمینار بعنوان ”معیاری جمہوریت کی جانچ کیسے ہو“ میں بھی خاکسار نے گزارش کی تھی کہ عام آدمی کو اس بات سے غرض نہیں کہ نظام جمہوری ہو یا آمرانہ، اسکی بلا سے بے شک ٹیکنو کریٹس کی سرکار بنا دی جائے۔ اس کو تو وہ آمریت بھی منظور ہے جو اسکے بنیادی حقوق فراہم کرے لہٰذا اب یہ جمہوریت کی ڈگڈگی بجانے کی بجائے اس نظامِ حکمرانی پر لوگوں کے اعتماد کی بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں ورنہ کیا کوئی وجہ ہے کہ عوام الناس چند سو لوگوں کے باری باری لوٹ مار کے اختیار کو جمہوریت مان لے۔ سب سے پہلے خلوصِ نیت کے حامل، جمہوریت پسند سیاستدانوں کا یکجا ہونا ضروری ہے کیونکہ موجودہ جماعتوں کی قیادت ایسی صفات سے قطعی محروم ہے اور جو افراد ان جماعتوں میں جمہوری رویوں کے خواہاں ہیں۔ وہ جرا¿ت سے محروم ہیں اور جن میں جرا¿ت ہے وہ جاوید ہاشمی اور اعتزاز احسن کی طرح راندہ¿ درگاہ ہیں۔ دوسرے قدم پر سیاسی جماعتوں میں الیکٹرول کالج کا تعین کرکے اندرونی انتخابات کروائے جائیں کیونکہ جہاں بین الجماعت جمہوری طرزعمل نہ ہو وہاں قومی سطح پر ایسا طرزعمل کیونکر ہوگا۔ تیسرے قدم پر سیاسی جماعتیں ٹکٹ ہولڈرز کا معیار طے کریں اور اسکی تشہیر کریں تاکہ عوام الناس طے کرسکیں کہ معیار کس حد تک پورا رکھا گیا۔ ٹکٹ ہولڈرز پارٹی قائدین کو چڑھاوے چڑھانے کی بجائے پارٹی فنڈ میں حصہ ڈالیں اور پارٹی اپنے امیدواران کو ذاتی انوسٹمنٹ کی ترویج کی بجائے خود سرمایہ فراہم کرے۔ وطن عزیز میں صرف جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم ہی کارکنان سے الیکشن فنڈ لیکر اخراجات کرتی ہیں جبکہ دوسری جماعتوں میں کسی مڈل کلاس کا الیکشن لڑنا ممکن نہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر اتفاق کریں کہ بیرون ملک اثاثے اور دوہری شہریت کے افراد کو ٹکٹ نہ دئیے جائیں اور امیدواران کے اثاثوں کے گوشواروں کی تصدیق ایف بی آر کرے۔ گوشواروں میں درج ناکردہ گمنام دولت اور اثاثے بحقِ سرکار ضبط کرکے امیدوار کو تاحیات نااہل کیا جائے۔ اگر ہماری سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات سے قبل یہ بنیادی عوامل کا احاطہ نہیں کرسکتیں تو پھر انکا آزاد الیکشن کمیشن اور اداروں کی مضبوطی کے نعرے سوائے ڈھکوسلے کے کچھ نہیں۔ جو پارلیمان اپنی تطہیر کرنے سے قاصر ہے وہ ملک چلانے کا اہل کیونکر ہوسکتا ہے۔ستاروں کی روشنی میں ماہ رواں میں ملک کے سیاسی افق پر غیرمعمولی تبدیلیاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔