منگل ‘29 جمادی الاوّل 1432ھ‘ 3 مئی 2011

03 مئی 2011
پیر پگاڑا نے کہا ہے: حکومت میں شامل ہونے کے باوجود پرویز الٰہی کا بیٹا نہیں چھوٹے گا۔ ق لیگ موقع پرست جماعت ہے یہاں وزیراعظم کی کوئی حیثیت نہیں تو ڈپٹی وزیراعظم کی کیا اہمیت ہوگی۔ پیر صاحب کے کان میں لگتا ہے ہاتف غیبی نے یہ بات پھونکی ہے، اس لئے اس کو رد کرنا مردود ہونے کے مترادف ہے، کیا خوبصورت تفسیر ایک نکتہ گھمبیر کی بیان فرمائی ہے پیر طریقت نے کہ اگر سے تعویز بنا کر چاندی میں مڑھ کر قاف لیگ گلے میں ڈال لے تو مراد پھر بھی نہیں آئے گی، خدا جانے جس مقصد کیلئے قاف لیگ نے قاتل لیگ ہونے کے باوجود اپنی ”ممدوح“ پارٹی سے اتحاد کا معاہدہ کرلیا ہے،وہ بقول پیر صاحب پھل نہیں دے گا،شاید اقتدار ایسی چیز ہے کہ چند وزارتیں اور پرویز الٰہی کے ہاتھ سینئر وزیر کی کرسی لگنے کاعمل مونس کی رہائی پر فوقیت رکھتا ہو،گویا پیر صاحب کے ویژن کے مطابق بیٹا گروی رکھ کر اقتدار کا ٹکڑا جھولی میں ڈال لیا لیکن پیر صاحب شاید حسبِ سابق پیشگوئی فرمارہے ہیں اور اُس کا نتیجہ مونس الٰہی کی رہائی کی صورت میں نکلے گا کیونکہ ہمارے ایک محترم نجومی کی طرح اُن کی پیش گوئی کو بھی الٹا دیاجائے تو وہ سچ ثابت ہوجاتی ہے، یہاں تک یاوہاں تک شاید الٹانا پڑے گا تب جا کر الو سیدھا ہوگا،اب یہ بھی پتہ نہیں کہ الو ایک ہے اور پارٹیاں دو گویا آدھا ایک کا اور آدھا الو دوسری کا سیدھاہو نہ ہو دوٹکڑے ضرور ہوجائے گا۔
٭....٭....٭....٭....٭
بھارتی سیکرٹری تجارت راہول کھولڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان بھارت کو موسٹ فیورٹ قراردینے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ایک نہایت حسین و جمیل جوانِ رعنا کے بارے یہ کہاجائے کہ وہ فلاں کالی کلوٹی چپٹی ناک اور بھدے خدوخال والی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا ہے تو کون مانے گا اور وہ جوان بھی کیونکر ایسی شب دیجور کو گلے لگائے گا، بھارت نے ماضی میں اور حال میں جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا اور کر رہا ہے،کیا اُس کے بعد پاکستان” چھتا“ ہوگیا ہے کہ وہ اپنے کمینے ہمسائے اور جانی دشمن کو اپنا موسٹ فیورٹ قرار دیدے، اگرچہ ہمارے حکمرانوں سے بعید نہیں مگر ہمارے محب وطن18کروڑ عوام تو تف تف کرینگے، ہاں بھارت بندے کا پتر بن جائے، مقبوضہ کشمیر کو آزاد کردے، ہمارا پانی واگزارکردے تو پھر بھی ہم اُس کو حکم پڑھا کر نکاح میں لے آئیں گے، تجارت بھی کرینگے، تعلقات بھی استوار کرلینگے، آنا جانا بھی رکھیں گے اور دونوں دشمن ہمسائے بن کر دوستی کو آگے بڑھائیں گے، ایک دوسرے کی ترقی میں تعاون کرینگے، سردست تو بھارت اُس جادوگرانی کا کردار ادا کرناچاہتا جو بچوں کو گولیاں ٹافیاں کھلا کر گھر بلاتی اچھے کھانے کھلاتی اور جب وہ خوف تروتازہ ہو جاتے تو اُنہیں ابلتے تیل کی کڑھائی میں باری باری ڈال کر مزلے لے لے کر کھاتی۔ پاکستان اس طلسم ہوشربا میں آنے والا نہیں، کیونکہ وہ اسلام کا قلعہ ہے اور قلعہ دار بڑے ” ڈاہڈے“ ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
مدت ملازمت ختم ہوجانے کے باوجود نیب کے ڈپٹی چیئر مین جاوید ضیاءقاضی نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ جاوید ضیاءقاضی کو کرسی سے اتنی محبت ہے تو اُنہیں تمغہ حسنِ کرسی نشینی دیناچاہئے، ویسے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ اب کرسی خالی کردیں تاکہ کوئی اور فقیر مسکین اُس پر بیٹھ کر اپنی قسمت سنوارے اور ضیاءقاضی صاحب فکر نہ کریں کہ وہ تاحیات قاضی رہیں گے، اس منصب سے اُنہیں کوئی ہٹا سکتا ہے نہ اس کی مدت ختم ہوسکتی ہے، حالانکہ قاضی تو وہ اپنے نام کے ساتھ لکھے جو منصبِ قضاءپر فائز ہو، ہمارے ہاں قاضی کو بھی ذات اور خطاب بنالیا گیا ہے حالانکہ یہ ایک عہدہ ہے، انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے مگر اُس کو خدا جانے کیوں اسفل السافلین میں جانے کا شوق لا حق ہوجاتا ہے، انسان تو وہ ہے جو ایمانداری سے عہدے کا حق ادا کرے اور جب مدت ملازمت ختم ہوجائے تو باعزت سبکدوش ہوجائے، فارسی میں کہتے ہیں: قیاس کن زگلستانِ من بہار مرا، اب اس ایک سبکدوشی سے انکاری اہلکار کو دیکھ لیں تو آپ کو پوری رودادِ چمن کا اندازہ ہوجائے گا کیونکہ ہمارے ہاں اب اکثر کرسی نشین خانہ بر انداز چمن ہوتے ہیں اور وہ اپنوں کو پھول مارتے ہیں دوسروںکو خالی گملے، بہرصورت معاملہ کچھ بھی ہماری جانب سے قاضی نادستبردار کیلئے ہیں یہی ایک شعر ہی بچا ہے....
بے صرفہ ہی گذرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضر
حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کئے
٭....٭....٭....٭....٭
امریکی صدر نے لطیفے سنا کر تقریبِ کشتِ زعفران بنادی، مہمانوںنے اوباما کے حسِ لطیف کی خوب داددی۔ مرد کثیف میں حسِ لطیف تو نہیں حسِ لطیفہ ہوسکتی ہے، سو وہ انہوں نے پیش کردی، اگر وہ اتنے ہی لطیفہ گو ہیں کہ محفل پر زعفران برسنے لگتا ہے تو وہ زعفران کا بھاﺅ ہی بتا دیں ظاہر ہے اُنہیں معلوم نہ ہوگا اور وہ صنفِ کثیف میں چلے جائیں گے، ہمارے ہاں پے درپے مزاج پیش کرنے والے فنکار دنیا سے چلے گئے ہیں،اگر اوباما پسند کریں تو اُن میں کسی کی جگہ بھی آکر الحمراءمیں اپنے جوہر دکھاسکتے ہیں، ویسے اسامہ کی وفات حسرت آیات پر اُن کی حسِ لطیف خوب پھڑکی ہوگی کیونکہ بش کے دل میں مراد پیدا ہوئی اور اوباما پر آکر پوری ہوگئی، امت مسلمہ میں جو اصل زر ہے وہ امریکہ بتوسط یہودو ہنود لوٹتا جارہا ہے، ویسے بھی امریکہ کو سونے کا بڑا شوق ہے....
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لا ” مسلم“
اسامہ بن لادن کون تھا، کہاں کا تھا ہمیں اس سے چارہ کار نہیں لیکن وہ ایک علامت تھا بیداری مسلم کا جو وہ ہے اور رہے گا،اگر اُسے شہید کربھی دیا گیا ہے تو کیا ہوا....
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است برجریدہ عالم دوا م ما
( وہ کبھی نہیں مرتا جس کا دل عشق الٰہی سے زندہ ہوجائے، یہی وجہ ہے روئے زمیں پر ہمار اامر ہونا لکھاجاچکا ہے)